کانگو میں کشیدگی میں اضافہ: روانڈا نے پھنسے ہوئے پاکستانیوں کو داخلے کی اجازت دے دی
بیس لاکھ آبادی والے شہر گوما پر باغیوں کا قبضہ
پاکستان نے جمعرات کو کہا کہ روانڈا نے کانگو میں پھنسے ہوئے پاکستانی شہریوں کو داخلے کی اجازت دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے جہاں باغیوں نے اس ہفتے مشرقی کانگو کے سب سے بڑے شہر گوما پر قبضہ کر لیا۔ ایک عشرے سے زائد عرصے سے جاری تنازع کی یہ بدترین صورتِ حال ہے جہاں گلیوں میں لاشیں پڑی ہیں اور ہسپتالوں میں لوگوں کا ہجوم ہے۔
اسلام آباد میں دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا، "جمہوریہ کانگو میں تنازعات کی حالیہ شدت کے بعد گوما شہر میں 150 کے قریب پاکستانی پھنسے ہوئے تھے۔ کیگال میں پاکستان کے ہائی کمشنر سفیر نعیم اللہ خان کے ہمراہ روانڈا کے حکام نے پھنسے ہوئے پاکستانیوں کو روانڈا میں داخلے کی اجازت دے دی ہے۔ اب تک تقریباً 75 پاکستانی روانڈا منتقل ہو چکے ہیں۔"
روانڈا کے دارالحکومت کیگال میں پاکستانی ہائی کمیشن نے متأثرہ پاکستانیوں کے لیے رہائش اور کھانے کا انتظام کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا، "ہائی کمیشن پاکستانی کمیونٹی سے بھی رابطہ کر رہا ہے تاکہ مشکل میں پھنسے کسی دوسرے شہری کی شناخت ہو اور ان تک پہنچا جا سکے۔ آئندہ دنوں میں مزید پاکستانیوں کے روانڈا میں داخل ہونے کا امکان ہے۔"
ہائی کمیشن کا عملہ ان تمام افراد سے رابطے میں ہے جنہوں نے مدد اور معاونت طلب کی ہے اور وہ سرحدی شہر بوکاو میں پاکستانیوں تک بھی پہنچ رہا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ جس بھی پاکستانی کو مدد کی ضرورت ہے وہ ہائی کمیشن سے اس نمبر پر رابطہ کر سکتے ہیں: مسٹر پرویز بھٹی، ہیڈ آف چانسری، واٹس ایپ +92 333 5328517۔
کانگو، امریکہ اور دیگر مغربی طاقتوں کے مطابق روانڈا کی افواج نے گوما میں ایم 23 کی حمایت کی۔ روانڈا نے اس میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