پاکستان کا ایران کے ساتھ سرحد پر سمگلنگ کے خلاف 'وسیع' کریک ڈاؤن شروع

یومیہ 4000 ٹن سمگل شدہ ایندھن کی وجہ سے ماہانہ 10.2 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے: وزارتِ توانائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

پاکستان نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ اس نے ایران کے ساتھ اپنی غیر محفوظ سرحد کے برابر علاقے میں سمگلنگ کے خلاف "وسیع" کریک ڈاؤن شروع کیا کیونکہ اس کی غیر قانونی معیشت ملک کے لیے ایک بڑا اقتصادی اور سکیورٹی چیلنج بنی ہوئی ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ پاکستان میں غیر قانونی معیشت پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں، سیاسی اشرافیہ اور افغانستان، پاکستان اور ایران کے سرحدی علاقوں میں کام کرنے والے جرائم پیشہ اور عسکریت پسند نیٹ ورکس کی سازباز پر منحصر ہے۔

گذشتہ سال مئی میں پیٹرولیم ڈیلرز کی ایک ایسوسی ایشن نے پاکستان کو ایرانی ایندھن کی سمگلنگ میں اضافے کی نشان دہی کرتے ہوئے کہا تھا کہ جنوبی ایشیائی ملک میں فروخت ہونے والے ڈیزل کا 35 فیصد تک ایران سے غیر قانونی طور پر آیا تھا۔ ایسوسی ایشن نے ماضی میں کہا تھا، ایندھن کی سمگلنگ پاکستانی صوبے بلوچستان تک محدود تھی لیکن اب یہ ملک کے باقی حصوں میں پھیل چکی ہے۔

ایک سرکاری میمو کے مطابق اپریل میں پاکستان کی وزارتِ توانائی نے سکیورٹی فورسز سے کہا تھا کہ وہ ایران سے ایندھن کی سمگلنگ کو لگام دیں۔ اس میں کہا گیا تھا کہ سمگل شدہ مصنوعات کی وجہ سے ڈیزل کی فروخت "40 فیصد سے زیادہ" گر گئی تھی۔

پاکستان ایندھن کی زیادہ تر طلب شرقِ اوسط سے پوری کرتا ہے لیکن یہ ایران کے ساتھ اس کی مغربی سرحد کے راستے سمگل بھی کیا جاتا ہے۔

سرکاری ریڈیو پاکستان نے بدھ کو رپورٹ کیا کہ "وفاقی حکومت نے معیشت کو مزید مضبوط بنانے کی کوششوں کے سلسلے میں سمگلنگ کے خلاف وسیع پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کیا ہے۔"

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق رواں ماہ کے پہلے ہفتے کے دوران متعلقہ محکموں کی جانب سے 126.4 میٹرک ٹن چینی، 4 میٹرک ٹن آٹا، 3252 سگریٹ اور تقریباً 10 لاکھ لیٹر ایرانی تیل ضبط کیا گیا۔ متعلقہ محکموں نے سمگلنگ کی روک تھام کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کا عزم کر رکھا ہے۔

ملک کو ادائیگیوں کے توازن کا شدید بحران درپیش ہے اور جولائی میں دستخط کردہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے سات بلین ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کے لیے جو کلیئرنس درکار ہے، وہ حاصل کرنے کی غرض سےکئی اقدامات کیے جا رہے ہیں جن میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ شامل ہے۔

وزارتِ توانائی نے کہا کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے مطابق گذشتہ سال پاکستان میں روزانہ تقریباً 4,000 ٹن ایندھن کی سمگلنگ سے تقریباً 10.2 بلین روپے ماہانہ کا مجموعی ریونیو نقصان ہو رہا تھا۔

پاکستان کی حکومت نے آٹا، گندم، چینی اور کھاد کی افغانستان سمگلنگ پر بھی پابندی عائد کرنے کا حکم دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں