کاسمیٹک سرجری

محمد بلال غوری
محمد بلال غوری
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 9 منٹ

فیشن کی چاہ نے انسان کو ایک ایسی راہ دکھائی ہے جہاں سفر ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔انسان حسن پرستی کا خوگر تو شروع سے ہی ہے اور بنائو سنگھار کی تاریخ بھی اتنی ہی پرانی ہے جتنی خود انسان کی مگر یہ حشر سامانی عصر حاضر کا ہی اعجاز ہے کہ نین نقش تبدیل کرنے کی سبیل بھی پیدا کر لی گئی ہے۔اگر آپ کی ناک چپٹی ہے اور آپ اس کی تراش خراش کے خواہاں ہیں تو اسے موم کی ناک ہی سمجھیں کیونکہ اسے آپ کی خواہشات کے عین مطابق موڑا جا سکتا ہے۔ آپ ہونٹوں کو گلاب کی پنکھڑیوں جیسا حسین بنوا سکتے ہیں ،ڈھلکی ہوئی جلد اتروا سکتے ہیں، لائپو سکشن کے ذریعے پیٹ کی چربی نکلوا کر سلم اور اسمارٹ ہوا جا سکتا ہے، گنجے پن کی شکایت ہے تو ہیئر ٹرانسپلانٹ کے ذریعے نئے بال اگائے جاسکتے ہیں۔

اس نوع کی تبدیلیوں کو پلاسٹک یا کاسمیٹک سرجری کا نام دیا گیا ہے اور یہ وہ صنعت ہے جسے گزشتہ دس سال کے دوران سب سے زیادہ عروج حاصل ہوا ہے۔صرف امریکہ میں گزشتہ برس 14.6 ملین افراد نے کاسمیٹک سرجری کروائی اور اس پر خرچ کی گئی رقم کا تخمینہ 22 ارب ڈالر لگایا گیا۔ وہ لوگ جنہیں یہ لت لگ گئی اور معاشی تنگدستی نے آلیا،انہوں نے اس چونچلے کو جاری رکھنے کا ایک اور طریقہ ڈھونڈلیا۔جب وہ کسی ترقی پذیر ملک میں گئے تو انہیں معلوم ہوا کہ یہاں کاسمیٹک سرجری کے اخراجات وہاں کے مقابلے میں کئی گنا کم ہیں۔

مثلاً وہی ہیئر ٹرانسپلانٹ جو لندن میں 4 لاکھ روپے سے کم میں نہیں ہوتا، بھارت کے کسی بھی شہر میں اس کی لاگت زیادہ سے زیادہ ایک لاکھ روپے آتی ہے۔ چنانچہ میڈیکل ٹورازم کے نام پر ایک نئے ٹرینڈ نے جنم لیا اور ترقی یافتہ ممالک کے شہری دھڑا دھڑ بھارت کا رُخ کرنے لگے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ،کلکتہ ،ممبئی،دہلی،اندور سمیت بھارت کےدرجنوں شہر کاسمیٹک سرجری کےلئے آنے والے غیر ملکیوں سے بھر گئے۔ گزشتہ برس کم و بیش ساڑھے تین لاکھ غیر ملکیوں نےطبی سیاحت کی غرض سے بھارت کا دورہ کیا اور اس سے 2 بلین ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا۔ بھارت کی دیکھا دیکھی پاکستانی پلاسٹک سرجنز نے بھی بہتی گنگا سے ہاتھ دھونے کی کوشش کی اور گزشتہ پانچ سال کے دوران ہمارے ہاں کاسمیٹک سرجری کے کلینک خود رو جھاڑیوں کی طرح اُگتے چلے گئے۔ یہ کوشش کسی حد تک رنگ لائی اور آج آٹے میں نمک کے برابر ہی سہی لیکن پاکستان کا بھی طبی سیاحت میں حصہ ہے۔ ہر سال سینکڑوں غیر ملکی اور سمندر پار پاکستانی ان کلینکس کا رُخ کرتے ہیں جس سے اربوں نہیں تو کروڑوں ڈالرز کا زرمبادلہ ضرور حاصل ہوتا ہے۔

پاکستان میں تو ایسے ایسے باکمال افراد موجود ہیں جو کسی پلاسٹک سرجن کی خدمات حاصل کئے بغیر ہی چہرے بدل کر آجاتے ہیں اور چھا جاتے ہیں ۔کبھی سیاست کے میدان میں ان افراد کی بہتات ہوا کرتی تھی مگر اب صحافت کے میدان میں بھی ان کی کوئی کمی نہیں۔ جب منجدھار میں پھنسے جہاز کے پیندے میں سوراخ ہونے لگے اور ٹائی ٹینک ڈوبنے لگا تو شکستہ بادبانوں کی اوٹ میں اونگھتےان پارسائوں کا ضمیر بول پڑا ۔ انہوں نے حالات کی نزاکت کا بروقت اِدراک کرتے ہوئے وقتی منفعت کے بدنماء چہرے پر پارسائی کی لیپاپوتی کی اور نئی منزلوں کی جستجو میں نکل کھڑے ہوئے۔ میں تو خود کو صحافت کا ادنیٰ طالبعلم شمار کرتا ہوں مگر جان کی امان پائوں تو کچھ سوالات اٹھانے کی گستاخی کروں ؟جب پہلی بار میرے کانوں میں یہ گونج سنائی دی کہ axact نامی ایک کمپنی کی کوکھ میں ایک نئے میڈیا گروپ کو سینچا جا رہا ہے مگر یہ بچہ جنم لیتے ہی دوڑنے لگے گا اور مسابقت کی دوڑ میں سب کو پیچھے چھوڑ دے گا تو بطور جرنلسٹ میرے ذہن میں پہلا سوال یہ آیا کہ کسی بچے کی پیدائش سے پہلے ہی یہ دعویٰ کیسے کیا جاسکتا ہے کہ وہ افزائش کے فطری مراحل سے گزرے بغیر بڑا ہوجائے گا؟

جب جدید ترین ٹیکنالوجی ،اسٹوڈیوز ،لگثری سوئمنگ پولز، پر آسائش دفاتر اور دیگر تفصیلات سامنے آئیں تو ایک اور سوال نے انگڑائی لی کہ اس نیوز چینل کا اسپانسر کون ہے؟بتایا گیا کہ axact نامی ایک کمپنی ہے جس کا شمار دنیا کی صف اول کی آئی ٹی کمپنیوں میں ہوتا ہے،یہ سوفٹ ویئر بیچتی ہے اور اس کا پبلسٹی بجٹ اتنا ہے کہ اس میں میڈیا گروپ لانچ کیا جاسکتا ہے۔ صحافیانہ جستجو کے پیش نظر میں نے ایک اور سوال کا تعاقب کرنا شروع کیا کہ اگر axact کا شمار صف اول کی آئی ٹی کمپنیوں میں ہوتا ہے تو اس سے پہلے کسی نے اس کا نام کیوں نہیں سنا۔ میں نے بہت سے باخبر صحافیوں سے یہ سوال پوچھا کہ کیا اس سے پہلے کبھی آپ نے اس کمپنی کا نام سنا تھا؟ کسی ایک صحافی نے بھی اس سوال کا جواب ہاں میں نہیں دیا۔اس کے بعد جب بزعم خود سب سے بڑے میڈیا گروپ کا چرچا ہوا ،بڑے بڑے صحافی جن کی اپنے اداروں سے رفاقت سالہا سال پر مشتمل تھی، داغ مفارقت دینے لگے اور ان کو دی جانے والی تنخواہوں کی خبریں مجھ تک پہنچیں تو شک کا دائرہ مزید پھیلتا چلا گیا۔ ایک شخص جسے اپنے سابقہ ادارے میں 12 لاکھ روپے تنخواہ دی جا رہی تھی ،اس کی خدمات ایک کروڑ سے زائد ماہانہ معاوضہ کے عوض حاصل کی گئیں تو مجھے چند برس قبل اپنے ساتھ ہونے والا ہاتھ یاد آگیا۔

میں لاہور میں اپنے لئے کرائے کا گھر دیکھ رہا تھا کہ اس دوران اخبار کے ایک کلاسیفائید اشتہار نے میری توجہ مبذول کی۔ ماڈل ٹائون لنک روڈ پر پانچ مرلہ کا ایک گھر مارکیٹ سے کئی گنا کم قیمت پر مل رہا تھا۔جس کی گھر کی مالیت کم از کم 70 لاکھ ہونا چاہئے تھی،بیچنے والے نے اس کی ڈیمانڈ ہی 25 لاکھ کی۔ گھر بہت موزوں اور مناسب تھا،بظاہر کاغذات بھی مکمل تھے مگر ایک ہی بات دل میں کھٹکتی تھی کہ آخر یہ گھر کوڑیوں کے مول کیوں بیچا جارہا ہے۔ بہت سے دوستوں نے اس معاملے سے دور رہنے کا مشورہ دیا لیکن میں لالچ میں ا گیا اور پھر لالچ کا کیا نتیجہ نکلا،یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔ یقینا لالچ بُری بلا ہے لیکن کس قدر بُری بلا ہے ،یہ بات مجھے پیسے لٹانے کے بعد معلوم ہوئی۔ اپنا معیار زندگی بہتر بنانا اور معقول معاوضہ حاصل کرنے کے لئے تگ و دو کرنا ہر شخص کا بنیادی حق ہے مگر بہت باخبر صحافی جو اڑتی ہوئی چڑیا کے پر گن لیتے ہیں، جنہیں چند منٹ کی ملاقات میں ہی معلوم ہو جاتا ہے کہ ان کا مخاطب شخص جھوٹ بول رہا ہے یا سچ کہہ رہا ہے، انہیں کیسے معلوم نہ ہو سکا کہ جس شخص کے ہاں وہ ملازمت کرنے لگے ہیں اس کا اصل دھندہ کیا ہے؟ اور جب انہیں مارکیٹ کے مقابلے میں تین گنا زائد تنخواہیں اور مراعات دی جا رہی تھیں تو تب انہیں ضمیر کی خلش کیوں محسوس نہ ہوئی؟

اس میڈیا گروپ کے اغراض و مقاصد بھی یہی بیان کئے جارہے تھے کہ یہ دنیا بھر میں پاکستان کا سوفٹ امیج پیش کرے گا یعنی سرجری زدہ چہرہ ۔ مگر اتائی سرجنز کی اس کاسمیٹک سرجری کے نتیجے میں ہمارے ملک کا چہرہ پہلے سے بھی زیادہ بدنما ہو گیا اور اس پر ایک اور داغ کا اضافہ ہو گیا۔ گاہے خیال آتا ہے کہ ہم باطن کے بجائے ظاہر پرست کیوں ہیں؟کیا کوئی ایسی سرجری نہیں ہو سکتی جو ہماری عادات و اطوار کو بدل دے،کوئی ایسی سرجری جو ہمارے مزاج اور طبیعت میں انقلاب برپا کردے ،کوئی ایسی سرجری جو ہمارے ظاہری خال و خد کے ساتھ ساتھ قلب و نظر کی تراش خراش بھی کردے؟

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size