عمران خان اور جنرل کیانی
عمران خان اپنی سیاست کے ایک مشکل دور سے گزر رہے ہیں لیکن انہوں نے اس مشکل کو اپنی ذات پر حاوی نہیں ہونے دیا۔ وزیراعظم نوازشریف اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کی خواہش اور کوشش ہے کہ عمران خان اسمبلی سے باہر نہ جائیں اور ان کے استعفے قبول نہ کئے جائیں لیکن عمران خان کو اسمبلی میں رہنے یا نہ رہنے سے کوئی دلچسپی نہیں۔ بنی گالہ میں عمران خان کی رہائش گاہ کے سرسبز لان میں کچھ ٹی وی اینکرز کے ساتھ دو گھنٹے تک زور دار بحث میں مجھے عمران خان کا ’’جنگی جذبہ‘‘ بدستور قائم و دائم نظر آرہا تھا۔ قومی اسمبلی کی رکنیت برقرار رکھناا ن کی پہلی ترجیح تھی، نہ دوسری اورنہ ہی تیسری۔ شاہ محمود قریشی ان کے دائیںہاتھ پر خاموشی سے بیٹھے ہماری بحث کو غور سے سن رہے تھے۔ ایک ٹی وی اینکر نے برہم لہجے میں عمران خان سے کہا کہ آپ نے تبدیلی کیلئے جدوجہد شروع کی تھی لیکن آپ کی جدوجہد کی انتہا جوڈیشل کمیشن کا قیام تھا جس کے ٹرمز آف ریفرنس میں ہی آپ کی شکست کا اعلان موجود تھا لیکن آپ کو سمجھ نہیں آئی اور اب آپ نے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کو تسلیم کر کے عوام کی امنگوں اور آرزوئوں کا خون کردیا ہے۔
عمران خان نے بڑے تحمل سے یہ تنقید سنی اور کہا کہ وقت بتائے گا کسے شکست ہوئی اور کسے فتح ملی، میں نے تبدیلی کا نعرہ ضرور لگایا تھا لیکن میں مارشل لاء نہیں لگوانا چاہتا تھا۔ اس دوران تحریک انصاف کے ایک نوجوان لیڈر نے خطیبانہ انداز میں گرجتے ہوئے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ جو بھی کہے لیکن ہم جانتے ہیں کہ 2013ء کے انتخابات میں دھاندلی کا منصوبہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے تیار کیا تھا لیکن ہم نے ملکی حالات کی نزاکت کے باعث ان کا نام نہیں لیا، آج نہیں تو کل یہ منصوبہ ضرور بے نقاب ہوگا۔ یہ سن کر نعیم الحق نے حیران کن نظروں سے عمران خان کو دیکھا لیکن خان صاحب نے مجھے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کا پیراگراف نمبر 534 پڑھنے کا مشورہ دینا شروع کردیا جس میں کمیشن نے یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ اگر رپورٹ کے نتائج حکومت کے خلاف چلے جائیں تو ریاست پر کتنے منفی اثرات مرتب ہوتے۔ دوسرے الفاظ میں کمیشن نے ریاست اور سچائی میں سے ریاست کا ساتھ دیا۔ یہ خان صاحب کی اپنی تشریح ہے تاہم انہوں نے یہ بات میڈیا پر کھل کر نہیں کہی اور کمیشن کی رپورٹ کو تسلیم کرلیا۔ کچھ ٹی وی اینکرز عمران خان کے اس موقف کو ’’سرنڈر‘‘ قرار دے رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ عمران خان قومی اسمبلی سے باہر آجائیں اور حکومت کے خلاف ایجی ٹیشن شروع کردیں۔ عمران خان بھی یہی کچھ چاہتے ہیں لیکن اس مرتبہ وہ اپنی پارٹی کو ساتھ لیکر چلنا چاہتے ہیں اورخود کوئی فیصلہ کرنے سے گریزاں ہیں۔
