پاکستان میں کے ایف سی کے آؤٹ لیٹس پر حملوں کے الزام میں 170 سے زائد گرفتار
غزہ جنگ پر کئی مغربی برانڈز کو بائیکاٹ کا سامنا
پاکستان کے حکام نے بتایا کہ امریکی فاسٹ فوڈ چین کے ایف سی کے آؤٹ لیٹس پر 10 سے زیادہ ہجومی حملوں کے بعد پولیس نے حالیہ ہفتوں میں پاکستان میں متعدد افراد کو گرفتار کیا ہے۔ یہ حملے امریکہ مخالف جذبات اور غزہ میں اس کے اتحادی اسرائیل کی جنگ کی مخالفت کی بنا پر ہوئے۔
اسلامی ملک کے بڑے شہروں بشمول جنوبی بندرگاہی شہر کراچی، مشرقی شہر لاہور اور دارالحکومت اسلام آباد میں پولیس نے کم از کم 11 واقعات کی تصدیق کی ہے جن میں کے ایف سی پر لاٹھیوں سے مسلح مظاہرین نے حملہ کیا اور انہیں نقصان پہنچایا۔ حکام نے اس ہفتے بتایا کہ کم از کم 178 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
کے ایف سی اور اس کے سرپرست یم برانڈز نے تبصرہ کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا جو امریکہ میں قائم ہیں۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ کے ایف سی کے ایک ملازم کو اس ہفتے لاہور کے مضافات میں ایک سٹور میں نامعلوم مسلح افراد نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ اہلکار نے مزید کہا، اس وقت کوئی احتجاج نہیں ہوا اور ہم اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا یہ قتل سیاسی جذبات کی بنا پر ہوا یا کسی اور وجہ سے۔
دو حملے ہونے اور پانچ دیگر حملے روکنے کے بعد لاہور میں پولیس نے کہا کہ انہوں نے شہر میں کے 27 کے ایف سی آؤٹ لیٹس پر سکیورٹی میں اضافہ کر دیا۔
لاہور پولیس کے ایک سینئر افسر فیصل کامران نے کہا، "ہم ان حملوں میں مختلف افراد اور گروہوں کے کردار کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ شہر میں اسلامی مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے ایک رکن سمیت 11 افراد کو گرفتار کیا گیا۔" انہوں نے مزید کہا کہ احتجاج کا باضابطہ طور پر اہتمام ٹی ایل پی نے نہیں کیا تھا۔
ٹی ایل پی کے ترجمان ریحان محسن خان نے کہا کہ گروپ نے "مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں لیکن اس نے کے ایف سی کے باہر احتجاج کرنے کے لیے نہیں کہا۔"
خان نے کہا، "اگر ٹی ایل پی لیڈر یا کارکن ہونے کا دعویٰ کرنے والا کوئی دوسرا شخص اس طرح کی سرگرمی میں ملوث ہے تو اسے اس کا ذاتی فعل سمجھا جائے جس کا پارٹی کی پالیسی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔"
کے ایف سی کو طویل عرصے سے پاکستان میں امریکہ کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے اور حالیہ عشروں میں احتجاج اور حملوں کی صورت میں اسے امریکہ مخالف جذبات کا خمیازہ بھگتنا پڑا ہے۔
غزہ کی پٹی میں اسرائیلی مظالم پر حالیہ مہینوں میں مغربی برانڈز پاکستان اور دیگر مسلم اکثریتی ممالک میں بائیکاٹ اور دیگر قسم کے مظاہروں کا نشانہ بنے ہیں۔
یم برانڈز نے کہا ہے کہ اس کے دوسرے برانڈز میں سے ایک پیزا ہٹ کو غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے نتیجے میں بائیکاٹ کے طویل اثرات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
پاکستان میں مقامی برانڈز نے تیزی سے بڑھتی ہوئی کولا مارکیٹ میں قدم رکھا ہے کیونکہ بعض صارفین امریکی برانڈز سے گریز کرتے ہیں۔ گلوبل ڈیٹا کے مطابق 2023 میں پاکستان میں صارفین کے شعبے میں کوکا کولا کا مارکیٹ میں حصہ کم ہو کر 5.7 فیصد رہ گیا جو 2022 میں 6.3 فیصد تھا جبکہ پیپسی کو کا 10.8 فیصد سے کم ہو کر 10.4 فیصد رہ گیا۔
اس ماہ کے شروع میں پاکستان میں مذہبی علماء نے ایسی تمام مصنوعات یا برانڈ کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا جو ان کے مطابق اسرائیل یا امریکی معیشت کی حمایت کرتے ہیں لیکن لوگوں سے پرامن رہنے اور املاک کو تباہ نہ کرنے کو کہا ہے۔