.

ترک و اختیار کی طاقت

محمد بلال غوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چائے دنیا کی ہاٹ ڈرنکس میں سے مقبول ترین مشروب ہے۔ گزشتہ شب چائے کا مگ ہاتھ میں لئے غبار خاطر کو از سر نو پڑھنا شروع کیا تو یاد آیا کہ آج برصغیر کے عظیم مفکر اور دانشور مولانا ابو الکلام آزاد کا یوم وفات ہے۔ ان کے افکار و نظریات سے متعلق تو ایک مرتبہ پہلے بھی لکھ چکا ہوں سوچا کیوں نہ اس موقع پر ان کے ذوق سلیم کا حال بیان کیا جائے۔ مولانا آزاد چائے کے رسیا تھے مگر جس طرح کی چائے پاکستان کے بیشتر علاقوں میں پی جاتی ہے، ان کی پسند اس سے قطعاً مختلف تھی۔ اسیری کے دوران انہوں نے قلعہ احمد نگر سے لکھے ایک مکتوب میں چائے کی کم یابی اور اپنے ذوق کا ذکر نہایت خوبصورت انداز میں کیا ہے۔ چائے جو ان کی آسودگی، راحت اور آسائش کا سامان لئے ہوئے تھی، دستیاب نہ رہی تو اپنی بے سروسامانی کا اظہار زان الفاظ میں کیا : ’’اس کارگاہ سود و زیاں کی کوئی عشرت نہیں کہ کسی حسرت سے پیوستہ نہ ہو۔ یہاں زلال صافی کا کوئی جام نہیں بھرا گیا کہ درد کدورت اپنی تہہ میں نہ رکھتا ہو۔ بادہ ء کامرانی کے تعاقب میں ہمیشہ خمار ناکامی لگا رہا اور خندہ بہار کے پیچھے ہمیشہ گریہ خزاں کا شیون برپا ہوا‘‘ چائے کے ضمن میں مولانا کا زمانے سے اختلاف فروعی نہیں بنیادی نوعیت کا تھا۔وہ اس بات پر تعجب کا اظہار کیا کرتے تھے کہ بالعموم لوگ ہندوستان اور سیلون میں پیدا ہونے والی چائے نما کسی شے کی انواع وا قسام بیان کرتے ہیں اور باہم رد و کد کرتے ہیں کہ سیلون کی چائے بہتر ہے یا دارجلنگ کی ،مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ فریب خوردگان جسے چائے سمجھ رہے ہیں ،وہ تو سرے سے چائے ہے ہی نہیں، بلکہ چائے کے نام پر ایک تہمت ہے۔

چائے چینیوں کی ایجاد ہے اور برسہا برس سے استعمال کی جا رہی ہے مگر جب انگریز یہاں کے حکمران تھے تو انہوں نے برصغیر کے مرطوب اور بلند مقامات پر چین سے منگوائے گئے پودے لگا کر چائے کی کاشت کا تجربہ کیا، چائے نے تو اس فریب کاری کا حصہ بننے سے انکار کر دیا البتہ اس سے ملتی جلتی جو نسل پیدا ہوئی، ان زیاں کاروں اور ساہوکاروں نے اسی کا نام ہی چائے رکھ دیا۔ جب اور کچھ نہ بن پڑا تو چائے کو تقسیم کر دیا اور چینی چائے کو گرین ٹی جبکہ یہاں تیار کی گئی سیاہ فام چائے کو بلیک ٹی کہہ دیا۔ بقول مولانا آزاد، دنیا جو اس جستجو میں تھی کہ کسی نہ کسی طرح یہ جنس کمیاب و ارزاں ہو، بے سمجھے بوجھے اس پر ٹوٹ پڑی اور پھر گویا پوری نوع انسانی نے اس فریب خوردگی پر اجماع کر لیا۔ اس معاملے کا درد انگیز پہلو تو یہ ہے کہ خود چین کے ساحلی باشندے بھی اس عالمگیر فریب کی لپیٹ میں آگئے اور اسی پتی کو چائے سمجھ کر پینے لگے۔

ہمارے ہاں بہترین چائے کو اس کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے کہ لب ریز ہو، لب بام ہو اورلب سوز ہو۔ بعض لوگ تو اس قدر چینی انڈیل لیتے ہیں کہ چائے پر شربت کا گمان ہوتا ہے۔ مگر مولانا آزاد کا پیمانہ ہی کچھ اور تھا۔ لوگ چائے کو شکر اور دودھ کی غرض سے پیتے ہیں ،مگر مولانا آزاد چائے کو چائے ہی سمجھ کر پیا کرتے تھے۔جب انگریز چائے سے روشناس ہوئے تو انہوں نے چائے ایسے جوہر لطافت کو دودھ کی کثافت سے آلودہ و پراگندہ کرنے کی بدعت متعارف کروائی۔ یہ بدعت انگلستان سے انڈیا پہنچی تو لوگوں نے چائے میں دودھ ڈالنے کے بجائے دودھ میں چائے ڈالنا شروع کر دی۔ مولانا آزاد چائے کے ساتھ روا رکھی جانے والی اس بد سلوکی و بد تہذیبی پر کڑھتے ہوئے لکھتے ہیں، انگریز تو یہ کہہ کر الگ ہو گئے کہ زیادہ دودھ نہیں ڈالنا چاہئے لیکن ان کے تخم فساد نے جو برگ وبار پھیلا دیئے ہیں ،انہیں کون چھانٹ سکتا ہے۔ لوگ چائے کی جگہ ایک طرح کا سیال حلوہ بناتے ہیں، کھانے کی جگہ پیتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں کہ ہم نے چائے پی لی۔ مولانا آزاد جس چائے کے رسیا تھے، اسے وائٹ جیسمین یا گوری چنبیلی کہا جاتا ہے اور یہ ہمارے ہاں درآمدہ اس ’’پلنڈو‘‘یا ’’فلنڈو‘‘ سے ملتی جلتی شنی چائے ہے جسے پاکستان بھر میں پشاوری قہوہ کہا جاتا ہے۔ ان کے خیال میں لیموں کی ترکیب روس ،ترکمانستان اور ایران سے چلتی ہوئی ہندوستان میں پہنچی اور اس میں کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ لیموں کی قاش چائے کی لطافت کو نقصان نہیں پہنچاتی بلکہ اسے مزید نکھار دیتی ہے۔ اس میں ہلکی مٹھاس شامل کرنے کے لئے شوگر کے انتخاب کا معاملہ بھی ان کے نزدیک بہت حساس تھا۔اس بابت ایک جگہ لکھتے ہیں ’’شکر اگرچہ صاف کیے ہوئے رس سے بنتی ہے مگر پوری طرح صاف نہیں ہوتی۔اس غرض سے کہ مقدار کم نہ ہو جائے، صفائی کے آخری مراتب چھوڑ دیئے جاتے ہیں۔

نتیجہ یہ ہے کہ جونہی اسے چائے میں ڈالیں ،معاً اس کی لطافت متاثر اور ذائقہ کی گرانی چائے کے ذائقے پر غالب آ جاتی ہے۔چائے کے لئے تو ایسی شکر چاہئے جو بلو کی طرح بے میل اور برف کی طرح شفاف ہو۔ایسی شکر ڈلیوں کی صورت میں بھی آتی ہے اور بڑے دانوں کی شکل میں بھی۔میں ہمیشہ بڑے دانوں کی شفاف شکر کام میں لاتا ہوں اور اس سے وہ کام لیتا ہوں جو غالب گلاب سے لیا کرتے تھے:

آسودہ بادہ خاطر غالب کہ خوئے اوست
آمیختن بہ بادۂ صافی گلاب را

مولانا آزاد بھرپور زندگی گزارنے کے قائل تھے۔ چائے ،موسیقی اور سگریٹ کی علت سے متعلق یہ جوا زپیش کیا کرتے تھے کہ وہ حیات بھی کیا ہے جو اغلاط سے یکسر پاک ہواس روزگار خراب میں زندگی کو زندگی بنائے رکھنے کے لئے کچھ نہ کچھ غلطیاں ضرور کرنا چاہٗیں۔ مگر اس ضمن میں ان کا یہ فلسفہ میرے لئے بہت متاثر کن ہے کہ انہوں نے کبھی کسی عادت و علت کو اپنی کمزوری نہیں بننے دیا۔ 1921ء میں جب انہیں گرفتار کیا گیا تو معلوم ہوا کہ دوران اسیری تمباکو کے استعمال کی اجازت نہیں۔ پولیس کمشنر نے گرفتار کرتے وقت بہ اصرار کہا کہ سگریٹ کیس ساتھ رکھ لیں ۔مگر جانے کیا سوجھی کہ وہ سگریٹ کیس جیلر کو دان کر دیا اور دو سال تک کام و دہن کو سگریٹ کے دھویں سے آشنا نہ ہونے دیا ۔قید خانے میں سگریٹ نوشی کا سامان با آسانی دستیاب تھا، گھر سے کئی بار سگریٹ کے ڈبے بھجوائے گئے مگر سب قیدیوں میں تقسیم کر دیئے۔ اس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جب رہائی کا پروانہ جاری ہوا، جیلر نے اپنے دفتر میں بلوا کر سگریٹ کیس نکالا اور ازراہ تواضع و اکرام سگریٹ پیش کیا تو دو سال پہلے جس عزم صمیم کے ساتھ یہ عادت ترک کی تھی اسی درجے کی آمادگی اور اشتیاق کے ساتھ یہ پیشکش قبول کر لی۔ نہ ترک کرتے وقت کوئی دقت پیش آئی نہ اختیار کرنے میں کوئی تامل ہوا۔نہ محرومی پر ماتم کیا ،نہ حصول پر نشاط کا اظہار کیا۔ ہمارے ہاں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ عادتیں، علتوں کا روپ دھار لیتی ہیں اور علتیں نشے کے روگ میں بدل جاتی ہیں۔ اس حوالے سے مولانا آزاد کا زاویہ فکر ملاحظہ فرمائیے: ’’ترک و اختیار، دونوں کا نقش عمل اس طرح ایک ساتھ بٹھائیے کہ آلودگیاں دامن تر تو کریں مگر دامن پکڑ نہ سکیں ۔اس راہ میں کانٹوں کا دامن سے الجھنا مخل نہیں ہوتا، دامن گیر ہونا مخل ہوتا ہے۔کُچھ ضروری نہیں کہ آپ اس ڈر سے ہمیشہ اپنا دامن سمیٹے رہیں کہ کہیں بھیگ نہ جائے،بھیگتا ہے تو بھیگنے دیجئے لیکن آپ کے دست و بازو میں یہ طاقت ضرور ہونا چاہئے کہ جب چاہا ،اس طرح نچوڑ کے رکھ دیا کہ آلودگی کی ایک بوند بھی باقی نہ رہے۔ گویا:

تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو
دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کر یں

یہاں کامرانی سود و زیاں کی کاوش میں نہیںہے بلکہ سود و زیاں سے آسودہ حال رہنے میں ہے۔نہ تو تر دامنی کی گرانی محسوس کیجئے نہ خشک دامنی کی سبک سری،نہ آلودہ دامنی پر پریشان حال ہوں ،نہ پاک دامنی پر سرگراں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.