.

قربانیوں کے پیچھے چھپنے والے

حامد میر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جناب یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے، کوئی ایسا سوال نہ اٹھایئے جس سے قومی سلامتی کیلئے خطرہ پیدا ہو جائے، مت بھولئے کہ ہمیں امریکہ اور بھارت کی سازشوں کا سامنا ہے، ایسی باتیں نہ کریں جن سے امریکہ اور بھارت کو فائدہ ہو… یہ ہیں وہ الفاظ جو اتوار کی صبح گلگت بلتستان حکومت کی ایک اہم شخصیت نے مجھے کہے۔ میں نے فون پر ان سے صرف یہ پوچھنے کی جسارت کی تھی کہ نانگا پربت بیس کیمپ کے قریب جس جگہ 9 غیر ملکی سیاحوں کو انتہائی بے دردی سے قتل کیا گیا یہ انتہائی محفوظ علاقہ ہے اور اس طرف جانے والے راستوں پر سکیورٹی فورسز کا ہر وقت پہرہ ہوتا ہے۔ پھر قاتل اتنی آسانی سے غیر ملکی سیاحوں پر گولیاں برسا کر واپس کیسے چلے گئے؟ مجھے جواب ملا کہ قاتلوں نے گلگت اسکاؤٹس کی وردیاں پہن رکھی تھیں، میں نے پوچھا کہ جس جگہ پر یہ واقعہ ہوا وہاں عام حالات میں غیر ملکی سیاحوں کی حفاظت کے لئے گارڈز موجود ہوتے ہیں یہ گارڈز کہاں تھے؟ حکومتی شخصیت نے لاعلمی ظاہر کی تو میں نے سوال کیا کہ اس علاقے میں چین اور روس کے سیاحوں پر حملے کی کوئی خاص وجہ ہو سکتی ہے؟ حکومتی شخصیت کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ میں نے پوچھا کہ پچھلے دو تین سال کے دوران آپ کے علاقے میں دہشت گردی کی کئی وارداتیں ہو چکی ہیں آپ نے کتنے ملزمان کو پکڑا اور کتنوں کو سزا دلوائی؟

حکومتی شخصیت نے کہا کہ یہ کام تو سکیورٹی فورسز کا ہے، آپ جانتے ہیں کہ گلگت بلتستان میں اصل کنٹرول تو سکیورٹی فورسز کا ہے، سیاسی حکومت محض ایک دکھاوا ہے، جب یہاں کے منتخب نمائندے سکیورٹی فورسز کے ذمہ داروں اور خفیہ اداروں سے پوچھتے ہیں کہ دہشت گرد کدھر سے آتے ہیں اور کدھر چلے جاتے ہیں تو جواب میں کہا جاتا ہے کہ زیادہ سوال نہ کئے جائیں کیونکہ ہم پہلے ہی بہت قربانیاں دے رہے ہیں، ہمارا مورال ڈاؤن نہ کریں۔ اب آپ ہی بتایئے کہ ہم صحافی کیا کریں۔ اس سال انتخابات کے فوراً بعد جس ملک کے وزیراعظم نے سب سے پہلے پاکستان کا دورہ کیا، اس ملک کا نام چین ہے۔ نئے وزیراعظم نواز شریف نے جس ملک کے ساتھ مل کر گوادر سے کاشغر تک ریلوے لائن بچھانے کے عزم کا اظہار کیا وہ بھی چین ہے۔

گلگت بلتستان کو جس شاہراہ ریشم نے پاکستان کے ساتھ جوڑ رکھا ہے، اس کی تعمیر میں بھی چین کا اہم کردار ہے اور نانگا پربت بیس کیمپ کے قریب حملے کا اصل نشانہ بھی چینی سیاح نظر آتے ہیں۔ اس واقعہ سے صرف چین میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی ہوئی ہے۔ ہم دنیا سے کہتے ہیں کہ آؤ ہمارے نانگا پربت کے خوبصورت پہاڑ دیکھو۔ ہم دنیا سے کہتے ہیں پاکستان میں صرف بم دھماکے اور خود کش حملے نہیں ہوتے بلکہ پاکستان میں دنیا کے بلند ترین پہاڑ اور حسین ترین وادیاں بھی ہیں، جب کچھ سیاح ہماری خوبصورتی دیکھنے نانگا پربت آ گئے تو انہیں خون سے نہلا دیا گیا۔ کیا یہ ہماری سکیورٹی ایجنسیز اور خفیہ اداروں کی ناکامی نہیں؟ کیا ہمیں پاکستان کی بدنامی پر سوال اٹھانے کا کوئی حق نہیں؟

کراچی سے لے کر کوئٹہ تک دہشت گردی کی آگ پھیلی نظر آ رہی ہے، کچھ دن پہلے کوئٹہ میں یونیورسٹی کی معصوم طالبات پر حملہ کیا گیا، بعد ازاں بولان میڈیکل کمپلیکس پر بھی حملہ ہوا، بولان میڈیکل کمپلیکس ایک محفوظ علاقے میں واقعہ ہے۔ یہاں حملے پر سوالات اٹھائے گئے تو سوالات اٹھانے والے غدار قرار پائے۔ کہا گیا کہ ایف سی اور آئی ایس آئی کی کارکردگی پر سوالات اٹھانے والے ا مریکہ اور بھارت کے تنخواہ دار ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتی کہ جب قطر میں افغان طالبان کا دفتر کھلتا ہے تو پاکستانی میڈیا میں طاقتور اداروں کی نمائندگی کرنے والے بڑے طمطراق سے یہ دعوے کرتے ہیں کہ افغان طالبان کو مذاکرات پر راضی کرنے میں جنرل اشفاق پرویز کیانی کا بڑا اہم کردار ہے اور اس سلسلے میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے ساتھ ان کا براہ راست رابطہ تھا۔

امریکی حکومت بھی طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں پاکستان کے کردار کا اعتراف کرتی ہے لیکن جب کوئی یہ پوچھ ڈالے کہ جس دن ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے وزارت اعلیٰ کا حلف اٹھایا اس دن خضدار اور بولان میں لاشیں کس نے پھینکیں؟ اگر کوئی یہ سوال کرنے کی جسارت کرے کہ کوئٹہ کے اندر اور باہر ایف سی کی سینکڑوں چیک پوسٹیں ہیں، دہشت گرد اتنی آسانی سے شہر کے محفوظ علاقوں میں اسلحہ سمیت کیسے داخل ہو جاتے ہیں تو ایسے سوال اٹھانے والا امریکی سی آئی اے کا ایجنٹ قرار پاتا ہے۔ کراچی کو ہی لیجئے، رینجرز سیاسی کارکنوں کو اٹھا اٹھا کر مارتی چلی جا رہی ہے، لیکن ایک ایم پی اے ساجد قریشی کو مسجد کے باہر قتل کرنے والوں کو پکڑنے میں ناکام ہے۔ خیبر پختونخوا اسمبلی کے دو ارکان مارے جا چکے ہیں لیکن خفیہ اداروں کی کارکردگی پر سوال اٹھانا ملکی مفاد کے منافی ہے۔ یہ عجیب تماشہ ہے کہ خفیہ ادارے اپنی نااہلیوں کو قوم کے بہادر سپاہیوں کی قربانیوں کے پیچھے چھپانے کی مکارانہ کوششوں میں مصروف رہتے ہیں۔

یہ ادارے سال ہا سال سے ملک بچانے کے نام پر ملک کا آئین توڑ ر ہے ہیں، ان کی آئین شکنی پر سوال اٹھانا غداری ہے، لیکن امریکہ کے ساتھ مل کر پاکستان میں ڈرون حملے کرانا اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکہ کے حوالے کر دینا حب الوطنی ہے۔ حال ہی میں کوئٹہ کے واقعات پر کچھ سوالات اٹھانے کی پاداش میں ایک طاقتور ادارہ بہت ناراض ہو گیا اور اس ادارے کی قلمی نوکری کرنیوالے ایک صاحب نے مجھے وطن فروش کا خطاب دے ڈالا۔ ان صاحب نے کچھ اسی قسم کی باتیں مئی 2011ء میں نواز شریف اور چودھری نثار علی خان کے بارے میں بھی لکھی تھیں کیونکہ ان دونوں نے ایبٹ آباد آپریشن کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ اب نواز شریف وزیراعظم اور چودھری نثار علی خان وزیر داخلہ بن چکے ہیں۔ میں ان دونوں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ ایبٹ آباد واقعہ کی از سر نو تحقیقات کرا کر قوم کو بتایا جائے کہ وہ کون لوگ ہیں جو ایبٹ آباد سے نانگا پربت اور کوئٹہ سے کراچی تک ہماری سلامتی و خود مختاری پر مسلسل حملے کر رہے ہیں اور ہمارے خفیہ ادارے سوائے ہمیں گالیاں دینے اور کوئی کام کرتے نظر نہیں آتے۔

ایک طرف یہ خفیہ ادارے ہمیں بلوچ علیحدگی پسندوں کا ساتھی قرار دیتے ہیں کیونکہ ہم بلوچستان کے لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کرتے ہیں، دوسری طرف بلوچ علیحدگی پسند لیڈر ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ ہمیں ان خفیہ اداروں کا ساتھی قرار دیتا ہے۔ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے پچھلے دنوں میرے نام ایک کھلے خط میں الزام لگایا کہ میں بلوچ عسکریت پسندوں کے خلاف پاکستانی سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں مدد فراہم کر رہا ہوں۔ آپ خود ہی فیصلہ کر لیجئے کہ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ہے؟ ہم سے خفیہ ادارے ناراض کیونکہ ہم ان کے سچ کو سچ نہیں مانتے ہم سے علیحدگی پسند بھی ناراض کیونکہ ہم ان کی مرضی کے سچ کو سچ نہیں مانتے۔ دونوں بظاہر ایک دوسرے کے دشمن ہیں لیکن آزاد میڈیا، عدلیہ اور سیاسی و جمہوری اداروں کے بارے میں دونوں کا نکتہ نظر ایک ہے۔ دونوں کے غیر اعلانیہ اتحاد کو توڑنے کیلئے سب اداروں کو مل کر ملک میں قانون کی بالادستی قائم کرنا ہو گی، تاکہ نانگا پربت بیس کیمپ جیسے واقعات کو روکا جا سکے، جب تک نااہلی کے ذمہ د اروں کو سزا نہیں ملے گی اس طرح کے واقعات کو روکنا مشکل ہو گا۔

بہ شکریہ روزنامہ 'جنگ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.