.

اوباما اور ہنو مان

حامد میر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حضرت نظام الدین اولیاءؒ سے دلّی کاحکمران سلطان غیاث الدین تغلق خوش نہیں تھا کیونکہ یہ صوفی بزرگ حکمران کے دربار میں حاضری نہیں دیتا تھا۔ حضرت نظام الدین اولیاءؒ کی عام لوگوں میں مقبولیت تغلق کو اچھی نہیں لگتی تھی۔ ایک دفعہ تغلق بنگال میں جنگ و جدل کے بعد واپس دلّی لوٹ رہا تھا تو اس نے ایک تیز رو قاصد کے ذریعہ حضرت نظام الدین اولیاءؒ کو پیغام بھجوایا کہ میری واپسی سے پہلے پہلے کہیں اور چلے جائیں اب دلّی میں یا تو آپ رہیں گے یا پھر میں رہوں گا اور اگر آپ نے شہر نہ چھوڑا تو انجام اچھا نہ ہوگا۔ حضرت نظام الدین اولیاءؒ کو یہ دھمکی آمیز پیغام سنایا گیا تو ان کی زبان مبارک سے بے اختیار یہ جملہ صادر ہوا’’ہنوز دلّی دور است‘‘(دلّی ابھی بہت دور ہے)۔سلطان غیاث الدین تغلق فاتح بنگال بن کر واپس آرہا تھا، اس کے استقبال کے لئے پورے شہر کو سجایا گیا۔ شہر سے کچھ فاصلے پر تغلق آباد میں ایک عارضی محل تعمیر کیا گیا تاکہ غازی بادشاہ یہاں کچھ دیر رک کر تازہ دم ہوجائیں اور پھر پوری شان و شوکت کے ساتھ اپنی راج دہانی میں داخل ہوں۔ تغلق اس عارضی محل میں کھانا کھارہا تھا اور دلّی میں حضرت نظام الدین اولیاءؒ کے مریدین یہ سوچ رہے تھے کہ بادشاہ شہر سے صرف چند میل دور ہے جب وہ شہر میں داخل ہوگا تو نجانے کیا ہوگا۔ ادھر بادشاہ نے کھانا کھایا اور جب ہاتھ دھو رہا تھا تو آسمان پر بجلی کڑکی اور اسکے محل کی چھت دھڑام سے اسکے اوپر گر گئی۔ بادشاہ اپنے پانچ مصاحبین کے ہمراہ مارا گیا اور دلّی میں اس کی لاش پہنچی جس کے بعد’’ہنوز دلّی دور است‘‘ تاریخ کا حصہ بن گیا۔

پچھلے دنوں امریکی صدر اوباما بھارت کے دورے پر تھے تو نریندر مودی کیساتھ ان کی مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران اس خاکسار کو حضرت نظام الدین اولیاءؒ کا مشہور جملہ بار بار یاد آرہا تھا۔ دلّی کو آج دہلی کہا جاتا ہے اور آج یہ نریندر مودی کی راج دہانی ہے۔ مودی صاحب کچھ سال پہلے تک امریکیوں کے لئے انتہائی ناپسندیدہ تھے اور انہیںامریکہ کا ویزا دینے سے انکار کردیا گیا تھا لیکن اوباما کو بار بار جپھی ڈال کر مودی نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ وہ دونوں بچپن کے دوست ہیں۔ مودی اور اوباما کی مشترکہ پریس کانفرنس میں یہ تاثر مل رہا تھا کہ اوباما نے بھارت کو جنوبی ایشیاء کا تھانیدار بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے لیکن جیسے ہی اوباما نے یہ کہا کہ وہ بھارت کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل رکن بنانے کی حمایت کرتے ہیں تو مجھے ایسا لگا کہ سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت بھارت کے لئے’’ہنوز دلّی دور است‘‘ جیسا مقام رکھتی ہے۔ اوباما نے ایسا ہی بیان 2010ء میں اپنے دورہ بھارت میں دیا تھا۔ پانچ سال کے بعد2015ء میں اوباما نے پرانا بیان پھر دہرایا جس پر بھارتی حکمران اور میڈیا خوشی سے دیوانے ہوگئے۔ وہ یہ بھول گئے کہ جس شہر میں اوباما نے بھارت کو یہ سبز باغ دکھایا اس شہر میں غالبؔ نام کا ایک شاعر بھی دفن ہے جس نے کہا تھا؎

ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے

بھارتیوں کو خوش رکھنے کے لئے اوباما نے بار بار ایک ایسا خیال پیش کیا جسے حقیقت بنانا بہت مشکل ہے۔ سلامتی کونسل کے پانچ ارکان میں امریکہ کے علاوہ برطانیہ، روس، فرانس اور چین شامل ہیں۔ امریکہ نے صرف بھارت کو نہیں بلکہ جاپان کو بھی یہ’’لارا‘‘ لگا رکھا ہے کہ وہ اسے سلامتی کونسل کا مستقل رکن بنوائے گا۔ جاپان اور بھارت میں ایک مشترک پہلو یہ ہے کہ دونوں کے چین کے ساتھ سرحدی جھگڑے ہیں۔ حال ہی میں امریکہ نے جاپان اور بھارت کے ساتھ مل کر چین کے قریب سمندروں میں بحری مشقیں بھی کی ہیں۔ اوباما بھول گئے کہ سلامتی کونسل کے پانچ ارکان کے پاس ویٹو پاور ہے۔ سلامتی کونسل کے ارکان کی تعداد میں اضافے کے لئے اقوام متحدہ کے چارٹر میں ترمیم کی ضرورت ہے جس کے لئے اقوام متحدہ کے کل ارکان کی دو تہائی اکثریت درکار ہے، اگر یہ ترمیم ہو بھی جائے تو چین بھارت کی رکنیت کو ویٹو کرسکتا ہے۔ سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کے امیدواروں میں صرف جاپان اور بھارت نہیں بلکہ جرمنی اور برازیل بھی شامل ہیں۔سلامتی کونسل میں براعظم افریقہ کی کوئی نمائندگی نہیں ہے۔ جاپان یا بھارت کو سلامتی کونسل میں شامل کرنے کی کوشش پر افریقی ممالک میں منفی ردعمل ہوسکتا ہے۔ اوباما اور ان کی اہلیہ مشعل خود کو افریقی سیاہ فاموں کا نمائندہ بھی کہتے ہیں لیکن دورہ بھارت کے دوران ا وباما نے جو کچھ کہا اس کا مقصد صرف بھارتی منڈیوں میں امریکی مصنوعات بیچنا تھا اور بھارتیوں کو خوش کرنے کے لئے صرف چین اور پاکستان کو نہیں بلکہ پورے افریقہ کو بھی ناراض کرنے سے دریغ نہ کیا گیا۔ بھارت کو سلامتی کونسل کا مستقل رکن بنوانے کی خواہش پر غالبؔ کا یہ شعر بھی صادق آتا ہے؎

آہ کو چاہئے اک عمر اثر ہونے تک
کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک

بھارت کے حالیہ دورے میں امریکی صدر اوباما نے نریندر مودی کی چائے کی بڑی تعریفیں کیں اور ہندی کے الفاظ بولنے کی کوشش بھی کی۔ اس دورے میں ایک اور انکشاف بھی ہوا جس پر پاکستانی میڈیا اور مغربی میڈیا میں زیادہ چرچا نہیں ہوا۔ دورہ بھارت کے دوران اوباما نے ہندوئوں کے ایک بھگوان ہنو مان کا ڈنکا بھی بجایا اور دعویٰ کیا کہ وہ ناصرف ہنو مان جی کو مانتے ہیں بلکہ ان کی ایک چھوٹی سی مورتی ہمیشہ اپنے پاس بھی رکھتے ہیں۔ ہمیں اس خبر کا پتہ یوں چلا کہ منگل کی شام ہم اوباما کے دورے پر جیو نیوز اور بھارت کے ہندی چینل آج تک ٹی وی کے ایک مشترکہ پروگرام کے آغاز سے پہلے اسلام آباد اسٹوڈیو میں دہلی سے آج تک ٹی وی کی ہیڈ لائنز ختم ہونے کا انتظار کررہے تھے۔ اچانک بھارتی ٹی وی کی خاتون نیوز کاسٹر کے یہ الفاظ میرے کان میں پڑے کہ اوباما بھی ہنو مان بھگت نکلے وہ ہمیشہ ہنو مان جی کی مورتی اپنے ساتھ رکھتے ہیں، پھر ہمارا پروگرام شروع ہوگیا۔ پروگرام ختم ہوا تو میں نے دہلی فون کرکے اوباما اور ہنو مان کے تعلق کی مزید تفصیلات حاصل کیں۔

پتہ چلا کہ اوباما نے ایل کے ایڈوانی کی بیٹی پرادھیبا ایڈوانی کے ساتھ ملاقات میں انہیں بتایا کہ وہ ہنو مان کو مانتے ہیں اور ان کی مورتی بھی اپنے ساتھ رکھتے ہیں ،پھر اوباما نے اپنی جیب ٹٹولی اور ہنو مان کی چھوٹی سی مورتی نکال کر پرادھیبا کو دکھائی۔ ہنو مان ہندوئوں کی رامائن اور مہا بھارت کا ایک اہم کردار ہیں۔ ہندو روایات کے مطابق ہنو مان کی شکل بند ر سے ملتی تھی۔ انہوں نے رام اور راون کی جنگ میں رام کا ساتھ دیا اور ستیا کو لنکا سے ڈھونڈ کر لائے ۔اوباما نے پرادھیبا کو بتایا کہ وہ ہنو مان کو اپنے لئے بڑا مبارک سمجھتے ہیں اور 2008ء سے ہنو مان کی مورتی اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔ اوباما کے دورہ بھارت کی سب سے بڑی خبر یہی ہے کہ امریکہ کا صدر ایک ہندو بھگوان کو مانتا ہے۔ یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے وہ جسے مرضی مانیں جسے مرضی نہ مانیں لیکن خیال رکھیں کہ ان کے بیانات اور پالیسیوں سے جنوبی ایشیاء میں کشیدگی نہیں بڑھنی چاہئے۔ ویسے تو انہوں نے پاکستان کو اچھا سبق دے دیا ہے کہ امریکہ کسی کا دوست نہیں صرف اپنا دوست ہے لیکن اوباما کے دورہ بھارت کے بعد اوباما کی حالت پاکستان کے حکمرانوں سے کچھ مختلف نہیں ہے؎

نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم
نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.