غزہ میں 'نسل کشی'، پاکستانی خاتون آرکیٹکٹ نے اسرائیلی ایوارڈ وصول کرنے سے انکار کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

پاکستان کی خاتون آرکیٹیکٹ نے غزہ میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف اسرائیل کے 'وولف ایوارڈ ' کو ٹھوکر مار کر رد کرتے ہوئے لینے سے انکار کر دیا ہے۔

پاکستان کی نامور خاتون آرکیٹیکٹ یاسمین لاری کو اسرائیل نے ان کی انسانیت کے لیے غیر معمولی خدمات کے اعتراف کے طور پر وولف ایوارڈ دینے کی پیش کش کی تھی مگر باحمیت پاکستانی آرکیٹیکٹ نے اس کی وصولی سے انکار کر دیا کہ اسرائیل کا انسانی حقوق کے حوالے سے اپنا کردار داغدار اور قابل مذمت ہے۔

واضح رہے وولف ایوارڈ ایک بین الاقوامی سطح کا ایوارڈ ہے جو اسرائیل کی طرف سے کسی بھی شخص کو اس کی انسانیت کے لیے بہترین خدمات پر دیا جاتا ہے۔ یہ ایوارڈ اسرائیل کی طرف سے 1978 سے جاری کیا گیا ہے اور سائنس کے میدان میں خدمات انجام دینے والی زندہ شخصیات کو پیش کیا جاتا ہے۔ یہ ایوارڈ چھ مختلف شعبوں میں خدمات کی بنیاد پر دیا جاتا ہے۔

ان شعبوں میں فزکس، کیمسٹری، ریاضیات، زراعت و تعمیرات کے شعبے شامل ہیں۔

یاسمین لاری جو کہ ایک نامور آرکیٹیکٹ ہونے کے علاوہ سماجی انصاف کے لیے متحرک کارکن ہیں نے یہ ایوارڈ یہ کہہ کر ٹھکرا دیا ہے کہ انہوں نے جو کچھ غزہ میں دیکھا ہے اس کے بعد یہ ایوارڈ وصول نہیں کریں گی۔

یاسمین لاری نے اپنے اس انکار کا اعلان منگل کے روز کیا ہے۔ انہوں نے کہا میں نے یہ ایوارڈ لینے سے انکار کر دیا ہے کیونکہ غزہ میں جس طرح فلسطینیوں کی نسل کشی کی جارہی ہے میں سمجھتی ہوں کہ اس کے خلاف سخت ردعمل دیا جائے۔ لہذا نسل کشی کے ساتھ یہ ایوارڈ قبول نہیں کیا جا سکتا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں