کاش ہم مکھیاں ہوتے

محمد بلال غوری
محمد بلال غوری
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 9 منٹ

بجٹ سے قبل پیش کئے گئے اقتصادی سروے میں حیوانوں کی افزائش نسل کے حوالے سے نہایت دلچسپ اعداد و شمار سامنے آئے تھے مگر موضوعات کی بھیڑ میں کہیں کھو گئے۔ میاں صاحب نے چند روز قبل کراچی میں ٹارگٹ کلنگ اور اسکے نتیجے میں باقاعدگی کے ساتھ ہونے والی ہڑتال سے اکتا کر کہا کہ کوئی مکھی بھی مر جائے تو شہر بند ہو جاتا ہے۔ اگرچہ ان دنوں موضوعات میں کوئی تال میل تو نہیں مگر نہ جانے کیوں مجھے ان دونوں باتوں میں بہت قدریں مشترک معلوم ہوئیں۔ نواز شریف کی یہ بات بہت سوں کو ناگوار گزری مگر میں اس سے پوری طرح متفق ہوں کہ مکھیوں کے قتل عام پر شہر کی رونقیں ماند نہیں پڑنا چاہئیں اور زندگی کو رواں دوان رہنا چاہیے۔

اسی سوچ کے زیر اثر یہ خیال آیا کہ تحریر کو ان حقیر مکھیوں کے ذکر تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔ تو دلچسپ بات یہ تھی اقتصادی سروے میں کہ ارض وطن میں گدھوں کی تعداد 4.5 ملین سے بڑھ کر پانچ ملین ہو گئی ہے۔ یعنی پانچ لاکھ مید گدھے بار برداری کیلئے دستیاب ہوں گے۔ جبکہ گدھوں کے مقابلے میں گھوڑوں کی تعداد میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ تشویشناک بات ی ہے کہ گھوڑے نہیں ہوں گے تو ہارس ٹریڈنگ کیسے ہو گی؟ یقینا تعجب کا کوئی پہلو نہیں اس بات میں مگر تشویش کا عنصر ضرور شامل ہے کہ ہمارے ہاں گدھوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ پرویز مشرف کے دور میں ایک دہائی کے دوران 6 لاکھ گدھوں کا اضافہ ہوا، پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ دور اقتدار میں 4 لاکھ نئے گدھے مارکیٹ میں آئے جبکہ نواز شریف کے سنہری دور میں پہلے ہی سال گدھوں کی آبادی میں ایک لاکھ کا اضافہ ہو گیا۔

گدھوں کی بڑھوتری کے حوالے سے میاں صاحب کا ٹریک ریکارڈ بہت اچھا ہے۔ 1997ء میں جب وہ دوسری مرتبہ وزیر اعظم بنے تو پاکستان میں گدھوں کی تعداد ء میں جب وہ دوسری مرتبہ وزیر اعظم بنے تو پاکستان میں گدھوں کی تعداد 3.2 ملین تھی مگر جب بارہ اکتوبر 1999ء کو پرویز مشرف نے اقتدار چھینا تو اس وقت تک گدھوں کی تعداد 3.8 ملین ہو چکی تھی۔ پہلے پہل تو جنرل پرویز مشرف نے حالات کے تقاضوں کے پیش نظر گھوڑوں کی بڑھوتری پر توجہ دی کیونکہ جرنیلوں کا شوق گھڑسواری کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ مگر جب ٹھی ڈالنے کے لئے گھوڑے مطلوبہ تعداد میں میسر نہ ہو سکے تو انہوں نے گدھے گھوڑے کا فرق ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ پالتو جانوروں میں بھینس، بکریوں اور بھیڑوں کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ بھینس بھوری ہو یا کالی ، نری بھینسیں ہی ہوتی ہے اس کے آگے بین بجانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ پنجابی میں اسے مج کہتے ہیں اور گاؤں کی لڑکیاں اسے نہلانے کے بہانے اکثر عشق لڑاتی نظر آتی ہیں۔ بھینس کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہ جثے کے اعتبار سے عقل سے بڑی ہوتی ہے۔

بہر حال قابل ذکر بات یہ ہے کہ بھینسوں کی تعداد میں دو سال کے دوران ایک ملین کا اضافہ ہوا ہے اور اب پاکستان میں بھولی مجوں کی تعداد بڑھ کر 35.6 ملین ہو گئی ہے۔ بکریاں جو ہر وقت میں میں کرتی رہتی ہیں انکی تعداد 1.8 ملین ہے۔ جبکہ بھیڑیں لگ بھگ تین لاکھ ہیں۔ مجھے یقین تھا کہ یہ اقتصادی سروے پوری تحقیق کے بعد ذمہ داری کے ساتھ مرتب کیا گیا ہوگا مگر اس میں بھیڑوں کی تعداد تین لاکھ ہیں۔ مجھے یقین تھا کہ یہ اقتصادی سروے پوری تحقیق کے بعد ذمہ داری کے ساتھ مرتب کیا گیا ہوگا مگر اس میں بھیڑوں کی تعداد ملاحظہ کرنے کے بعد یہ یقین متزلزل ہونا شروع ہو گیا ہے کیونکہ میرے اندازے کے مطابق اس ملک میں لگ بھگ 18 کروڑ بھیڑیں موجود ہیں۔ پھر خیال آیا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ بھیڑیں اپنی فطری جبلت کے ہاتھوں مجبور ہو کر کسی گہرے کنویں یا کھائی مٰں گر گئی ہوں۔ کنویں والی بات کا پس منظر یہ ہے کہ ہمارے دوست ملک مبشر احمد خان جو ان دنوں ڈی آئی جی جیل خانہ جات ہیں، انہوں نے بھیڑ چال سے متعلق بہت تاریخی بات بتائی ۔

انہوں نے کہا کہ زمانہ طالبعلمی میں ایک بار استاد محترم ریاضی پڑھا رہے تھے، جمع تفریق سے متعلق لیکچر دینے کے بعد انہوں نے ایک لڑکے سے پوچھا یہ بتاؤ پانچ بھیڑیں ایک دوسرے کے پیچھے چل رہی ہیں اگر ان میں سے ایک بھیڑ کنویں میں گر جائے باقی کتنی بچیں گی؟ اس طالب علم نے حساب کتاب لگائے بغیر کہا، استاد جی باقی کوئی بھی نہیں بچے گی۔ استاد جی نے غصے سے کہا ، نالائق ، تمہیں حساب کی الف بے بھی نہیں آتی۔ سیدھا سادھا سوال تھا، پانچ میں سے ایک کنویں میں گر گئی تو باقی چار رہ گئیں۔ شاگرد نے ادب سے کہا استاد جی ، مجھے حساب کتاب کا کچھ پتہ نہیں مگر آپ کو بھیڑوں کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔ اگر ایک کنویں میں گرے گی تو باقی چار بھی اسکے پیچھے کنویں میں گر جائیں گی۔ اس اقتصادی سروے میں مکھیوں کی تعداد اور انکی افزائش نسل سے متعلق کوئی اعداد و شمار دستیاب نہیں ۔ یہ تفصیل بھی فراہم نہیں کی گئی کہ گزشتہ سال کے دوران کتنی مکھیاں ماری گئیں اور انکے مارے جانے کی وجوہات کیا تھیں۔ اس تغافل کی وجہ یقینا یہی ہوگی کہ اب ان حقیر مکھیوں کے اعداد و شمار کون جمع کرتا پھرے۔ یہ تو پیدا ہی اس لئے ہوتی ہیں کہ تلف کر دی جائیں۔ مگر یہ مغربی معاشرہ بھی کس قدر احمق اور بدھو ہے ، اسے یہ فکر لاحق ہے کہ معاشرے میں مکھیوں کی تعداد بتدریج کم ہوتی جا رہی ہے

ناروے مین شہد کی مکھیوں کی تعداد معقول ہے اور 35 اقسام کی مکھیوں میں سے محض 6 نوع کی مکھیوں کے معدوم ہونے کا خطرہ ہے مگر اوسلو گارڈن سوسائٹی کی جانب سے سینکڑوں میل طویل ایک شاہراہ تعمیر کی گئی ہے جو صرف ان شہد کی مکھیوں کے لئے مخصوص ہوگی۔ اس روٹ پر ہر فٹ کے فاصلے پر ایک فیڈنگ کاریڈور تعمیر کیا گیا ہے جہاں شہد کی مکھیوں کو غزائی اجناس فراہم کی جائیں گی۔ اسکے علاوہ 820 کے دونوں طرف انواع و اقسام کے پھل اور پھولدار پودے لگائے گئے ہیں۔

گزشتہ سے پیوستہ ماہ یہ Bee Highway اس خبر پڑھی تھی کہ فرانس میں ایک نیشنل ہائی وے کا روٹ اس لئے تبدیل کر دیا گیا ہے کہ جب شدید سردیوں کے موسم میں شہد کی مکھیاں صحت افزا مقامات کی طرف ہجرت کرتیں تو راستے میں گاڑیوں سے ٹکرا کر مر جاتی ہیں۔

جب حکام کو یہ بات معلوم ہوئی کہ ہر سال 30 سے 50 لاکھ مکھیاں ٹریفک کی زد میں آ کر ہلاک ہو جاتی ہیں تو انہوں نے مکھیوں کی ہجرت کیلئے مخصوص دو ماہ کے دوران اس روٹ پر ٹریفک بند کر دینے کا فیصلہ کیا۔ اب مکھیاں بلا خوف و خطر سفر کرتی ہیں۔ ان مکھیوں کی قدر اس لئے کی جاتی ہے کہ دنیا بھر کے سائنسدانوں کے مطابق اگر اس کائنات سے مکھیوں کا مکمل طور پر خاتمہ ہو گیا تو یہ دنیا زیادہ سے زیادہ پانچ سال تک اپنا وجود برقرار رکھ پائے گی۔ اگر یہ مکھیاں ختم ہو گئی تو 453 غذائی اجناس میں سے 237 فوری طور پر نایاب ہو جائیں گی۔ اگر مکھیاں نہیں ہوں گی تو لوگ سیب، آم ، آڑو، لیموں ، کھیرے ، گاجر اور پیاز کے لئے ترس جائیں گے۔ وزیر اعظم کے بیان کی طرف دھیان جاتا ہے تو دل میں یہ حسرت انگرائی لیتی ہے کہ کاش ہم 18 کروڑ پاکستانی شہد کی مکھیاں ہوتے اور ناروے یا فرانس جیسے کسی غیر اسلامی ملک میں پیدا ہوئے ہوتے تو آج ہمیں بھی انسانوں سے بڑھ کر حقوق حاصل ہوتے، ہمیں حقیر نہ سمجھا جاتا اور ہمارے مرنے پر محض شہر بند نہ ہوتے ملک و دنیا بھر میں کیا امیج جاتا۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size