پلیز!کشکول نہ توڑیں
دریائے چناب کے کنارے پر آباد چنیوٹ بہت پرانا اور تاریخی شہر ہے۔ یوں تو اس علاقے کے کئی معتبر حوالے ہیں مگر وجہ شہرت چنیوٹی فرنیچر ہے ۔ایسا بے مثال ،پائیدار اور نفیس فرنیچر دنیا کے کسی کونے میں نہیں بنایا جاتا۔ بعض روایات کے مطابق تاج محل اور گولڈن ٹیمپل کی تعمیر کے دوران لکڑی کا کام کرنے کے لئے یہاں کے کاریگروں کی خدمات حاصل کی گئی تھیں ۔اگر حکومت چاہتی تو اس فن تعمیر کو ایک انڈسٹری کی شکل دیکر برآمدات میں معقول حد تک اضافہ کیا جاسکتا تھا مگر کسی دور میں یہ بات ترجیحات میں شامل نہیں رہی۔حال ہی میں چنیوٹ شہر سے 3کلومیٹر کے فاصلے پر موجود رجوعہ نامی علاقہ میں لوہے،تانبے اور سونے کے ذخائر دریافت ہوئے تو یہ علاقہ عالمی سطح پر خبروں کا حصہ بن گیا ۔بتایا جا رہا ہے کہ ہزاروں ٹن پر مبنی ان ذخائر کو سوئٹرز لینڈ اور کینیڈا کی لیبارٹریوں میں ٹیسٹ کیا جا چکا ہے اور یہ معدنی ذخائر معیار کے لحاظ سے روس اور برازیل کے ذخائر سے مطابقت رکھتے ہیں۔ ابھی جشن شروع ہی ہوا تھا کہ بعض حاسدین نے یہ بے پر کی اڑا دی کہ جن ذخائر کو دریافت کرنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے ان کا ذکر تو قیام پاکستان سے قبل کئے گئے جغرافیائی سروے میں موجود ہے ۔ بھلا ہو میاں نواز شریف کا جنہوں نے جوش میں آ کر فوری طور پر کشکول توڑنے کے بجائے اس کار خیر کو ایک خصوصی تقریب تک ملتوی کردیا وگرنہ ہمیں حقیقت معلوم ہونے پر ایک نیا کشکول خریدنا پڑتا۔ ملک بھر میں اس دریافت پر خوشیوں کے شادیانے بجائے گئے لیکن میں کئی بار ارادہ کرنے کے باوجود چنیوٹ کے مکینوں کو مبارکباد نہیں دے سکا۔
میں مسرت و شادمانی کے ان لمحات پر رنگ میں بھنگ نہیں ڈالنا چاہتا لیکن میرا مشاہدہ یہی ہے کہ وسائل ہمارے جیسے معاشروں میں رحمت کے بجائے زحمت ثابت ہوتے ہیں۔ اگر معدنیات کے خزانوں سے ترقی و خوشحالی کی کرنیں پھوٹتیں تو سب سے زرخیز بلوچستان غربت و پسماندگی کے اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں نہ مار رہا ہوتا۔ اس بدقسمت صوبے میں کس چیز کی کمی ہے؟ لیکن جب غربت کے اعداد و شمار جمع ہوتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بلوچستان میں 52 فیصد افراد خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ چاغی کا ضلع جو معدنیات کے اعتبار سے پاکستان کا امیر ترین ضلع ہے، جہاں سینڈک پروجیکٹ سے پانچ سال کے دوران 8 ٹن سونا اور11.25 ٹن چاندی نکالی گئی،جہاں ریکوڈک کے علاقے میں سونے کا سب سے بڑا خزانہ دفن ہے، حکومتی تخمینوں کے مطابق یہاں سے کم از کم 1339.25 ٹن سونا اور 70 ٹن چاندی نکالی جاسکتی ہے، لیکن وہاں بیشتر گھروں میں بجلی نہیں ،پینے کو صاف پانی میسر نہیں۔ ان علاقوں میں غربت کے پیمانے معلوم کرنے ہوں تو امدادی کام کرنے والی تنظیموں سے پوچھیں۔ ایک علاقے میں میٹھے پانی کا کنواں کھودنے پر چند ہزار روپے خرچ ہوتے ہیں تاکہ خواتین پینے کا پانی لانے کے لئے کئی میل سفر کرنے کی مشقت سے بچ جائیں مگر اہل علاقہ کی استطاعت کا یہ عالم ہے کہ وہ مل کر یہ کنواں کھودنے سے قاصر ہیں۔ معدنیات نحوست کا استعارہ نہ ہوتیں تو آج سندھ کے 28 میں سے 8 اضلاع کے مکین غربت کی نام نہاد لکیر سے نیچے حشرات الارض کی سی زندگی نہ بسر کررہے ہوتے۔وہ صوبہ جو محصولات کی مد میں وفاق کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے،
جو سب سے زیادہ تیل و گیس پیدا کرتا ہے،جہاں کوئلے کے وسیع ذخائر موجود ہیں ،وہاں بیشتر علاقوں میں انسان اور حیوان ایک ہی گھاٹ سے پانی پیتے نظر آتے ہیں۔ کوئلے کے ذخائر کے اعتبار سے پاکستان دنیا بھر میں ساتویں نمبر پر ہے اور ان ذخائر میں سے 90 فی صد کوئلہ سندھ میں پایا جاتا ہے مگر جب پسماندگی کے تخمینے لگائے جاتے ہیں تو بلوچستان کے بعد سندھ کی باری آتی ہے جہاں 34 فیصد پاکستانی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ وسائل اور پسماندگی کیسے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کرچلتے ہیں ،اس بات کا اندازہ ضلع تھر پارکر سے لگایا جا سکتا ہے۔
