پاکستان کا بھارت پر علاقائی استحکام کو نقصان پہنچانے کا الزام
مذاکرات کا راستہ ہمیشہ کھلا رہنا چاہیے: لیفٹیننٹ جنرل نعمان زکریا
پاکستان نے جنوبی ایشیا میں علاقائی استحکام کو نقصان پہنچانے کے لیے بھارت کی عسکریت پسندی اور اشتعال انگیز بیانات کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جغرافیائی سیاسی دشمنی کے باوجود مذاکرات کو "ہمیشہ جاری رہنا چاہیے"۔
بھارتی فوج کے سربراہ جنرل اوپیندر دویدی نے ہفتے کے روز خبردار کیا تھا کہ اگر حالات مناسب رہے تو ملک کی فوج پاکستان کے خلاف ایک اور فوجی آپریشن کرنے کے لیے تیار ہے۔
ہفتے کے روز سنگاپور میں شنگری-لا ڈائیلاگ سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی فوج کے ون کور یونٹ کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل نعمان زکریا نے کہا، بھارتی "عسکریت،" مخالفانہ بیان بازی اور ہمسایہ ممالک کے درمیان بحران سے نمٹنے کے طریقہ کار کی عدم موجودگی علاقائی استحکام کو مسلسل نقصان پہنچا رہی ہے۔
زکریا نے کہا، "جغرافیائی سیاسی دشمنی کے ادوار میں بھی مکالمہ کبھی ختم نہیں ہونا چاہیے۔ تاریخ بار بار یہ ظاہر کرتی ہے کہ نہ صرف دفاعی صلاحیت بلکہ مواصلات کے ذریعے بھی تزویری استحکام محفوظ رہتا ہے۔"
پاکستانی فوجی افسر نے کہا، جنوبی ایشیا میں تزویری استحکام جوہری دفاع، روایتی ہم آہنگی، سیاسی تناؤ اور دونوں ممالک کے درمیان حل نہ ہونے والے علاقائی اور نظریاتی تنازعات کو برداشت کرنے سے تشکیل پاتا ہے۔
زکریا نے کہا، کہ مئی 2025 میں بھارتی حملوں پر پاکستان کے جواب سے "جنوبی ایشیا میں جنگ کے لیے جگہ کا تصور" ختم ہو گیا۔
"تصادم کے بعد کی حرکیات نے روایتی جنگ کے امکانات کو مزید محدود کر دیا ہے،" انہوں نے مشاہدہ کیا۔
زکریا نے کہا، اعتماد سازی کے اقدامات، شفافیت کے طریقہ کار اور ریاستوں کے درمیان تکنیکی مکالمے غلط فہمی کم کرنے اور ہتھیاروں کی دوڑ کو روکنے کے لیے ضروری ہیں۔
انہوں نے ادارہ جاتی بحران سے نمٹنے کے طریقہ کار اور تزویری مواصلت کے ذرائع مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
پاکستانی فوجی افسر نے کہا کہ "فیصلہ سازی کی دُنیا میں براہِ راست مواصلت زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔"
شنگری-لا ڈائیلاگ سمٹ ایک سالانہ تقریب ہے جس میں تمام دنیا سے اعلیٰ دفاعی حکام، اعلیٰ فوجی افسران، سفارت کار، ہتھیار ساز اور سکیورٹی تجزیہ کار شرکت کرتے ہیں۔