پاکستان نے فوجی سربراہ کو تاحیات استثنیٰ سے متعلق اقوامِ متحدہ کا انتباہ مسترد کر دیا

وزارتِ خارجہ کی بریفنگ میں تبصروں کو "بے بنیاد" قرار دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

پاکستان نے اتوار کو اقوامِ متحدہ کے سربراہ برائے انسانی حقوق کا یہ انتباہ مسترد کر دیا ہے کہ تمام تر طاقت کے حامل فوجی سربراہ کو قانونی استثنیٰ دینے سے قانون کی حکمرانی کے لیے ممکنہ "دور رس نتائج" ہوں گے۔

اقوامِ متحدہ کے وولکر ترک کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے وزارتِ خارجہ نے کہا، پاکستان "آئین میں درج بنیادی آزادیوں اور قانون کی حکمرانی کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے"۔

اس ماہ کے شروع میں پارلیمنٹ کی منظور کردہ آئینی ترمیم میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور دیگر اعلیٰ حکام کو قانونی کارروائی سے تاحیات استثنیٰ دیا گیا ہے جس پر انسانی حقوق کے گروپوں نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

اس تبدیلی کے تحت ایک نئی وفاقی آئینی عدالت بھی تشکیل دی گئی ہے جس سے سپریم کورٹ کے بعض اختیارات سلب اور ججز کی نگرانی سخت کر دی گئی ہے۔

وولکر ترک نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا، "کُلی طور پر ان تبدیلیوں سے یہ خدشہ ہے کہ عدلیہ سیاسی مداخلت اور انتظامی کنٹرول کے تابع ہو جائے گی۔"

انہوں نے اس خطرے سے خبردار کیا کہ "اس اقدام سے جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں پر دور رس نتائج ہوں گے جنہیں پاکستانی عوام عزیز رکھتے ہیں۔"

اسلام آباد میں وزارتِ خارجہ نے اتوار کے روز اپنے بیان میں ان تبصروں کو "بے بنیاد" قرار دیا اور کہا، "یہ افسوسناک ہے کہ پاکستان کے خیالات اور زمینی حقائق کی عکاسی نہیں کی گئی"۔

یاد رہے کہ پاکستان میں فوج کا سیاست میں کردار طویل عرصے سے متنازعہ رہا ہے۔ فوج کو ملک کا طاقتور ترین ادارہ سمجھا جاتا ہے جو متعدد بار مارشل لاء لگا چکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں