'خاموش انقلاب': پاکستان پہلی ایشین ایم ایم اے چیمپئن شپ کا میزبان، نئے دور کا آغاز

ملکی تاریخ میں کھیلوں کا سب سے بڑا ایونٹ، 23 ممالک کے 180 سے زائد کھلاڑیوں کی شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 8 منٹ

پاکستان پہلی بار انٹرنیشنل مکسڈ مارشل آرٹس فیڈریشن (آئی ایم ایم اے ایف)کے تحت منعقدہ ایشین چیمپئن شپ کی میزبانی کر رہا ہے جس میں اس ہفتے 23 ممالک کے 180 سے زائد کھلاڑیوں نے شرکت کی۔ پاکستان ایم ایم اے فیڈریشن نے اسے "ملکی تاریخ میں کھیلوں کا سب سے بڑا ایونٹ" قرار دیا۔

ایم ایم اے ایک مکمل جسمانی رابطے والا لڑاکا کھیل ہے جو مارشل آرٹس کے مختلف شعبوں کی تکنیک کو یکجا کرتا ہے بشمول باکسنگ، ریسلنگ، جیو جِتسو، موئے تھائی اور کراٹے۔ ہنر مند ترین کھلاڑی کا تعین کرنے کے لیے حریف ایک منظم ماحول میں اکثر اکھاڑے کے اندر مارنے اور کشتی لڑنے دونوں تکنیک کا استعمال کرتے ہیں۔

پاکستان اس کھیل میں دیر سے شامل ہوا ہے حالانکہ اس کے شائقین کی کمی نہیں ہے جن میں سے اکثر تجربہ کار کوچز اور خصوصی سہولیات سے آراستہ ایم ایم اے کے لیے وقف جم میں باقاعدگی سے تربیت حاصل کرتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں پورے ملک میں جم اور تربیتی مراکز کھل رہے ہیں کیونکہ پاکستان کے نوجوان دنیا کے سب سے تیزی سے بڑھتے ہوئے کھیل کو اپنا رہے ہیں۔

لاہور میں ہونے والی ایم ایم اے ایشیا چیمپیئن شپ کا آغاز بھی اتوار کو پاکستانی اور ہندوستانی کھلاڑیوں کے درمیان تماشائیوں کی بڑی تعداد کی موجودگی میں ہوا جس میں سرحد پار سے روایتی حریفوں کی شمولیت سے نہ صرف مقابلے کی فضا قائم ہوئی بلکہ دنیا کے دوسرے حصوں میں بھی شائقین نے اس میں بہت دلچسپی لی۔

امریکی نشریاتی اداروں اور متعدد پلیٹ فارمز پر آن لائن نشر ہوے والے اس ایونٹ نے شرقِ اوسط اور وسطی ایشیا جیسے خطوں سے شرکاء کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے اور یہ 18-22 اگست تک ہوا۔

پاکستان ایم ایم اے فیڈریشن کے صدر عمر احمد نے عرب نیوز کو بتایا، "چونکہ [ایشین چیمپئن شپ] 180 ممالک میں نشر ہو رہی ہے، 25 زبانوں میں ترجمے کے ساتھ اور 10 ملین خاندانوں تک پہنچ رہی ہے اس لیے یہ پاکستان کی تاریخ میں کھیلوں کا سب سے بڑا ایونٹ ہے۔"

پاکستانی کھلاڑیوں نے اپنے ہندوستانی ساتھیوں کے خلاف متأثر کن کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور ایک مقامی کھلاڑی ضیاء مشوانی نے اتوار کو افتتاحی میچ کے دوران پہلے راؤنڈ میں بھرت کھنڈرے کو شکست دی۔

پاکستان کی 24 سالہ بانو بٹ نے بھی بدھ کو سیمی فائنل میں 47 کلوگرام ایٹم ویٹ کیٹیگری میں بھارتی کھلاڑی کو شکست دی۔

بانو بٹ ایم ایم اے کے لیے جنگی تربیت فراہم کرنے والے جم میں تربیت سے پہلے ایک شوقیہ باکسر تھیں۔ انہوں نے کہا، "میں نے ایم ایم اے کا آغاز 2019 میں کیا اور میں پاکستان میں ناقابلِ شکست ہوں۔ میرا ریکارڈ [صرف ایک بین الاقوامی شکست کے ساتھ] 12 کے مقابلے میں ایک ہے۔ میں ایم ایم اے فیڈریشن میں اپنے کوچز اور مسٹر عمر احمد کا شکریہ ادا کرتی ہوں جنہوں نے میری حمایت کی۔"

پاکستان میں ٹورنامنٹ کے انعقاد کا محرک احمد ہیں اور انہوں نے جنوبی ایشیائی ملک میں پہلی ایم ایم اے ایشین چیمپئن شپ لانے کے لیے انٹرنیشنل مکسڈ مارشل آرٹس فیڈریشن جیسے اداروں کے ساتھ عالمی شراکت داری قائم کی۔

انہوں نے کھلاڑیوں، کوچز اور معاون عملے کی تعداد بتاتے ہوئے کہا، "یہ پاکستان کی تاریخ کا واحد واقعہ ہے جہاں 16 ٹیموں اور 300 غیر ملکی شہریوں نے شرکت کی ہے،" ان کے خیال میں ملک کے مقبول ترین کھیل کرکٹ میں بھی صرف آٹھ ٹیمیں بڑے ٹورنامنٹس میں شریک ہوتی ہیں۔

