.

شیطان سے پیمان…

حامد میر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اہل اسلام رمضان میں شیطان سے دور بھاگتے ہیں لیکن اہل ایران نے رمضان المبارک کے آخری اور مبارک ترین عشرے میں بڑے شیطان کے ساتھ نئے عہد و پیمان کرلئے۔آسٹریا کے شہر ویانا میں 14 جولائی کو ایران نےامریکہ سمیت چھ عالمی طاقتوں کو یہ یقین دلایا کہ وہ ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا اور اپنی ایٹمی تنصیبات کو اقوام متحدہ کے معائنے کیلئے کھول دے گا جس کے جواب میں ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں ختم کرنے کا فیصلہ ہوگیا۔ ایران اور چھ عالمی طاقتوں میں معاہدے پر دستخط کے فوراً بعد امریکی صدر اوباما کی فاتحانہ تقریر صرف پوری دنیا میں نہیں بلکہ ایران میں بھی سنی گئی جس کا اختتام اس فقرے پر ہوا۔’’خدا امریکہ پر رحمتیں نازل کرتا رہے‘‘۔ اس معاہدے کا دنیا کے اکثرممالک نے خیر مقدم کیا ہے۔ اہل ایران تو خوشی سے سڑکوں پر نکل آئے۔

وہ بھول گئے کہ انقلاب ایران کے قائد آیت اللہ خمینی نے امریکہ کو’’شیطان بزرگ‘‘ قرار دیا تھا۔ اہل ایران کی ایک نسل’’مرگ بر امریکہ‘‘ کے نعرے لگاتے ہوئے قبروں میں اتر گئی۔ دوسری نسل نے’’مرگ بر امریکہ‘‘ کے نعرے لگاتے لگاتے بال سفید کرلئے لیکن تیسری نسل امریکہ کو گلے لگانے کیلئے بے چین ہے۔ نوجوان ایرانی اس معاہدے کو اپنے لئے رحمت سمجھ رہے ہیں اوراسرائیل اس معاہدے کو اپنے لئے زحمت سمجھ رہا ہے۔ اسرائیل کی تکلیف سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ مذکورہ معاہدہ صرف امریکہ کی نہیں بلکہ ایران کی بھی جیت ہے۔ ایران سمیت کسی بھی ملک کا تنگ نظری پر مبنی ملائیت میں پھنسے رہنا اسرائیل کے مفاد میں ہے۔ صہیونی لابی چاہتی تھی کہ اہل ایران’’مرگ بر امریکہ‘‘ کے نعرے لگاتے رہیں تاکہ ایران و امریکہ کی محاذ آرائی سے اسرائیل فائدہ اٹھاتا رہے، ایران نے اپنی معیشت کی ترقی کے لئے ایٹمی پروگرام کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔معاہدے پر دستخط تو ہوگئے لیکن معاہدے پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

کچھ ماہرین کے خیال میں اس معاہدے نے شیر کی مرضی سے شیر کے دانت نکال دئیے ہیں اور جب شیر کے دانت نکل جائیں تو پھر اس پر کتے بھی بھونکتے ہیں۔ یہ ذمہ داری عالمی طاقتوں کی ہے کہ وہ اسرائیل کو ایران پر بھونکنے یا حملہ آور ہونے سے باز رکھیں لیکن تاریخ پر نظر دوڑائیں تو عالمی طاقتوں کے وعدوں پر اعتبار کرنا کسی غضب سے کم نہیں ہوتا۔

زیادہ دور مت جائیے، مارچ 1976ء میں آسٹریا کے اسی شہر ویانا میں طویل بحث مباحثے کے بعد فرانس اور پاکستان میں نیو کلیئر ری پروسیسنگ پلانٹ کے معاہدے پر دستخط ہوئے تھے اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی کمیشن نے اس معاہدے کی توثیق کردی تھی۔ کمیشن میں موجود امریکہ کے نمائندے نے بھی معاہدے کی حمایت کی لیکن کچھ عرصے کے بعد امریکہ نے اس معاہدے کی مخالفت شروع کر دی۔ اگست 1976ء میں امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے پاکستان کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو سے کہا کہ وہ اپنے ایٹمی عزائم سے باز رہیں ورنہ انہیں عبرت کی مثال بنادیا جائے گا۔ بھٹو نے امریکی دبائو کے سامنے جھکنے سے انکار کردیا۔ انہوں نے پاکستان کے اندرونی معاملات میں امریکی مداخلت کے ثبوت اکٹھے کئے اور جون 1977ء میں لیبیا میں او آئی سی کے وزرائے خارجہ کی کانفرنس میں تقسیم کردئیے جس کے بعد اس کانفرنس نے پاکستان کے اندرونی معاملات میں بیرونی مداخلت کے خلاف قرار داد منظور کر ڈالی۔

5 جولائی1977ء کو امریکہ کی خاموش تائید سے جنرل ضیاء الحق نے بھٹو حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ پھر پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بانی کو پاکستان میں پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ ایران کے پاس بھٹو نہیں تھا جو اپنی جان پر کھیل کر ایران کے ایٹمی پروگرام کو بچا لیتا۔ بھٹو کا کمال یہ تھا کہ انہوں نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے لئے ایران اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کی حمایت حاصل کرلی تھی لیکن ایران کی قیادت نے بہت سے مسلم ممالک کو اپنا دشمن بنائے رکھا۔ بھٹو کی موت کے بعد فرانس نے پاکستان کے ساتھ ایٹمی معاہدہ منسوخ کردیا لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جنرل ضیاء الحق نے بھٹو کو پھانسی پر لٹکانے کے باوجود پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو منجمد کیا نہ رول بیک کیا اور بھٹو صاحب کے دریافت شدہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ذریعہ ایٹمی پروگرام جاری رکھا۔

ڈاکٹر قدیر کے علاوہ دیگر سائنسدانوں نے بھی پاکستان کو ایک ایٹمی طاقت بنانے میں اہم کردار ادا کیا لیکن ایٹمی ایندھن بنانے کا کریڈٹ ڈاکٹر قدیر کو جاتا ہے اور اسی لئے جنرل پرویز مشرف کے دور میں عالمی طاقتوں نے ڈاکٹر قدیر کو بھی عبرت کی مثال بنادیا۔ تاریخ میں یہ بدنامی صرف اہل پاکستان کے حصے میں آئے گی کہ جس وزیر اعظم نے ایٹمی پروگرام شروع کیا اسے پھانسی پر لٹکا دیا گیا ،جس وزیر اعظم نے ایٹمی دھماکہ کیا اسے جلاوطن کردیا اور جس سائنسدان نے کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز میں ایٹمی ایندھن اورمیزائل تیار کئے اسے چور بنا کر ٹی وی پر پیش کیا گیا۔

اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے، پرویز مشرف نے اپنے دور اقتدار میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو جن حالات سے دوچار کیا آج مشرف بھی انہی حالات سے دو چار ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے ساتھ میل ملاقات پر کچھ پابندیاں ہیں اور مشرف جب چاہیں اپنی پسند کے کسی بھی ٹی وی اینکر کے ہاتھ میں اپنی مرضی کے سوالات تھما کر ایک نام نہاد انٹرویو دے ڈالتے ہیں۔ آج تک کسی ٹی وی اینکر نے ان سے یہ نہیں پوچھا کہ آپ نے ڈاکٹر قدیر پر ایران اور لیبیا کو ایٹمی راز دینے کا الزام لگایا لیکن آپ نے کس سے پوچھ کر پاکستان کے فوجی اڈے غیر ملکی طاقتوں کو دئیے؟

اب تو کشمیری رہنما سید علی گیلانی نے بھی گواہی دے دی۔ انہوں نے کہا ہے کہ پرویز مشرف نے اپنے دور اقتدار میں حریت کانفرنس پر دبائو ڈالاتھا کہ ہم مسئلہ کشمیر سے دستبردار ہوجائیں۔ اس قسم کا دعویٰ کسی سیاستدان کے بارے میں کیا جاتا تو اب تک میڈیا میں اس کی تکہ بوٹی کی جاچکی ہوتی لیکن جب معاملہ ڈکٹیٹر کا آئے تو فرینڈلی مائنڈ کے ماہر کچھ ٹی وی اینکر موصوف کے سامنے بھیگی بلی بن کر بیٹھ جاتے ہیں اور یہ بھی نہیں پوچھ پاتے کہ آج کل شہر شہر ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے خلاف بغاوت کی ایف آئی آر کٹوانے کا شوق جنگل میں آگ کی طرح پھیلا ہوا ہے لیکن جب آپ پر آئین سے غداری کا مقدمہ بنا تو آپ نے اس باغی الطاف حسین سے مدد کیوں مانگی؟ غداری کے مقدمے میں آپ کا دفاع کرنے والے دو اہم وکلاء فروغ نسیم اور محمد علی سیف ا یم کیو ایم کے سینیٹر ہیں۔ آپ ان کی خدمات واپس کرنے کا اعلان کیوں نہیں کرتے؟ بہرحال الطاف حسین پر بغاوت کے جتنے زیادہ مقدمے قائم ہوں گے پاکستان میں اتنی ہی زیادہ بحثیں طول پکڑیں گی۔

لوگ گلی گلی پوچھیں گے کہ غدار اور شیطان صرف سیاستدان کیوں ہوتے ہیں؟ پاکستان کے فوجی اڈے غیر ملکی طاقتوں کو دینا اور غیر ملکی بنک اکائونٹوں کو کروڑوں ڈالر سے بھرنا کہاں کی حب الوطنی ہے ؟ سپریم کورٹ میں نیب کی طرف سے میگا کرپشن کیسز کی فہرت سیاستدانوں کے خلاف چارج شیٹ نہیں بنے گی۔ یاد رکھئے ! شیطان صرف سیاسی نہیں بلکہ غیر سیاسی بھی ہوا کرتے ہیں۔ سیاسی شیطانوں کا احتساب ضرور ہوناچاہئے لیکن غیر سیاسی شیطانوں کا کیوں نہیں۔ شیطان کے ساتھ پیمان ایران میں ہو یا پاکستان میں اہل اسلام کو محتاط رہنا چاہئے۔ شیطان سے خیر کی توقع نہ کی جائے تو بہتر ہے۔ یا تو سب شیطانوں سے سمجھوتہ کرلیا جائے یا سب کی خبر لی جائے۔ تیرا شیطان برا اور میرا شیطان اچھا والی پالیسی اب پاکستان میں تو نہیں چلنے والی۔ احتساب ہوگا تو سب کا ہوگا، سیاسی شیطانوں کا بھی ہوگا اور غیر سیاسی شیطانوں کا بھی ہوگا۔ نہیں ہوگا تو کسی کا نہیں ہوگا۔ ایک شیطان سے لڑائی اور دوسرے شیطان سے پیمان میں اہل اسلام کو فائدہ نہیں نقصان ہوتا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.