اس ضلع کا ایک قصبہ نگر پارکر گرینائٹ کی دولت سے مالا مال ہے مگر یہاں سے 150 کلومیٹر کے فاصلے پر مٹھی اسپتال میں قریب المرگ انسان لائے جاتے ہیں اور معائنہ کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ انہیں غربت کا مرض لاحق ہے،غذائی اجناس کی عدم دستیابی کے باعث ان کی یہ حالت ہوئی ہے۔ ڈاکٹر دوائیاں دیکر رخصت کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو لواحقین ہاتھ جوڑ کر التجائیں کرتے ہیں کہ انہیں دوائیاں نہیں روٹی چاہئے ۔تھر کول پروجیکٹ جس کے چرچے چار دانگ عالم ہیں ،اسی بدقسمت ضلع میں موجود ہے جہاں 47 فی صد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔تھر کول پروجیکٹ کے دوران یہاں 184 بلین ٹن کوئلے کے ذخائر کی تصدیق ہو چکی ہے جس سے کئی سو سال تک توانائی کی ضرورت پوری ہو سکتی ہے مگر اسی علاقے کے سینکڑوں مکین ہر سال فاقوں کے باعث مرجاتے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں بھی معدنیات کی فراوانی ہے،یہ صوبہ بجلی کی پیداوار میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے ،یہی وجہ ہے کہ بالحاظ غربت یہ صوبہ تیسرے نمبر پر ہے اور یہاں 32 فیصد افراد خط غربت سے نیچے زندگی بسر کررہے ہیں۔
پنجاب میں مجموعی طور پر 19 فیصد آبادی غربت کی انتہائی حد کا شکار ہے۔لیکن یہ غربت کی نحوست انہی اضلاع پر منڈلاتی نظر آتی ہے جو وسائل اور پیداوار کے اعتبار سے مالا مال ہیں ۔جنوبی پنجاب کپاس کی پیداوار میں سرفہرست ہے مگر دختران قوم اس لئے تار تار کو ترستی ہیں کہ کپڑے بننے والی ملیں اور کارخانے بالائی پنجاب میں ہیں۔ راجن پور اور ڈیرہ غازیخان یورینیئم کی پیداوار اور افزودگی کے لحاظ سے سر فہرست ہیں مگر پسماندگی اور غربت کے اعتبار سے بھی پنجاب کے 36اضلاع میں سب سے آگے ہیں۔ وہ صوبہ جہاں خط غربت کی مجموعی شرح 19 فیصد ہے ،وہاں راجن پور میں 44 فیصد افراد خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ مظفر گڑھ میں 40 ڈی جی خان میں 36 ،بہاولپور میں 33،لیہ,پاکپتن اور لودھراں میں 31 ،جبکہ ملتان ،بھکر اور خانیوال میں 28 فیصد افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں ۔
چونکہ اس کالم میں غربت کی لکیر کا تذکرہ بار بار آیا ہے اس لئے لگے ہاتھوں اس کی وضاحت بھی ہوجائے۔غربت کے عالمی پیمانے کے مطابق جس کی آمدنی ایک ڈالر یومیہ ہے وہ غربت کی لکیر پر ہے،جس کی آمدنی ایک ڈالر یومیہ سے کم ہے وہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کررہا ہے یعنی جس شخص کی آمدنی 3000 روپے ماہانہ ہے ،وہ غریب نہیں ہے۔
ملک معدنیات کے ذخائر سے ترقی نہیں کرتے، خوشحالی کے سفر کا آغاز وسائل کی منصفانہ تقسیم سے ہوتا ہے۔ اگر مساوات نہ ہو تو معدنی وسائل ترقی و خوشحالی کا استعارہ بننے کے بجائے غربت و پسماندگی کی علامت بن جایا کرتے ہیں۔ جب ہمارے حکمراں کسی محروم و پسماندہ علاقے میں نمائشی نوعیت کے اقدامات کرکے احسان جتلاتے ہیں تو مجھے ارسطو یادآتا ہے جس نے کہا تھا ،عدم مساوات کی سب سے بدترین شکل یہ ہے کہ غیر مساوی چیزوں کو برابر لانے کی کوشش کی جائے۔اب آپ ہی بتائیے کہ سونے، چاندی، تانبے اور لوہے کے ذخائر دریافت ہونے پر چنیوٹ کے مکینوں کو مبارکباد دی جائے یا ان سے ہمدردی کا اظہار کیا جائے؟یہ خزانے تو دریافت ہوتے ہی رہتے ہیں مگر میری گزارش ہے کہ پلیز! کشکول نہ توڑیں ۔کیونکہ جب بھی کشکول توڑنے کا اعلان کیا جاتا ہے تو اس کے بعد پہلے کے مقابلے میں بڑا کشکول خرید لیا جاتا ہے۔
بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"