احمد نے مزید کہا، "ہم گذشتہ تین سالوں سے [ایم ایم اے] ایشین چیمپئن شپ اور ورلڈ چیمپئن شپ دونوں میں تمغے جیت رہے ہیں [لیکن] یہ کسی حد تک خاموش انقلاب رہا ہے۔" احمد نے مزید کہا۔ "کیونکہ اگرچہ ہماری پاکستانی ایم ایم اے فیڈریشن کو [عالمی سطح پر] تسلیم کیا گیا ہے لیکن یہ اپنی مالی اعانت خود کرتی ہے۔ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ ہم نے اپنے مواد کو منیٹائز کرنے کا طریقہ سیکھ لیا ہے۔"

"خوبصورت ملک"

پاکستان، شرقِ اوسط، بھارت اور دیگر ممالک سے آنے والے کھلاڑیوں اور ٹیموں نے تقریب میں انتظامات اور مہمان نوازی کی تعریف کی۔

ایک ہندوستانی ایم ایم اے فائٹر خوشبو نشاد نے عرب نیوز کو بتایا۔ "یہ پہلا موقع ہے جب میں پاکستان آئی ہوں۔ پاکستان کے بارے میں بہت زیادہ [منفی] باتیں سنتی تھی لیکن میں نے یہاں اپنے وقت کا بہت لطف اٹھایا۔"

انہوں نے مزید کہا، "یہاں پاکستان آ کر مجھے ایسا لگا جیسے میں ہندوستان میں اپنے آبائی علاقے میں ہوں۔ یہ ایک خوبصورت ملک ہے۔ یہ بالکل ہندوستان جیسا ہے۔"

پہلی بار پاکستان کا دورہ کرنے والی لبنانی فائٹر نور الفلیتی نے عرب نیوز کو بتایا، "میں دو بار لبنانی فلائی ویٹ ایم ایم اے چیمپئن رہی ہوں۔ میں نے ابھی اپنی لڑائی ختم کی ہے اور میں نے ٹیم پاکستان کے خلاف فیصلے سے فتح حاصل کی ہے۔"

الفلیتی نے کہا کہ وہ اپنے لبنانی ہم وطن محمد فخرالدین کی طرح طلائی تمغہ حاصل کرنا چاہتی تھیں جنہوں نے مردوں کے 55 کلوگرام فیدر ویٹ کیٹیگری میں کامیابی حاصل کی۔

بحرین سے تعلق رکھنے والے علی مہرون نے 77 کلو گرام ویلٹر ویٹ کے فائنل کے لیے آسان فتح حاصل کی۔

انہوں نے عرب نیوز کو بتایا، "میں نے آج دو میچز میں کامیابی حاصل کی۔ کل [جمعرات] طلائی تمغے کے لیے کھیلنا ہے۔"

مہرون نے پاکستانی مہمان نوازی اور ٹورنامنٹ کے انتظامات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ لاہور میں ان کا "شاندار" وقت گذرا۔

ایران کے ہیڈ کوچ محمد غوربانی نے پاکستان کو "خوبصورت" ملک قرار دیا اور کہا، "لوگ اچھے ہیں۔ یہ بہت اچھا تجربہ ہے اور میں جلد ہی دوبارہ یہاں آنا چاہوں گا۔"

ایم ایم اے فیڈریشن سے تعلق رکھنے والے احمد نے تقریب میں سہولت فراہم کرنے پر وزیرِ اعظم یوتھ پروگرام کے رانا مشہود اور دفترِ خارجہ کا شکریہ ادا کیا۔

احمد نے کہا، "وزارتِ خارجہ نے ہمیں ایک ڈیسک دیا جس کے ذریعے ہم یہ 300 ویزے حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ [انہوں نے] ایک یا دو دن میں ان تمام ویزوں کا بندوبست کر دیا۔ حکومت نے اس ایونٹ میں نقل و حمل، سکیورٹی، ویزوں کے ذریعے ہماری مدد کی ہے لیکن ہم نے ان سے کوئی مالی اعانت حاصل نہیں کی۔"

احمد نے کہا کہ بنیادی طور پر برانڈز اور سپانسرز پر انحصار کرتے ہوئے فیڈریشن دنیا بھر کے ایونٹس میں پاکستانی کھلاڑیوں کی مدد کرنے میں کامیاب رہی۔

"ابوظہبی میں اسماعیل خان نے کانسی کا تمغہ جیتا۔ بانو بٹ نے سربیا میں ایک تمغہ حاصل کیا جو پاکستان کی پہلی خاتون [ایم ایم اے] ایتھلیٹ ہونے کی وجہ سے ایک بڑی کامیابی تھی۔ ہم نے گذشتہ دسمبر میں بحرین میں خواتین کی دو اور مردوں کی دو کیٹیگریز میں چار [3 چاندی اور ایک کانسی] تمغے جیتے تھے۔"

ایم ایم اے فیڈریشن کے صدر نے کہا، "ہم [بین الاقوامی] مقابلوں میں تمغے جیتتے رہیں گے اور چاہتے ہیں کہ لوگ یہ کھیل دیکھیں اور اسے پہلے سے کہیں زیادہ بڑا بنائیں۔ ایشین چیمپئن شپ کی میزبانی پاکستان میں کھیلوں کے نقشے میں ایم ایم اے کو آگے بڑھانے کے لیے بہت مددگار ہو گی۔ یہ ایک بڑی بات ہے اور امید ہے کہ اگر اس طرح کے ایونٹس ہوتے رہے تو آپ پاکستان میں اس کھیل کی معیشت کو بھی ترقی کرتے دیکھیں گے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں