کھٹمنڈو میں پاکستان کی پیدائش!

بشریٰ اعجاز
بشریٰ اعجاز
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

کھٹمنڈو میں پاکستان کی پیدائش کی خبر سنی تو ، یاد آیا ، ایک پاکستان 47ء میں بھی پیدا ہوا تھا۔ سچ مچ کاپاکستان! جس کے لئے مسلمانوں نے سر بھی کٹوائے، اور گھربار بھی لٹوائے، عزتوں اور جان و مال کی قربانیاں دے کر ، وہ ملک حاصل کیا، جس کی جنت میں رہنے کی خواہش ان کے دلوں میں مدتوں سے تڑپ رہی تھی۔ زخمیوں اور لاشوں سے بھری ہوئی ٹرینیں، جب لاہور اسٹیشن پر رکتی تھیں، تو ان سے نکلنے والے کٹے پھٹے بدحال لوگ، اس زمین پر سجدے گزارتے تھے۔ واہگہ اور اٹاری سے متعلق، اگر صرف اردو ادب کا ہی جائزہ لیا جائے تو ٹوبہ ٹیک سنگھ، کھول دو، گڈریا ،ٹھنڈا گوشت ،یا خدا، پنجر سمیت، ایسی ایسی دلگداز تحریری دکھائی دیتی ہیں، جنہیں پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے، یہ پاکستان جو، اس وقت کھٹمنڈو میں پیدا ہوا ہے۔۔۔ اور وہ پاکستان جو 47ء میں پیدا ہوا تھا، اسے قائم کرنے کے لئے، اس کے عشاق پر کیا گزری تھی۔

امرتا پریتم جب ’’اج آکھاں وارث شاہ نوں‘‘ کا نوحہ لکھ رہی تھی، تو اس وقت مسلمان عورتیں اور بچیاں، جبراً سکھوں کی تحویل میں، ان کی ’’ناجائز‘‘ اولادیں پیدا کر رہی تھیں، اپنے خاندانوں سے بچھڑ کر، اک طویل سزا کی طرف پیش قدمی کر رہی تھیں جبکہ یہی سزا، ہندو اور سکھ خواتین کو ، ہمارے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کرنے والے مسلمان مردبدلے میں سنا چکے تھے۔ بعد میں، جب سیٹل منٹ کے دوران دو طرفہ ہندو اور مسلمان عورتوں کے تبادلوں کا قانون پاس ہوا ، اور یہ تبادلے عمل میں لائے جانے لگے، تو کیسی کیسی درد ناک کہانیوں نے نہیں جنم لیا۔ کیسے کیسے دلگداز منظر انسانی آنکھ نے نہیں دیکھے، بلکتی ہوئی پروین کوروں کا، اپنے چٹیا والے سکھ والدین کے ، بچوں کو روتا بلکتا چھوڑ کر بھارت سے زبردستی پاکستان لایا جانا اور پاکستان سے ہندو عورتوں کا خدا بخش، کلثوم یا علی احمدنامی بچوں کو روتا بلکتا چھوڑ کر، زبردستی بھارت بھیجا جانا۔

ان اولادوں اور ماؤں پر بعد میں کیا گزری؟ ان کی مامتا کا استحصال کرنے والے ہمارے حکمرانوں اور سیاست دانوں نے کبھی یہ جاننے کی زحمت گوارا نہ کی کہ ان کے سامنے پاکستان نام کا ’’خوان‘‘ سجا تھا۔ بغیر محنت، کوشش اور قربانی کے، جو انہیں مل گیا تھا۔ چنانچہ 68 برسوں کی کہانی (اگر کہانی ہے تو) جتنی عبرت ناک ہے، اتنی ہی چشم کشا بھی ہے۔ اپنے پیارے ملک کا ایک حصہ محض 23 برسوں کے بعد گنوا کر، ہزار ہزیمتیں اٹھا کر، جب بنگالیوں کو ہمارے سیاست دان ، تم اُدھر، ہم اِدھر، کا فیصلہ سنا رہے تھے، تو اس وقت پاکستان پر کیا گزر رہی تھی؟ اس وقت اس کے عشاق کے دلوں کا کیا حال تھا؟ اس وقت اس نظریاتی مسلمان مملکت، جس میں قائداعظم نے شیر اور بکری کو ایک گھاٹ پر پانی پلانے کا خواب دیکھا تھا، اس میں طبقاتی اونچ نیچ نے، عوام کا کیا حشرنشر کر رکھا تھا؟ یہ تمام باتیں شاید، بعد کے ادوار میں محض افسانہ بن کر رہ گئی ہیں، جس کی بازگشت قائد کے اقوالِ زریں کی شکل میں کبھی کبھار جب واہمے کی طرح ابھرتی ہے، تو بھولے ہوئے ذہنوں کو یاد پڑتا ہے، ’’ہم لائے تھے طوفان سے کشتی نکال کر‘‘۔ وگرنہ، نوزائیدہ مملکت کے پہلے 23 برسوں کا قصہ ہی اتنا تلخ، اتنا عبرت انگیز ہے کہ اس کے بعد کے ادوار کا اندازہ لگاناچنداں مشکل نہیں لگتا۔

اس وقت میرا ملک بھانت بھانت کے سیاست دانوں، اور بھانت بھانت کے ملک دشمن عناصر کے چنگل میں پھنسا ہوا ہے۔ مہاجر، جنہوں نے اس ملک کے لئے عظیم قربانیاں دیں، ان پر ’را‘ سے رابطوں کا الزام لگ چکا ہے، یہ وہ لوگ ہیں جب سیاسی جماعت کے طور پرمنظم اور متحرک ہوئے تو ، انہوں نے کراچی کی رگوں اور نسوں پر قبضہ کرلیا۔ یہ قبضہ کتنا خوفناک اور مہلک تھا، اس سے کون واقف نہیں، پچھلے تین عشروں سے کراچی، جو نوزائیدہ پاکستان کا دارالحکومت تھا، اور ایک شاندار بین الاقوامی ساحلی شہر تھا، اسے جیتے جاگتے انسانوں کا قبرستان بنا کر رکھ دیا گیا۔ لسانیت اور صوبائیت کا نعرہ بلند کرکے سندھیوں اور مہاجروں کے مابین نفرتوں کی دیواریں کھڑی کر دی گئیں۔ کیا عوام کیا خواص، دونوں طبقے اس شورش ، اس وحشت کا بری طرح شکار ہوگئے۔ خوف ایسا، لب بستگی اس درجہ کی، کہ کوئی آہ نہ فریاد، حتیٰ کہ مرنے والے، کفن کے بجائے بوریوں میں بند، زمین میں اتارے جانے لگے۔

باقی، صوبوں میں بھی کہیں جاگ پنجابی کا نعرہ بلند ہوا، تو کہیں پشتون اور بلوچ کی محرومیاں، زیب داستان ہوئیں۔ سیاست دانوں اور حکمرانوں سمیت ، فوجی آقاؤں (مارشل لاء ایڈمنسٹریٹوز) نے، ان محرومیوں کے سدباب کے بجائے ، شعوری و لاشعوری کوششوں سے پاکستان کو پاکستانیت، یعنی مرکز سے ہٹانے کی سازش میں کسی نہ کسی طرح سے اپنا کردار ادا کیا۔ اور بجائے پاکستانیوں کو پاکستان کے جھنڈے تلے متحد رکھنے کے، صوبائیت، قوم پرستی ، لسانیت، فرقہ واریت اور مسلکی معاملات میں الجھا کر، باقاعدہ، انہیں فرد فرد کرنے کے لئے سعی کی۔

اب یہ ملک ان تمام تر کوششوں کے نتیجے میں وہ بن چکا ہے، جو اسے ہمارے زمینی آقا بنانا چاہتے تھے تاکہ ہمیں گروہوں میں تقسیم کرکے، ہم پر اپنے اپنے ایجنڈے نافذ کریں، اور ہمیں اپنا مطیع و فربانبردار بناتے چلے جائیں۔ لہٰذا اگر میںیہ کہوں تو کچھ زیادہ بے جا نہ ہوگا، کہ یہ ملک اس وقت غلام رویوں کا ملک بن چکا ہے۔ جسے طرح طرح کے امراض نے گھیر رکھا ہے، حال یہ کہ آصف زرداری، جس کے بارے میں بچہ بچہ، جانتا ہے، یہ شخص مالیاتی معاملات میں کتنا داغدارہے۔ اور مسٹر ٹین پرسنٹ سے لے کر، زرداری سب پر بھاری تک کا سفر، اس شخص نے کیسے طے کیا ہے ، مگر عجیب بات کہ اس پر کبھی کوئی کرپشن، کوئی جرم ثابت نہیں ہو سکا۔ یعنی یہ شخص عدالتوں اور قانون کی طرف سے صاف و شفاف کردار کی سند حاصل کر چکا ہے۔ اس کے بعد وہ تمام، سفید کالر اشخاص، جنہوں نے اس ملک کے ادارے ہڑپ کر لئے، بینکوں کو دیوالیہ کردیا، نیب کو خرید لیا، حتیٰ کہ اللہ کے مہمانوں کا رزق بھی کھا گئے۔

ان کا ذکر ہی کیا! کہ یہ ملک جسے کرپشن میں اپ گریڈ کرنے کے لئے، ان تمام ’’مہربانوں‘‘نے اتنی محنت کی ہے، اب اس کا حال یہ ہے، کہ قومی ادارے نجکاری کے لئے تیار ہیں۔ ریکوڈک سمیت، تمام نئے اور پرانے معدنیاتی ذخائر کے اندرخانے سودے ہو چکے۔ ارسلان افتخار اور ملک ریاض نما، جونکوں نے اس ملک کا خون نچوڑ نچوڑکر، خود کواتنا دیوقامت کر لیا کہ کوئی ان پر انگلی نہیں اٹھا سکتا۔ لینڈ مافیا، اور کرپٹ لیڈر شپ نے میرے پاکستان کو اتنا نحیف و نزار کرکے رکھ دیا ہے کہ آج جب کھٹمنڈو میں اس کی پیدائش کی خبر سنی، تو بجائے شکر ادا کرنے کے، اس کے بارے میں دل سے ہول اٹھنے لگے۔ یہ ہول، ہر اس پاکستانی کے دل کا درد ہیں، جو اسے خوان نہیں، اپنا وطن سمجھتا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں