عیدِ میلاد النبیؐ کے موقع پر صدرِ پاکستان کی قیدیوں کی سزاؤں میں معافی کی منظوری
قتل، ''دہشت گردی''، جاسوسی اور بڑے مالی جرائم پر معافی شامل نہیں
صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے 1500 ویں عید میلاد النبیؐ کے موقع پر قیدیوں کی سزاؤں میں 180 دن کی خصوصی معافی دی ہے، یہ بات سرکاری نشریاتی ادارے ریڈیو پاکستان نے اتوار کو بتائی۔
پاکستانی رہنما روایتی طور پر مذہبی اور دیگر تہواروں مثلاً عیدین، یومِ آزادی اور عیدِ میلاد النبیؐ کے خاص مواقع پر قیدیوں کی سزا میں معافی کا اعلان کرتے ہیں۔ معافی کا مقصد بحالی کے فروغ اور منتخب قیدیوں کا ان کے خاندانوں سے دوبارہ ملنا ممکن بنانے کے لیے ایک خیر سگالی کا اقدام ہوتا ہے۔
سرکاری میڈیا نے کہا، "ضروری مشاورت کے بعد اور رحم اور ہمدردی کے جذبے کے تحت وزیرِ اعظم نے اس معافی کو ایک سو اسی دن تک بڑھانے کے لیے صدر کی تجویز سے اتفاق کیا۔"
ریڈیو پاکستان نے کہا کہ صدر زرداری نے سزاؤں میں معافی وزیرِ اعظم اور وفاقی کابینہ کے مشورے پر دی جنہوں نے اصل میں 100 دن کی معافی کی سفارش کی تھی۔
ریڈیو پاکستان نے واضح کیا کہ خصوصی معافی کا اطلاق قانون کے تحت طے شدہ معیار پر پورا اترنے والے قیدیوں پر ہو گا جبکہ سنگین جرائم مثلاً قتل، ’دہشت گردی'، جاسوسی اور بڑے مالیاتی جرائم کے مرتکب افراد اس سے مستثنیٰ رہیں گے۔