پاکستان کی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ نے زور دیا ہے کہ انٹرنیٹ کی ترقی و استعمال کے میدان میں خواتین کو برابری کی سطح پر مواقع دیے جائیں اور انہیں با اختیار بنایا جائے۔
قطر میں ہونے والی ایک کانفرنس سے اپنے آن لائن خطاب کے دوران انہوں نے کہا خواتین کو سماجی رکاوٹوں پر قابو پانے کے لیے 'مین سٹریم' کی سیاست کا حصہ بنیں اور اس مقصد کے لیے ڈیجیٹل رسائی کو بھی بروئے کار لائیں۔
انہوں نے اپنے خطاب میں کہا ' جدید دور میں خواتین کے لیے ضروری ہے کہ وہ ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ کا بھرپور استعمال کریں۔ اس لیے ضروری ہے کہ خواتین کو ان ڈیجیٹل ڈیوائسز اور انٹرنیٹ تک رسائی دی جائے۔'
شزا فاطمہ نے پاکستان میں موبائل فون کے خواتین کے ہاتھوں زیادہ سے زیادہ استعمال کو آسان بنانے کے لیے اقدامت کے بارے میں بھی بتایا۔ ان کا کہنا تھا ہم بلا امتیاز عورتوں کو بھی یہ سہولت فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس ضمن میں طلبہ و طالبات میں لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کی سرکاری سکیم کا بطور خاص ذکر کیا۔
پاکستان میں ' سمارٹ فون فار آل ' سے متعلق پالیسی پر بھی انہوں نے روشنی ڈالی۔ تاکہ خواتین بھی کاروباری مقاصد کے لیے اسے مفید طور پر استعمال کر سکیں۔
تقریب میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں پاکستان اور قطر کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط پر زور دیا گیا ہے۔