.

درویش جج

حامد میر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
جب کوئی جج اپنی جان ہتھیلی پر رکھ لے تو پھر اُسے کوئی خودکش بمبار ڈرا سکتا ہے نہ کوئی طاقتور خفیہ ادارہ مرعوب کر سکتا ہے۔ ایسے بے خوف جج کے فیصلوں پر کوئی حکومت عمل کرے یا نہ کرے لیکن وہ جج قانون کی بالادستی کی علامت بن کر تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو جاتا ہے۔ پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس دوست محمد خان بھی ایک ایسے مردِ درویش ہیں جو صوبہ خیبر پختونخوا میں قانون کی بالادستی کے لئے اپنے ساتھی ججوں کے ہمراہ جان ہتھیلی پر رکھ کر عدالت میں بیٹھتے ہیں۔ خیبر پختونخوا ایک ایسا صوبہ ہے جہاں پچھلے دس سال سے کوئی محفوظ نہیں۔ کئی علاقے نوگو ایریاز بن چکے ہیں۔ بظاہر یہاں اے این پی اور پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت موجود ہے لیکن اصل اختیارات سکیورٹی فورسز اور خفیہ اداروں کے پاس ہیں۔ اصل حکمرانوں نے صوبے میں عسکریت پسندوں کا مقابلہ کرنے کیلئے امن لشکروں کے نام پر پاکستان نواز عسکریت پسند گروپ بنا رکھے ہیں۔ ان گروپوں کے علاوہ خفیہ اداروں نے پرائیویٹ جیلیں اور حراستی مراکز بنا رکھے ہیں۔ یقینا ان جیلوں اور حراستی مراکز میں ریاست کے خلاف بغاوت کرنے والے عناصر کو بھی لایا جاتا ہو گا لیکن اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ ریاست کی مدد کرنے والے امن لشکروں میں شامل سرکاری عسکریت پسند اکثر اوقات اپنے ذاتی یا سیاسی مخالفین کے بارے میں غلط اطلاعات فراہم کر کے اُنہیں گرفتار کرواتے ہیں اور اُن پر تشدد کروا کر عسکریت پسندوں کے ساتھ ملی بھگت کا اعتراف بھی کروا لیا جاتا ہے۔ کئی مرتبہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ سرکاری عسکریت پسند اپنے سرپرستوں کی فرمائش پر کسی سیاستدان یا صحافی کے خلاف کارروائی کرتے ہیں اور اگلے دن یہ کارروائی تحریک طالبان پاکستان کے کھاتے میں ڈال دی جاتی ہے۔ تحریک طالبان پاکستان اور افغان طالبان میں بہت فرق ہے۔ تحریک طالبان پاکستان میں بہت سے گروپ ہیں ، ہر گروپ کا علیحدہ کمانڈر اور اپنا اپنا حلقہ اثر ہے۔

ان گروپوں میں کئی معاملات پر ہم آہنگی نظر نہیں آتی اور مرکزی قیادت کی فعالیت مفقود ہے۔ دوسری طرف افغان طالبان ملا محمد عمر کی قیادت پر متفق ہیں اور اُن میں کوئی گروپنگ نہیں۔ تحریک طالبان پاکستان میں گروپ بندی کا کچھ ادارے بہت فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ وہ کبھی ایک گروپ پر دباؤ بڑھاتے ہیں کبھی دوسرے پر اور بعض اوقات کسی گروپ کو اپنے مخصوص مقاصد کیلئے استعمال بھی کر لیتے ہیں۔ جج یہ کھیل نہیں کر سکتے۔ جج کی نظر میں قانون سب کیلئے برابر ہے۔ اُس کے سامنے قانون توڑنے والے ریاست مخالف عسکریت پسندوں اور ریاست کے دفاع کے ذمہ دار خفیہ اداروں میں کوئی فرق نہیں اور اسی لئے پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس دوست محمد خان نے حکم دیا ہے کہ خفیہ ادارے اپنے خود ساختہ حراستی مراکز ختم کریں، 18دسمبر سے پہلے تمام زیر حراست افراد کی فہرست تیار کر کے عدالت میں پیش کریں اور اگر عدالتی حکم نظر انداز کیا گیا تو پھر فل کورٹ تشکیل دیا جائے گا جو فاٹا اور پاٹا میں جاری آپریشن کا جائزہ لے گا کیونکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی پر کنٹرول میں ناکام ہو چکے ہیں۔

جسٹس دوست محمد خان نے یہ بھی کہا کہ جی ایچ کیو زیر حراست افراد کی اموات کی تحقیقات کرے اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرے۔ اگر آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی نہ ہوئی تو پھر سول عدالتوں میں مقدمے چلیں گے۔ یہ مت سمجھئے گا کہ خفیہ اداروں نے کسی نوجوان عسکریت پسند کو پکڑ کر جعلی مقابلے میں مار دیا اور ملک و قوم کی بڑی خدمت کر دی۔ ایسا بالکل نہیں ہوا۔ دراصل جسٹس دوست محمد خان اور جسٹس وقار کے سامنے ایک 64سالہ بزرگ انارگل کے وکیل نے فریاد کی کہ اُس کے موکل کو خفیہ اداروں نے ایک سال قبل اغوا کیا تھا اور 6اکتوبر 2012ء کو انارگل کی لاش حسن ابدال میں پڑی ملی۔ اس عدالت میں ایسے کئی فریادی موجود تھے جن کے بیٹوں یا بھائیوں کو خفیہ اداروں نے اُٹھایا لیکن اُنہیں عدالت میں پیش کرنے کی بجائے اُن کی لاشیں سڑکوں پر پھینک دیں۔ یہ وہ خوفناک پہلو ہے جو ججوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ ریاست کے مخالف عسکریت پسندوں اور ریاست کی جنگ لڑنے والے اداروں کے منہ زور افسران میں کیا فرق ہے؟

