پاکستان میں خواتین مردوں کے مقابلے 30 فیصد کم کماتی ہیں: اجرتوں میں فرق کا تاریخی مطالعہ
پاکستان میں کمانے والی خواتین کی تعداد محض 13.5 فیصد
بین الاقوامی ادارۂ محنت (آئی ایل او) کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اجرت پر کام کرنے والی خواتین مردوں کے مقابلے میں تقریباً 30 فیصد کم کماتی ہیں حالانکہ وہ اکثر تعلیم کے معاملے میں بہتر ہوتی ہیں اور پورا وقت کام کرتی ہیں۔ ملک میں مرد و خواتین کی اجرت میں فرق کے لحاظ سے یہ اب تک کا جامع ترین مطالعہ ہے۔
جولائی 2025 میں شائع ہونے والے 'پاکستان میں اجرت کا صنفی فرق: ایک تجرباتی تجزیہ' سے پتا چلا کہ اوسطاً خواتین مرد ہم منصبوں کے مقابلے میں فی گھنٹہ 25 فیصد کم اور ماہانہ 30 فیصد کم کماتی ہیں "حالانکہ ان کے پاس برابر کی قابلیت اور تجربہ ہوتا ہے اور وہ تقابلی کرداروں میں ملازم ہوتی ہیں۔"
آئی ایل او نے کہا، "پاکستان میں تنخواہ کے صنفی فرق کی شدت دیگر کم متوسط آمدنی والے ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔"
اس مطالعے میں 2013 سے 2021 تک پاکستان کے افرادی قوت کے جائزے کے اعداد و شمار کا استعمال کیا گیا جس میں سرکاری اور نجی شعبوں میں رسمی اور غیر رسمی ملازمت سمیت ہر گھنٹے، ماہانہ اور سالانہ آمدنی کا جائزہ لیا گیا۔ مصنفین نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اجرت کا تفاوت صرف جزوی طور پر قابلِ مشاہدہ عوامل سے واضح کیا گیا تھا مثلاً عمر، تعلیم، پیشہ اور کام کے اوقات۔
رپورٹ میں کہا گیا، "پاکستان میں مردوں اور عورتوں کے درمیان اجرت کے فرق کی اکثر وجوہات بدستور غیر واضح ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ اس میں امتیازی سلوک یا دیگر بے اندازہ عوامل کارفرما ہو سکتے ہیں"۔
افرادی قوت میں خواتین کی انتہائی کم شمولیت کی وجہ سے بھی اجرت کا فرق بہت زیادہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق کام کرنے کی عمر کی آبادی کا نصف ہونے کے باوجود خواتین اجرت پر کام کرنے والے ملازمین کا صرف 13.5 فیصد ہیں۔
خواتین کی ملازمت کی شرح 2021 تک مردوں کے لیے 79 فیصد کے مقابلے میں 23 فیصد رہی۔
رپورٹ میں بتایا گیا، "ملازمت کا مجموعی فرق - مرد اور خواتین کے درمیان آبادی کے تناسب سے روزگار کا فرق - گذشتہ عشرے کے دوران 56 فیصد پوائنٹس پر رہا ہے اور خواتین کو "متعدد چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
بہت سے معاملات میں آئی ایل او نے نوٹ کیا کہ اعلیٰ تعلیم کی حامل خواتین نے بدستور برابر یا کم تر قابلیت رکھنے والے مردوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم کمایا ہے جو "ملازمت سے برطرفی اور ترقی کے فیصلوں میں خاصے تعصبات کی نشاندہی کرتا ہے۔"
غیر رسمی شعبہ
تحقیق سے پتا چلا ہے کہ تنخواہ کا صنفی فرق غیر رسمی شعبے میں سب سے زیادہ ہے جہاں خواتین مردوں کے مقابلے میں فی گھنٹہ 40 فیصد کم کماتی ہیں۔ رسمی نجی شعبے میں یہ فرق قدرے کم اور حکومتی شعبے میں سب سے کم ہے جہاں اجرت کے ڈھانچے منظم اور تنخواہ کے پیمانے معیاری ہوتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا، "غیر رسمی شعبہ جہاں خواتین کا ایک بڑا حصہ ملازمت کرتا ہے، تنخواہ میں سب سے زیادہ صنفی فرق ظاہر کرتا ہے جس کی بنیادی وجہ نگرانی کی کمی، یونین کا کم ہونا اور اجرت کے تعین کے رسمی طریقہ کار کی عدم موجودگی ہے۔"
آئی ایل او نے پیشہ ورانہ تفاوت کے اثرات کا بھی حوالہ دیا۔ خواتین کو زیادہ معاوضہ دینے والے کرداروں میں کم اور گھریلو کام، تعلیم اور زراعت جیسے شعبوں میں زیادہ نمائندگی دی جاتی ہے جن کی اکثر کم قدر ہوتی ہے۔
اس فرق کو دور کرنے کے لیے رپورٹ میں متعدد سفارشات کا خاکہ پیش کیا گیا ہے جن میں خواتین کے لیے روزگار کے باضابطہ مواقع کو وسعت دینے، کم از کم اجرت کے قوانین اور تنخواہوں میں شفافیت کے اقدامات کا نفاذ اور صنفی بنیاد پر سماجی تحفظ کے نظام کو فروغ دینا شامل ہیں۔ یہ اس بات کی بھی سفارش کرتا ہے کہ مزدوری کے معائنے اور قانونی نفاذ کو خاص طور پر غیر رسمی شعبے میں مضبوط بنایا جائے اور اجرت کے رجحانات اور تفاوت کی بہتر نگرانی کے لیے ہر صنف کا الگ الگ ڈیٹا جمع کرنے میں سرمایہ کاری کی جائے۔
آئی ایل او نے پاکستان پر بھی زور دیا کہ وہ مساوی تنخواہ اور عدم امتیاز کے بین الاقوامی کنونشنز کی توثیق اور ان پر عمل درآمد کرے بشمول آئی ایل او کنونشن نمبر 100 (مساوی معاوضہ) اور نمبر 111 (روزگار اور پیشے میں امتیاز)۔
رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ صنفی بنیاد پر اجرت کے تفاوت کو ختم کرنا نہ صرف انصاف کا معاملہ ہے بلکہ اقتصادی پیداوار اور گھریلو فلاح و بہبود کو بہتر کرنے کے لیے بھی اہم ہے۔
آئی ایل او نے نتیجہ اخذ کیا کہ "معاشی ترقی کے حصول اور پائیدار ترقی کے اہداف کے تحت پاکستان کے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے تنخواہ کے صنفی فرق کو دور کرنا ضروری ہے۔"
-
چین زراعت اور کان کنی میں پاکستان سے تعاون کرنے کو تیار ہے: چینی وزیرِ خارجہ
دونوں دوست ممالک کے وزرائے خارجہ کی ملاقات
بين الاقوامى -
غزہ میں اموات بمباری ہی نہیں، وسائل کے ’منظم خاتمے‘ سے بھی: پاکستان
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب نے کہا کہ غزہ میں بھوک کو جنگی ہتھیار کے ...
پاكستان -
بھارت سے جنگ کے بعد پاکستان کے جے ایف-17 طیاروں کی برطانیہ کے ایئر شو میں تعیناتی
ہوا میں ایندھن بھرنے کے علاوہ فضائی رسائی کا مظاہرہ، مبصرین کی دلچسپی کا مرکز
پاكستان