.

زی چنگ چی

محمد بلال غوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک طالبعلم جو لاہور کے پوش علاقے میں ہوم ٹیوشن پڑھا کر تعلیمی اخراجات پورے کرتا ہے،اس نے چند روز قبل بہت دلخراش واقعہ بیان کیا۔ وہ چار سالہ بچے کو پڑھا رہا تھا،اس کی کتاب پر بائیسکل کی تصویر بنی ہوئی تھی۔ اس نے معصوم بچے سے پوچھا’’بیٹا تمہیں پتا ہے یہ کیا چیز ہے؟‘‘بچے نے نہایت حقارت سے جواب دیا’’جی سر! یہ بائیسکل ہے جس پر غریب لوگ سواری کرتے ہیں‘‘آٹو موبائل انڈسٹری کے ترقی کرنے سے بائیسکل کے استعمال میں کمی ضرور آئی لیکن کسی بھی ملک میں اسے غربت کی علامت سمجھ کر مسترد نہیں کیا گیا۔ اس کے برعکس ہمارے ہاں بائیسکل کو ہمیشہ سے تنگدستی کا استعارہ سمجھا گیا۔ مرسڈیز ،بی ایم ڈبلیوز،فراری اور دیگر پرآسائش گاڑیاں دستیاب ہونے کے باوجود کوئی یورپی ملک ایسا نہیں جہاں 80 فیصد گھروں میں بائیسکل موجود نہ ہو۔ برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں شرکت کے لئے اکثر 10 ڈائوننگ اسٹریٹ سے بائیسکل پر روانہ ہوتے ہیں اور ایک سال کے دوران دو مرتبہ ان کی بائیسکل چوری ہو چکی ہے۔نیدرلینڈ جیسا امیر ملک جو جی ڈی پی کے اعتبار سے دنیا کا 16واں بڑا ملک ہے اور جسے یورپ کا اکنامک پاور ہائوس کہا جاتا ہے اس کے وزیر اعظم Mark Rutte اپنے گھر سے روزانہ بائیسکل پر ایوان وزیراعظم آتے ہیں۔

ایک اور خوشحال ملک ناروے کے وزیر اعظم Jens Stolenberg کی شاہی سواری کا نام بھی بائیسکل ہے۔ چند برس قبل Tony Abbott آسٹریلیا کے وزیر اعظم منتخب ہوئے تو ملکی معیشت کو بحران سے نکالنے کے لئے جہاں انہوں نے قوم کو سادگی کا درس دیا ،وہاں خود بھی کفایت شعاری و سادگی کی راہ اختیار کی اور پہلے دن سے لیکر آج تک بائیسکل پر دفتر آتے ہیں۔ چین میں وزراء کے ہاں بائیسکل کی سواری تو عام ہے ہی مگر سال میں ایک مرتبہ چینی وزیراعظم اپنی کابینہ کے ہمراہ علامتی طور پر بائیسکل کی سواری کرتے ہیں۔ بھارت میں بہت سے ارکان پارلیمنٹ اجلاس میں شرکت کے لئے بائیسکل پر آتے ہیں۔ چندروز قبل بھی بی جے پی کے رُکن اسمبلی ارجن رام بائیسکل پر پارلیمنٹ پہنچے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے حال ہی میں ارکان پارلیمنٹ سے اپیل کی ہے کہ کم از کم ہفتے میں ایک دن بائیسکل پر سواری کیا کریں۔ ہمارے ہاں بھی ضیاء الحق نے راجہ بازار میں بائیسکل چلانے کی نوٹنکی کی تھی لیکن حکام تو درکنار یہ سواری عوام میں بھی مقبولیت حاصل نہ کر سکی اور آج بھی اس پر وہی لوگ انحصار کرتے ہیں جن کی کوئی اور سواری خریدنے کی استطاعت نہیں۔

گزشتہ چند عشروں کے دوران بائیسکل کے استعمال میں معمولی کمی آئی مگر اب یہ صنعت پھر سے ترقی کی منازل طے کر رہی ہے۔توقع ہے کہ 2019ء تک بائیسکل انڈسٹری 65ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ اگرچہ بائیسکل انگریزوں کی ایجاد ہے مگر ایشیائی اقوام کو اس کے استعمال اور پیداوار کے لحاظ سے مغربی ممالک پر سبقت حاصل ہے۔ بھارت بائیسکل کی تیاری اور استعمال کے اعتبار سے دوسری بڑی مارکیٹ ہے۔بھارتی شہر پونا،ممبئی اور دہلی میں سائیکل سواروں کے لئے الگ ٹریک موجود ہیں۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق 40 فیصد گھر ایسے ہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرد سائیکل چلاتا ہے۔ گزشتہ برس بھارت نے صرف افریقہ کو 32ملین ڈالر کی بائیسکل فروخت کیں۔ بائیسکل سازی میں چین پہلے نمبر پر ہے اور سب سے زیادہ بائیسکل چلائی بھی چین میں ہی جاتی ہیں۔ چین میں گزشتہ برس تقریباً ایک ارب بائیسکل تیار کی گئیں جن میں سے 82 ملین سادہ جبکہ 37 ملین ای بائیسکل شامل ہیں۔ چین میں ان دنوں ای بائیسکل کی صنعت عروج پر ہے جس میں ریچارج ایبل بیٹری استعمال ہوتی ہے۔

اس وقت چین میں 120 ملین ای بائیسکل موجود ہیں۔ صرف بیجنگ میں 7سے 8لاکھ ای بائیسکل موجود ہیں۔ جبکہ اس کے مقابلے میں پورے امریکہ میں صرف 2 لاکھ ای بائیسکل ہیں۔ یوں تو چین میں بائیسکل سواروں کو ٹریفک قوانین کے اعتبار سے موٹر گاڑیوں پر فوقیت حاصل ہے اور ان کےلئے باسہولت سفر یقینی بنانے کا اہتمام کیا گیا ہے لیکن چند برس قبل ’’گرین بائیسکل‘‘ کے نام سے ایک نئی سہولت کا آغاز کیا گیا جو ان دنوں وہاں بیحد مقبول ہے۔ چین میں تمام رہائشی کالونیوں ،شاپنگ مالز،اہم دفاتر اور چوراہوں کے آس پاس بائیسکل اسٹینڈ بنائے گئے ہیں جہاں ترتیب سے بائیسکلیں اسٹینڈز پر مقفل ہوتی ہیں ۔انہیں حاصل کرنے کے لئے ایک پری پیڈ کارڈ درکار ہوتا ہے ،جونہی اس کارڈ کو سوئپ کریں ،بائیسکل کا تالا کھل جاتا ہے۔ یہ کارڈ 300 یوآن میں بن جاتا ہے۔ 200 یوآن بطور زر ضمانت ،10 یوآن اس کارڈ کی پروسیسنگ فیس اور 90 یوآن بطور پیشگی کریڈٹ۔ بائیسکل کا کرایہ ایک یوآن فی گھنٹہ ہے مگر پہلا گھنٹہ فری ہے ۔سہولت یہ ہے کہ آپ نے جہاں جانا ہے وہاں پارکنگ اسٹینڈ میں بائیسکل لگائیں اور جدھر مرضی چلے جائیں ،اس کی حفاظت کی ذمہ داری آپ کی نہیں ہے۔

مثال کے طور پر آپ نے منوڑا سے طارق روڈ آکر شاپنگ کرنا ہے تو منوڑا سے بائیسکل حاصل کریں، اگر آپ اسے ایک گھنٹہ گزرنے سے پہلے طارق روڈ پہنچ کر پارک کردیں اور واپسی پر نئی بائیسکل لے کر آجائیں تو پری پیڈ کارڈ سے کوئی کٹوتی نہیں ہوگی اور یہ سفر مفت ہو گا۔ اس طرح کی سروس سب سے پہلے برطانیہ میں ایک بنک کی طرف سے شروع کی گئی تھی جس میں ابتدائی بیس منٹ کا سفر مفت ہوا کرتا تھا۔ اب یہ سہولت دنیا کے بیشتر ممالک میں موجود ہے۔ ویانا ،برسلز ،ڈبلن، بارسلونا ،اٹلی اور اسپین سمیت کئی ممالک اور شہروں میں اس طرح کے بائیسکل اسٹینڈ موجود ہیں جہاں سے انتہائی معمولی کرائے پر بائیسکل لی جاسکتی ہے۔

بالخصوص جب سے ٹریفک کے مسائل نے سر اٹھایا اور گاڑیوں سے کاربن کے اخراج نے عالمی مسئلے کی حیثیت حاصل کی تب سے تمام ممالک میں بائیسکل پر سفر کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ کئی ممالک میں تو زیر زمین ٹیوب اور ٹرینوں میں بھی بائیسکل کے ہمراہ سفر کرنے کی سہولت موجود ہے۔ پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں ان دنوں بدترین ٹریفک جام کا مسئلہ شدت اختیار کرتا جارہا ہے۔ پارکنگ کے مسائل بھی دن بدن بڑھتے جارہے ہیں۔ چینی زبان میں بائیسکل کو زی چنگ چی یعنی از خود چلائی جانے والی سواری کہا جاتا ہے۔ یہاں زی چنگ چی تو نہیں ہے البتہ چنگ چی کی صورت میں آفت کا پر کالا موجود ہے۔ موٹر سائیکلز کرائے پر حاصل کرنے کا رجحان بھی ہے مگر انہیں بھی اپنی ذمہ داری پر پارک کرنا پڑتا ہے، چوری ہونے کا دھڑکا بھی لگا رہتا ہے۔ اگر صوبائی حکومتیں ابتدائی طور پر بڑے شہروں میں بائیسکل سواروں کے لئے الگ ٹریک بنائیں اور چین کی تقلید کرتے ہوئے تمام اہم مقامات پر پارکنگ اسٹینڈ بنا کر بائیسکل کرائے پر لنے کی سہولت مہیا کی جائے تو نہ صرف ٹریفک اور آلودگی کے مسائل کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے بلکہ واک اور ورزش کے لئے وقت نہ نکال سکنے والے افراد کو مہلک اور جان لیوا بیماریوں سے بھی بچایا جاسکتا ہے۔

چینی کلچر میں صحت اور بائیسکل کو لازم و ملزوم سمجھا جاتا ہے اور بائیسکل سواری سے متعلق بیشمار اقوال ہیں۔ مگر ہمارے ہاں تو واک اور ورزش کے لئے جانے والے بھی بائیسکل پر سوار ہونا گوارا نہیں کرتے کیونکہ یہ غریبوں کی سواری ہے۔ اگر صحت مند ،توانا اور خوشحال پاکستان کی جانب پہلا قدم بڑھانا ہے تو یہاں ’’زی چنگ چی‘‘ کا کلچر عام کرنا ہو گا۔

----------------------
بشکریہ روزنامہ "جنگ"
'العربیہ' کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.