دونوں قانون توڑ رہے ہیں؟ اسی لئے جسٹس دوست محمد خان کو یہ کہنا پڑا کہ اتنے خفیہ ادارے ہونے کے باوجود بنوں جیل توڑنے والوں، تھانوں پر خود کش حملے کرنے والوں اور اعلیٰ پولیس افسران کو شہید کرنے والوں میں سے کسی کا سراغ کیوں نہیں ملا؟ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ایم آئی، آئی ایس آئی، ایف سی اور پولیس کو لاپتہ افراد عدالتوں میں پیش کرنے ہوں گے اور خود ساختہ حراستی مراکز ختم کرنے ہوں گے۔ کچھ لوگ یہ الزام لگا سکتے ہیں کہ جج صاحبان دہشت گردوں پر دباؤ ڈالنے کی بجائے خفیہ اداروں پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ یہ الزام صرف اور صرف قانون کو اپنے جوتے کی نوک پر لکھنے والوں کی پالش بننے کے مترادف ہے۔ خفیہ اداروں نے اگر واقعی خطرناک دہشت گرد گرفتار کر رکھے ہیں تو اُنہیں عدالت میں پیش کریں اور اُن کے خلاف ثبوت لے کر آئیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت صرفہ صوبہ خیبر پختونخوا اور فاٹا میں تین ہزار افراد مختلف اداروں کی غیر قانونی حراست میں ہیں۔ ایم آئی، آئی ایس آئی، آئی بی، ایف سی اور پولیس کم از کم تین چار خطرناک ملزمان کے خلاف ثبوت تو لاسکتی ہیں۔ ان تین چار ملزمان کو ثبوت کے ساتھ عدالتوں میں پیش کر کے انہیں سزا دلائیں تاکہ قانون کی بالادستی قائم ہو اور جن لوگوں کے خلاف کوئی ثبوت موجود نہیں اُنہیں چھوڑنا پڑے گا۔

ریاست اپنے آپ کو باغیوں اور جرائم پیشہ افراد سے مختلف ثابت کرے اور عدالتوں کے ساتھ محاذآرائی کرنے کی بجائے عدالتوں کے ساتھ مل کر قانون کی بالادستی کو ممکن بنائے۔ اس سلسلے میں پارلیمنٹ کو بھی اہم کردار ادا کرنا ہے اور کوئی ایسی قانون سازی نہیں کرنی چاہئے جس سے خفیہ اداروں کو غیر ضروری اختیارات مل جائیں۔ منگل کو قومی اسمبلی کی قائم کمیٹی برائے قانون و انصاف نے فیئر ٹرائل بل 2012ء کی منظوری دیدی۔ اس مجوزہ بل کے تحت کوئی بھی خفیہ ادارہ وارنٹ حاصل کئے بغیر کسی بھی شخص کو گرفتار کر کے اُس کی تفتیش کر سکتا ہے اور کسی بھی شہری کے موبائل فون اور کمپیوٹر کے ریکارڈ تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔

مسلم لیگ (ن) اور ایم کیو ایم نے اس بل میں کچھ ترامیم تجویز کی تھیں لیکن کمیٹی کی چیئرپرسن نسیم چودھری نے کسی کی نہیں سنی اور اعلان کر دیا کہ بل منظور ہوگیا۔ میری اطلاعات کے مطابق اے این پی کو بھی اس بل پر اعتراضات ہیں کیونکہ یہ بل آئین کی کئی شقوں سے متصادم ہے اور ایسا لگتا ہے کہ بل کا مقصد قانون کو مضبوط کرنا نہیں بلکہ خفیہ اداروں کو مضبوط کرنا ہے۔ اس بل کی منظوری کے بعد خفیہ ادارے کسی کو بھی لاپتہ کر دیں گے اور لاپتہ افراد کے لواحقین کو عدالتوں سے ریلیف نہیں ملے گا۔ اگر اس بل کے خلاف عدالتوں میں کوئی درخواست دائر ہوگئی تو ایک نیا پھڈا کھڑا ہو جائے گا اس لئے بہتر ہے کہ خفیہ ادارے اور پارلیمنٹ مل کر عدالتوں کے خلاف محاذآرائی نہ کریں۔ ایک دوسرے کی نیت پر شک نہ کیا جائے ایک دوسرے کے خلاف جھوٹ نہ بولا جائے۔ جسٹس دوست محمد خان کے خلاف بہت جھوٹ بولا گیا، بہت افواہیں پھیلائی گئیں لیکن اُن کے حوصلے اور اعتماد میں کوئی دراڑ نہ ڈالی جا سکی کیونکہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور سے نہ ڈرے وہ نہتا ہونے کے باوجود بہت طاقتور بن جاتا ہے۔ جسٹس دوست محمد خان کو عسکریت پسندوں کے ممکنہ حملے سے بھی ڈرایا گیا، ہو سکتا ہے کہ اُن کی گاڑی کے نیچے سے بھی بم برآمد ہو جائے اور کوئی اس کی ذمہ داری بھی قبول کر لے لیکن جناب وقت بدل چکا آج نہیں تو کل آپ کو خودساختہ حراستی مراکز بند کرنے ہوں گے اور عدالتوں کا حکم ماننا پڑے گا۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ
اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.