پاکستان میں روزہ داروں کے لیے افطار کا اہتمام مساجد میں مفت کرانے کی روایت سالہا سال سے موجود ہے۔ مگر اب خط افلاس سے تقریباً 40 فیصد آبادی کے نیچے گزارنے کی وجہ سے یہ روایت مکمل خیراتی عمل میں تبدیل ہوگئی ہے اور افطار کا اہتمام مساجد کے علاوہ چوک چوراہوں پر بھی مفت افطار کی صورت ہونے لگا ہے۔
پاکستان میں چوک چوراہوں اور پارکوں یا گرین بیلٹس میں لوگوں کو مفت دسترخوان پر کھانا دینے کی روایت بھی پچھلی تقریبا ایک دہائی سے اپنی جگہ بنا چکی ہے کیونکہ عام لوگوں کی قوت خرید ان کی آمدنی کے ساتھ میچ نہیں کر پاتی اور بہت سارے برسر روزگار لوگ بھی ان دسترخوانوں سے مفت کھانا کھانے کی کوشش میں نظر آتے رہے ہیں۔ ان میں سیکیورٹی گارڈز، دکانوں کے سیلز مین ا ور دیہاڑی دار وہ مزدور بھی شامل ہیں جنہیں عام طور پر کام مل جاتا ہے جبکہ بے روزگاروں کی بھی بڑی تعداد ان دسترخوانوں سے رجوع کرتی ہے۔
ان دسترخوانوں پر کئی سفید پوش خاندان بھی استفادہ کرنے والوں میں شامل ہیں۔ تاہم رمضان المبارک کے دوران یہ دسترخوان مفت سحریوں اور مفت افطاریوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ جیسا کہ ان دنوں کراچی سے لاہور تک مفت افطار کے دسترخوان سر شام سجنا شروع ہوجاتے ہیں۔
رمضان المبارک کو پاکستان میں بھی دوسرے اسلامی ملکوں کی طرح پورے جوش و خروش کے ساتھ نیکیوں کے موسم بہار کی طرح لیا جاتا ہے۔ کراچی میں بھی اس جوش و خروش کی جھلکیاں سحری و افطار کے موقع پر بطور خاص دیکھنے کو ملتی ہیں۔ جب لوگ افطاری کے وقت بطور خاص روایتی کھانوں اور سنیکس کی دکانوں کی طرف رش کرتے نظر آتے ہیں۔
اس سلسلے میں کراچی کے رہائشی منیر قادری نے کہا بلاشبہ اللہ نے اجازت دی ہے کہ ہر کوئی افطاری کا اچھا اہتمام کرے تاہم ہمیں اس موقع پران غریب غرباء لوگوں کی طرف بھی دیکھنا چاہیے جو انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ تاکہ انہیں بھی رمضان کی رحمتوں اور برکتوں میں شریک کیا جا سکے۔
کراچی میں جہاں غریبوں کو مفت سحری و افطاری کرانے کا رواج زور پکڑ رہا ہے۔ وہیں یہ شکایات بھی کم نہیں ہیں کہ رمضان المبارک کے دوران دکاندار کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ کر دیتے ہیں۔
اس وجہ سے لوگوں کے لیے رمضان کو دکاندار ایک مہنگے مہینے کے طور پر متعارف کراتے ہیں کیونکہ دال سبزی اور پھلوں سمیت انتہائی عمومی ضرورت کی چیزوں کی قیمتیں بھی غیر معمولی طور پر بڑھا دی جاتی ہیں۔ حکومت کی طرف سے حالیہ دنوں پیٹرول کی قیمت میں اضافہ عام آدمی پر مزید بوجھ کا جواز پیدا کر چکا ہے۔ حتیٰ کہ آٹا تک مہنگا ہوگیا ہے۔ بجلی، پانی اور گیس کے بلوں اور ٹیکسز کی بھرمار نے رمضان عام آدمی کے لیے رحمت کی بجائے مشکلات کا مہینہ بنا دیا ہے۔
مہنگائی کو کم کرنے سے متعلق ادارے عام طور پر بیانات اور دعوؤں تک محدود رہتے ہیں۔
یاد رہے حکومت کی طرف سے یوٹیلیٹی سٹور کی بندش نے اس رمضان کو اور زیادہ مہنگائی کا ذریعہ بنا دیا ہے۔
دوسری طرف حکومت تنخواہوں میں جو تھوڑا بہت اضافہ کرتی ہے اس کے بدلے میں مہنگائی یا ٹیکسوں میں کہیں زیادہ اضافہ کر دیا جاتا ہے اور نتیجتاً بیروزگاروں میں برسر روزگار افراد بھی شامل ہوتے جا رہے ہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے ملک بھر کے عوام کے لیے 38 ارب روپے کا رمضان پیکج اعلان کیا ہے۔ جبکہ پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کے لیے اسی رمضان کے شروع میں 10 ارب سے زائد کے لیگزری جہاز کی خریداری کی خبریں افلاس زدہ شہریوں کے زخموں پر نمک چھڑک رہی ہیں۔
ادھر لاہور کے مختلف مقامات پر رمضان کے دوران مفت سحری اور افطاری کرنے والے افراد کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ داتا دربار جو حضرت علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ کا مزار ہے وہاں روایتی طور پر لوگوں کے لیے سحری و افطار کا اہتمام مخیر حضرات کی طرف سے کیا جاتا ہے۔ رمضان کے دوران یہاں لمبی قطاروں کو بطور خاص دیکھا جا رہا ہے۔
ایک بوڑھے لاہوری قاری محمد یونس کا کہنا ہے کہ اجتماعی افطاری کا یہ اہتمام اب عام لوگوں کے لیے بڑی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ یہاں بے شمار لوگ مفت سحری و افطاری کرنے کے لیے پہنچتے ہیں۔
مشتاق احمد نامی شہری نے کہا کہ اللہ نے لوگوں کو رمضان میں زیادہ خیرات کا حکم دیا ہے۔ تاکہ غریب اور افلاس زدہ لوگ بھی آسانی سے سحر و افطار کا اہتمام کر سکیں اور رمضان کی خوشیوں اور رحمتوں میں شامل ہو سکیں۔