پاکستان : عازمین حج کے سلسلے میں تیاریاں آخری مراحل میں داخل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

پاکستان کی وزارت مذہبی امور کے وزیر سردار محمد یوسف خان نے کہا ہے کہ حج سال 2025 کے لیے پاکستانی عازمین حج کے لیے تیاریوں کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ تاکہ حکومتی سکیم کے تحت اس سال حج کا فریضہ ادا کرنے والے عازمین کے لیے ممکنہ طور پر بہترین خدمات کا امکان ہو سکے۔

عازمین حج کی تیاریوں ، سفر و رہائش و دیگر امور کے سلسلے میں پاکستان و سعودی عرب کا مشترکہ اجلاس ماہ جون میں متوقع ہے۔

خیال رہے جنوری 2025 میں ہونے والے معاہدے کے مطابق اس سال پاکستان سے 179210 پاکستانی عازمین حج سعودی عرب روانہ ہوں گے اور ادائیگی حج کریں گے۔

حکومت نے اس تعداد کو برابری کی بنیاد پر سرکاری حج سکیم اور نجی حج سکیموں کے تحت تقسیم کر دیا ہے۔

سردار محمد یوسف نے کہا 'حج سے پہلے کے انتظامت پاکستان و سعودی عرب دونوں جگہوں پر پوری توجہ کے ساتھ مکمل کیے جا رہے ہیں۔'

انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا 'حکومتی سکیم کے تحت اس سال 90 ہزار کے قریب پاکستانی حج پر روانہ ہوں گے ۔ جن کے لیے ہم بہترین سہولیات کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ جیسا کہ ہر سال پاکستانی حکومت اور سعودی عرب حاجیوں کے لیے زیادہ سے زیادہ سہولیات کا مل کر اہتمام کرتے ہیں۔'

انہوں نے کہا 'حج آپریشن ان شاء اللہ 29 اپریل سے شروع ہوگا جب پہلی حج پرواز لاہور سے روانہ ہوگی۔ '

وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کے روز حکم دیا ہے کہ ایک تین رکنی کمیٹی قائم کی جائے جو اس امر کی نشاندہی کرے کہ پاکستان سعودی عرب کی طرف سے جاری کردہ حج سال 2025 کے لیے پالیسی کے مطابق کام کیوں نہیں کر سکا۔ جبکہ پرائیویٹ حج سکیموں کے لیے بھاری کوٹہ موجود تھا۔ انہوں نے کمیٹی کو ہدایت کی کہ وہ تین دنوں کے اندر اندر سردار محمد یوسف کو رپورٹ پیش کریں۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر مذہبی امور نے کہا 'یہ دیکھا گیا ہے کہ بعض عمرہ ادا کرنے کے لیے جانے والے پاکستانی سعودی عرب میں گداگری میں ملوث ہوجاتے ہیں۔ حکومت نے اس سلسلے میں سخت اقدامات کیے ہیں۔ تاکہ اس طرح کی غیر سرکاری حرکتیں ممکن نہ رہیں۔ اگر کوئی گداگری میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی ہوگی اور اسے پاکستان واپس بھیج دیا جائے گا۔ '

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں