اٹ از ’’پی بیک ٹائم‘‘

محمد بلال غوری
محمد بلال غوری
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 8 منٹ

یہ جملہ بظاہر کس قدر پر کشش معلوم ہوتا ہے کہ اس قوم کو سڑکوں اور پلوں کی ضرورت نہیں ،تعمیراتی کام کے بجائے قوم سازی پر توجہ دی جائے ،اگر قوم کی تشکیل کا مرحلہ طے ہو گیا تو یہ سب کام خود بخود ہو جائیں گے۔؟بلاشبہ ہمیں ایسے معمار ہی درکار ہیں جو قوم سازی کا ہنر جانتے ہوں ،جو آئین نو سے ڈرنے اور طرز کہن پہ اڑنے کا کٹھن مرحلہ طے کروا سکیں ،جو ہمارے معاشرے کو جتھے یا ہجوم سے ایک قوم کے قالب میں ڈھال سکیں لیکن طرفہ تماشہ دیکھئے کہ سماعتوں میں رس گھولنے والی یہ بات کرنے والے تو سڑکیں اور پل بھی نہیں بناسکتے ،محض باتیں ہی بنا سکتے ہیں۔یہ قوم تب ٹھیک ہو گی جب اسے اعلیٰ کردار کی حامل بے داغ قیادت نصیب ہو گی اور ایسی قیادت عالمی منڈی سے نہیں خریدی جاسکتی ،جب ہم خود باکردار ہونگے تو اجلے کردار کی بے داغ قیادت خود بخود سامنے آجائے گی۔پہلے کونسا مرحلہ طے ہو ،یہ سوال ایسا ہی ہے کہ پہلے انڈہ آیا یا مرغی؟

بہر طور میں تو اس بات کا قائل ہوں کہ جب تک ہم اس نظام کو برا بھلا کہتے رہیں گے،زمانے کو گالیاں دیتے رہیں گے، حکمرانوں کو جھولیاں اٹھا اٹھا کر بد دعائیں دیتے رہیں گے ،پرنالہ وہیں رہے گا اور کوئی تبدیلی نہیں آئے گی کیونکہ آوے کا آوہ ہی بگڑا ہوا ہے۔گزشتہ چند دن لاہور کے کاروباری مراکز شاہ عالمی ،رنگ محل، بھاٹی، لوہاری، اکبری منڈی ،اردو بازار اور اس نوعیت کی دیگر بڑی تجارتی منڈیوں میں آمد و رفت رہی تو رہا سہا بھرم ،بچی کھچی امیدیں اور امیدوں کے ٹمٹماتے چراغ بھی بجھتے محسوس ہوئے۔ کپڑے دھونے والے سرف میں نمک کی ملاوٹ،چائے کی پتی میں چوکھارنگ چڑھانے کےلئے مصنوعی رنگ کی آمیزش،جانوروں کی انتڑیوں سے کھانے والے آئل کی تیاری کا مکروہ دھندہ اورنہ جانے کس کس طرح کا گھنائونا کاروبار کھلے عام ہوتا دیکھا۔

جعلسازی ،ملاوٹ اور دھوکہ دہی و فریب کاری کے ایک سے ایک بڑھ کر نسخے دستیاب ہیں بس شرط یہ ہے کہ آپ خام مال خریدنے پر آمادہ ہوں۔ ہر طرح کی جعلی مصنوعات ہو بہو دستیاب ہیں ۔تمام ملکی و غیر ملکی مصنوعات کی پیکنگ کا سامان مہیا ہے۔ہر مال، ہرچیز، ہر جنس موجود ہے۔ ایسنس کی ایک دکان پر کسی نے پوچھا،دودھ کا ایسنس دیدیں ،پھر طریقہ کار پر گفتگو ہونے لگی کہ کتنے لیٹر میں کتنا ڈالیں ،میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے اور دل کانپ گیا کہ دودھ کے نام پر ہم بچوں کو کیا پلا رہے ہیں ۔ایک اور بازار میں انکشاف ہوا کہ عالمی شہرت یافتہ مشروبات کی زائد المیعاد لاٹ خرید کر اس کی ایکسپائری ڈیٹ تبدیل کی جاتی ہے اور دھڑا دھڑ بیچا جاتاہے۔ غلط بیانی،جھوٹ،ناجائز منافع خوری اور اس نوعیت کی دیگر برائیاں تو اب پر کاہ کی حیثیت بھی نہیں رکھتیں ،دو نمبری کے میدان میں ہم بہت آگے بلکہ سب سے آگے نکل گئے ہیں۔پاپڑ منڈی سے متصل لوہاری کی میڈیسن مارکیٹ میں تو اخلاقیات اور انسانیت کا داخلہ یکسر ممنوع ہے۔

یہاں جان بچانے والی ادویات کا خام مال دستیاب ہے، گولیوں کی ڈبیاں ،ریپر ،لیبل ،کیپسول ،شربت کی پیکنگ دستیاب ہے ،بس مال لیں ،پیک کریں اور بیچ ڈالیں ۔چاہے کوئی جیئے یا مرے،آپ کے پیسے کھرے۔ پیسے کے ان پجاریوں نے اس شعبے کو بھی نہیں بخشا کہ کم از کم دوائیاں تو ایک نمبر دستیاب ہوسکتیں۔ ہوس کے ماروں نے ہر شے کا اعتبار اور ساکھ خاک میں ملا دیا ہے۔ایک دوست جو حال ہی میں چین کے کاروباری دورے سے واپس آئے ہیں ،انہوں نے بتایا کہ وہاں ہول سیل مارکیٹ میں گودام بنانے یا مال رکھنے کی اجازت نہیں۔دکاندار صرف سیمپل رکھتے ہیں ۔اگر خریدار سے بات چیت طے ہوجائے تو مال کی سپلائی ویئر ہائوس سے ہی ہوتی ہے۔

مگر ہمارے ہاں عمرو عیار کی زنبیل جیسے بازاروں میں ایسی کوئی قدغن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک دفعہ ان بازاروں میں داخل ہو جائیں تو نکلنا محال ہو جاتا ہے۔جن تنگ و تاریک گلیوں میں پیدل گزرنا دشوار ہوتا ہے ،وہاں لوڈر گاڑیاں گھسا لی جاتی ہیں اور پھر جو اژدہام کا عالم ہوتا ہے ،وہ سب کو معلوم ہے۔ سرنگوں اور شیطان کی آنت کی مانند پھیلے بازاروں کو دیکھ کر لگتا ہے اس ملک میں شعور نام کی کوئی چیز موجود نہیں ۔جس کے پاس دو مرلہ کی دکان تھی ،اس نے بھی پانچ منزلہ پلازہ کھڑا کر رکھا ہے۔دن کی روشنی میں معمول کے اوقات میں یہاں آنے کے بعد واپسی کا راستہ بھول جانے کے قوی امکانات ہیں مگر خدانخواستہ آگ لگ جائے یا کوئی اور حادثہ ہوجائے تو اس صورت میں تو بچ نکلنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایسی جگہوں پر آگ لگتی ہے تو سامان کے ساتھ ہی انسان بھی جل کر راکھ ہوجاتے ہیں۔ پلازے کھڑے کرنے والوں نے پارکنگ کےلئے کوئی جگہ مختص نہیں کی۔ ان تمام بازاروں میں تاجروں کی انجمنیں اور یونینز ہیں ۔ انجمن تاجران کے الیکشن نہایت زور و شور سے ہوتے ہیں لیکن عہدیداروں کو یہ توفیق نہیں ہوتی کہ مین بازار کے اطراف پارکنگ کا بندو بست کردیں ،دکانوں کے آگے سے تجاوزات ختم کرادیں ،آمد و رفت کے لئے کوئی قاعدہ قانون ،کوئی ضابطہ بنادیں ،جعلسازوں کو بے نقاب کریں ،،،اوہ سوری! معذرت خواہ ہوں ،ترنگ میں آکر نہ جانے کیا کچھ کہہ گیا ،اب بھلا وہ بیچارے خود اپنے خلاف کارروائی کیسے کریں ؟

اگر ہم میں سے مٹھی بھر لوگ بھی معاشرے کو تبدیل کرنے کا عہد کرلیں تو صورتحال بہتر ہو سکتی ہے۔لیکن ہم سے ہر ایک دوسروں کو تبدیل کرنا چاہتا ہے خود تبدیل ہونے کو تیار نہیں۔کم از کم سماجی برائیوں اور اخلاقی قباحتوں کے حوالے سے تو ہمیں حکومتوں پر تکیہ کرنے کے بجائے خود پہلا قدم اٹھانا ہو گا۔ یورپ کا وہ ترقی یافتہ معاشرہ جہاں سماجی برائیاں نہ ہونے کے برابر ہیں ،وہاں بھی راتوں رات تبدیلی نہیں آگئی بلکہ انہیں صدیوں کی مسافت طے کرنا پڑی۔ لندن میں بھی لوگ مسافروں کے لئے بنائی گئی انتظار گاہوں کا ناجائز استعمال کیا کرتے تھے باالکل ایسے جیسے ہمارے ہاں لوگ ان بنچوں پر سوجاتے ہیں۔اس کا تدارک کرنے کے لئے وہاں ترچھی سیٹوں والی نشستیں لائی گئیں ،جہاں بنچ تھے وہاں ان کے بیچ میں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر دستے لگا دیئے گئے تاکہ لوگ بیٹھ تو سکیں سو نہ سکیں۔ جن عمارتوں کی کھڑکیاں نیچے ہوا کرتی تھیں ،وہاں لوگ بیٹھ جایا کرتے تھے ایسے جیسے ہمارے ہاں آوارہ لڑکے کسی کی ڈیوڑھی کے باہرڈیرہ لگا لیتے ہیں۔

اس کا توڑ یہ نکالا گیا کہ ان کھڑکیوں میں میخیں لگادی گئیں ۔ابھی حال ہی میں جرمنی والوں نے دیوارکے ساتھ پیشاب کرنے والے کو سبق سکھانے کا ایک انوکھا طریقہ دریافت کیا ہے۔ہیمبرگ کے علاقے سینٹ پال میں دیواروں پر ’’الٹرا ایور ڈرائی‘‘ نامی پینٹ کیا گیا ہے جو کسی بھی سیال یا رقیق مادے کو واپس اچھال دیتا ہے۔اسے دیوار پر لگانے سے ایک ایسی پرت تیار ہو جاتی ہے جو پیشاب کے چھینٹے واپس اسی شخص پر اچھال دیتی ہے جو ایسی اوچھی حرکت کا مرتکب ہوتا ہے۔ اس حربے کو پی بیک ٹائم کہا جارہا ہے ،یعنی پیشاب لوٹانے کا وقت۔ ہمیں بھی یہاں سدھار لانے کے لئے اس طرح کے حربے اختیار کرنا پڑیں گے کیونکہ اٹ از پی بیک ٹائم۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size