بھارتی گاؤں اور دو دھنیال!
دل میں باقاعدہ اس حسن کا شور مچ چکا تھا۔ میں نے شاید سفرنامۂ بھارت ’’آنکھیں دیکھتی رہتی ہیں‘‘ میں کہیں لکھا تھا کہ ’’ میرے اندر کوئی ایسی خرابی ہے، میں حسن کی فراوانی یعنی زیادہ حسن برداشت نہیں کر سکتی۔ مجھ پر اس حسن کا رعب طاری ہو جاتا ہے۔ یہ رعب میرے روئیں روئیں کو حیران اور ششدر کر دیتا ہے۔ میں گنگ ہو جاتی ہوں۔ زبان بولنے کے قابل نہیں رہتی۔ اور دل جیسے حسن کی فراوانی اور کشش سے بند ہونے لگتاہے۔ یوں جیسے سانس لینا مشکل ہو رہا ہو۔ ایسی کیفیت مجھ پر ہمیشہ قدرتی حسن کو دیکھ کر طاری ہوتی ہے۔ سمندر، صحرا اور پہاڑ جب اپنے قدرتی رنگ و روپ میں جلوہ کرتے ہیں تو میں اس کے سامنے خود کو ایک ایسی بے بسی میں دیکھتی ہوں، جس کی تشریح بھی ممکن نہیں ہوتی۔ بس یہ کہ پردہ ڈال دو، ہٹا دو۔۔۔ بس کرو۔ اس سے زیادہ کیا دیکھ سکتی ہوں میں بھلا؟ خدا کے ان عجائبات کو۔ ان عجائبات کی تخلیق کرنے والا، خود کتنا حسین ہو گا؟ کتنا، آخر کتنا؟ اور ان عجائبات کے سامنے میرا وجود کتنا بے مایہ، کتنا حقیر ہے۔۔۔!
سڑک اور دریائے نیلم کے درمیان جیسے آنکھ مچولی کا کھیل چل رہا تھا۔ کبھی نیلم ہماری گاڑی کے اتنے قریب آجاتا کہ اس کے پتھروں کو پچھاڑتے، چٹانوں کو روندتے، تیز یخ پانی کی آواز کانوں میں گونجنے لگتی۔۔۔ اور کبھی ایک جست بھر کر، نیچے اترائی میں چلا جاتا، اور دھوپ میں سیال چاندی کی طرح دور سے ’’لشکیں‘‘ مارنے لگتا۔ چلتے چلتے اچانک ساری گاڑیاں رک گئیں۔ کچھ دیر انتظار کے بعد، ڈرائیور اترا، اور رکنے کی وجہ معلوم کر کے واپس لوٹا، تو اس کے چہرے پر اتنی ایکسائٹمنٹ تھی، کہ دیکھ کر پوچھنا پڑ گیا۔ جلدی جلدی ڈیش بورڈ سے بند فون کو ڈھونڈ کر نکالتے ہوئے بولا ’’باجی، سڑک کے نیچے، بالکل چند فٹ کی دوری پر ہندو گاؤں ہے‘‘۔ سارے بلا رہے ہیں۔ آپ بھی چلیں اور جا کر، گاؤں کو دیکھ لیں۔ ہندو گاؤں؟ میری بہن نے تعجب سے پوچھا، بھلا گاؤں کیسے ہندو اور مسلمان ہو سکتا ہے؟ وہ ہنس کر ڈرائیور سے بولی، ’’یہ کہو کہ بھارتی گاؤں ہے‘‘۔ فون کا کیمرہ آن کرتے ہوئے ڈرائیور بولا۔ جی، باجی بھارتی گاؤں ہے۔
گاڑی سے اتر کر، پورے قافلے کو شدید دلچسپی اور تجسس سے ہندوستانی سرحدی گاؤں کرن، کو دیکھتے پا کر، ہم پچھلی گاڑی کے مسافر بھی ذرا چوکس ہوئے۔ میرا داماد جو آرمی کی ملازمت کے دوران، کشمیر کے بارڈر پر تین برس سرو کر کے گیا ہوا ہے۔ ہماری معلومات کا قابل اعتماد ذریعہ تھا۔ جو سڑک سے اترائی پر چند فٹ کی دوری پر واقع کرن گاؤں کی مساجد، ہسپتال، سکول اور ڈول ہاؤسز جیسے گھر ہمیں دکھاتے ہوئے بتا رہا تھا کہ اس سڑک پر آخر تک، یہی سلسلہ چلتا رہتا ہے، یعنی یہ سرحدِ زگ زیگ کی طرح ہے۔ کہیں نیلم کے اُس طرف اور کہیں نیلم کے اِس طرف۔بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے ، اس طرف والے ادھر آجاتے ہیں غلطی سے۔۔۔ اور اس طرف والے ادھر چلے جاتے ہیں غلطی سے۔ مگر اس غلطی کے نتیجے میں، ان پر کیا گزرتی تھی، اور کیا گزرتی ہے۔۔۔ البتہ یہ معاملہ، کراچی کے سمندر میں دو طرفہ ساحلی مچھیروں کی ’’غلطیوں‘‘ کی روشنی میں اگر دیکھا جائے تو ان غلطیوں کے نتائج مرتب کرنے میں آسانی ہو جاتی ہے۔
ویسے بھی کشمیر کی تقسیم اور اس پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ، اپنی تاریخ میں ایسی ’’غلطیوں‘‘ کو گناہوں میں تبدیل کرنے کے معاملے میں اتنا خوفناک ہے کہ اس کی بات کرنے کے لیے بھی، بڑے حوصلے، بڑی ہمت کی ضرورت ہوتی ہے۔
کرن گاؤں جس کا پھیلاؤ ایک اچھے خاصے ٹاؤن کا سا تھا، اس کی مساجد سے اذانوں کی آوازیں بلند ہو کر، پوری وادی میں پھیل رہی تھیں، سفید ٹوپیاں پہنے کچھ چھوٹے بچے، قریبی مسجد کی طرف بھاگ رہے تھے، اور ہم سے چند فٹ کے فاصلے پر ،پتھر پر بیٹھی ایک سرخ پھولدار فرن والی کشمیری نوجوان لڑکی، نیلم کے پانی میں ہاتھ ڈال رہی تھی شاید دھونے کے لیے؟ اس کی ہمراہی، سرخ گالوں والی، چھوٹی سی لڑکی، اپنے قد سے بڑا میلے کپڑوں کا گٹھڑ اسی پتھر پر رکھ کر کھول رہی تھی۔ میری نواسی علینہ کی دور بین، مجھے لڑکی کے گال پر مسکراتا سیاہ تل بھی دکھا رہی تھی، اور اس کی نیلگوں آنکھوں کے کنارے پر کھیلتی وہ بے فکر خوشی بھی، جو مشقت کے باوجود اس کا حصہ تھی کہ ابھی زندگی کی پہلی گانٹھ ہی تو کھلی تھی؟ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؟ جیسے جیسے نیلم اپنے گیت کا الاپ بلند کرتا جائے گا، نیلم کے دونوں کناروں پر ’’ہندو‘‘ اور ’’مسلمان‘‘ گاؤں کے رہائشی، اپنے اپنے ہاتھوں میں جدائیوں کی طوالت سے لبریز رقعے لیے، اکٹھے ہوتے جائیں گے۔
پھر یہ رقعے، کاغذ کی ننھی ننھی کشتیوں کے مانند، پانی پر تیرتے دکھائی دیں گے۔۔۔ اور ان کے دو طرف کھڑے، بزرگ، بوڑھے اور جوان دیکھتے ہی دیکھتے بارش کے پانی میں کشتیاں چلانے والے بچوں جیسے ہو جائیں گے کہ جو کشتیاں وہ نیلم کے تیز پانی میں چلاتے ہیں، ان پر جدائی کا دکھ رقم ہوتا ہے۔ وہ المیے درج ہوتے ہیں، جو مقبوضہ اور آزاد کشمیر کے باسیوں کا پچھلی صدی سے مقدر بن چکے ہیں۔ مقدر بھی وہ جو تبدیل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ میرا دل چاہا، میں پانی کے کنارے بیٹھی دونوں کشمیری لڑکیوں کو پورے زور سے آواز دوں اور ان سے پوچھوں، جب تمہارے پیارے نیلم کے پانی میں ’’کاغذ کی کشتیاں‘‘ چلاتے ہیں، تو کیا وہ کشتیاں کنارے لگ جاتی ہیں؟ کیا ان پر لکھے پیغامات وصول ہو جاتے ہیں؟
مظفر آباد، سری نگر بس سروس ہو، یا نیلم کے پانی میں تیرتی کاغذ کی کشتیاں، سب کا حال ان بوڑھی دعاؤں جیسا ہے جنہیں رو رو کر کشمیر تھک گیا ہے، 80 ہزار قبروں کا مجاور بن گیا ہے، مگر اس کا مقدر نہ بدلا، اور بدلنے کی کوئی صورت بھی دکھائی نہیں دیتی۔ کہ خطے میں بھارت کا بڑھتا ہوا تسلط، امریکہ کی اس پر نوازشیں اور مودی سرکار کی انتہا پسندی اور مذہبی جنونیت پسندی، معاملات کو سنوارنے کے بجائے، مزید بگاڑنے پر تلی ہوئی ہے۔
ہماری اگلی منزل دو دھنیال تھی۔ یہاں فیصل (میرے داماد) نے، ہمارے لیے پر اہتمام چائے کا بندوبست کرا رکھا تھا۔ دو دھنیال کی مساجد سے عصر کی اذانوں کی آواز، چیڑ، دیودار، اور صنوبروں کے آسمان کو چھوتے درختوں سے گزرتی وادی میں پھیل رہی تھی، سرد ہوا کے جھونکے، جیسے برف پوش چوٹیوں سے ہم کلام ہو کر، ہم تک آئے تھے، کہ سارے سی سی کرتے گرم چائے کے گرد اکٹھے ہو گئے تھے؟
ہمارے میزبان، ہمیں بتا رہے تھے، سیز فائر سے پہلے، دو دھنیال ہمارا بیس کیمپ تھا اور اس سے آگے، کیل سیکٹر تک، ہم فوجی چوکیوں کو رات کے اندھیرے میں خچروں پر رسد پہنچاتے تھے۔ اور فوجی نقل و حرکت، رات کے اندھیرے میں ہی ہوتی تھی، وہ بھی چھپ چھپا کر، کہ گولیاں ہر وقت برستی رہتی تھیں۔ اور مقامی لوگ؟ میں نے پوچھا، زیادہ تر مقامی لوگ، اپنے گھر چھوڑ کر چلے گئے تھے، جب سے سیز فائر ہوا ہے، واپس آ رہے ہیں۔ مگر ابھی بھی بہت سے گھر ویران پڑے ہیں، آپ کو راستے میں ایسے بہت سے گھر دکھائی دیں گے! (جاری ہے)
بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات‘‘