ایک سال پہلے تک عمران خان میڈیا کی آنکھ کا تارا تھے۔ آجکل ہر دوسرا ٹی وی اینکر اورتجزیہ نگار عمران خان کی ذات سے کیڑے نکال کر مجاہد صحافت بن رہا ہے۔ عمران خان پر تنقید کرنے والوں کی تین چار مختلف اقسام ہیں۔ پہلی قسم تو ابن الوقتوں کی ہے۔ اس قسم کے خواتین و حضرات ہوا کے رخ کے ساتھ چلتے ہیں۔ دوسری قسم ان کی ہے جو کل بھی خان صاحب کے مخالف تھے آج بھی مخالف ہیں۔ پہلے وہ ’’طالبان خان‘‘ کی پھبتی کستے تھے۔ اب ’’قلابازی خان‘‘ کا طعنہ دیتے ہیں۔ اس قسم کے لوگوں کو صحافت سے زیادہ سیاست کا شوق ہے اور یہ حکومتوں سے ذاتی فائدے اٹھانے کیلئے بھی بدنام ہیں۔ تیسری قسم ان لوگوں کی ہے جو صرف عمران خان نہیں بلکہ نوازشریف اور آصف علی زرداری کو بھی ملکی سلامتی کیلئے ایک خطرہ سمجھتے ہیں۔ یہ حضرات سیاستدانوں کیخلاف قلم کو لاٹھی کی طرح چلاتے ہیں زبان سے الفاظ نہیں آگ برساتے ہیں۔ ان کی شعلہ بیانی سیاستدانوں سے شروع ہو کر سیاستدانوں پر ختم ہو جاتی ہے یہ لوگ سیاست میں فوج کو مستقل آئینی کردار دلوانا چاہتے ہیں۔
چوتھی قسم ان محدود چند لوگوں کی ہے جنہوں نے صحافت کو حقیقت نگاری کی بجائے تمثیل آفرینی بنا دیا ہے۔ ان کی زبان و قلم پر قرآنی آیات اور احادیث نبویؐ کے حوالے لیکن دلوں میں فتور اور نفرت بھری ہے۔ صحافت میں بلیک میلنگ کے نئے رجحانات متعارف کروانے والے ایسے ہی ایک ’’استاد‘‘ نے کئی سال تک عمران خان کا اتالیق بننے کی کوشش کی۔ خان صاحب نے اس خود ساختہ اتالیق کو کافی عزت و احترام دیا لیکن جب اس اتالیق نے تحریک انصاف کی فیصلہ سازی کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کی تو خان صاحب کی برداشت جواب دے گئی۔ پھر 2013ء کے انتخابات میں اتالیق نے اپنی کچھ ناتمام حسرتوں کی تکمیل کیلئے تحریک انصاف کی ٹکٹیں فروخت کرنے کی کوشش کی۔ جب یہ کوشش کامیاب نہ ہوئی تو تحریک انصاف پر ٹکٹیں بیچنے کا الزام لگا دیا۔ یہ صحافتی بلیک میلر ہمیشہ فوج اور آئی ایس آئی کے سربراہان سے قربت کے دعوے کرتا ہے اور گاہے گاہے اپنی قربتوں کی داستانیں فخریہ انداز میں بیچتا رہتا ہے۔
آئی ایس آئی کے ایک مرحوم سربراہ پر کتاب لکھی اورایک دوسرے سربراہ کو الٹے سیدھے مشورے دیکر کئی عبرت آموز کتابوں کا موضوع بنا ڈالا۔ موصوف کا اصل پیشہ صحافت نہیں ٹھیکیداری ہے۔ کچھ سال پہلے اس استاد ٹھیکیدار نے کچھ سینئر صحافیوں کا ایک وفد وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی خدمت میں بھیجا۔ ان بزرگ صحافیوں نے وزیراعلیٰ سے کہا کہ ہمارے ایک استاد نے راوی کے پار ایک ہائوسنگ اسکیم شروع کی ہے۔ اگر آپ اس اسکیم کیلئے کچھ ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دیدیں تو ہمیں بھی یہاں ایک ایک ایکڑ مل جائے گا۔ وزیراعلیٰ صاحب نے یہ کام پرویز رشید کے سپرد کیا۔ پرویز رشید نے شیخوپورہ کی ضلعی انتظامیہ کو اس ٹھیکیدار کی مدد کیلئے کہا تو پتہ چلا کہ موصوف جعلی مختار ناموں کے ذریعہ غریب لوگوں کی زمینوں پر قبضے کررہے ہیں۔ اس علاقے سے مسلم لیگ (ن) کے ایم این اے رانا تنویر کئی غریبوں کی درخواستیں اور ایف آئی آرز کے ریکارڈ کے ساتھ پرویز رشید کے پاس پہنچ گئے لہٰذا پرویز رشید نے ٹھیکیدار کی مدد بند کردی جس کے بعد یہ ٹھیکیدار پرویز رشید کیلئے حوالداربن گیا۔ آجکل یہ ٹھیکیدار جنرل کیانی کا ترجمان بن کر جاوید ہاشمی پر رعب جماتا ہے۔ ٹھیکیدار نے جاوید ہاشمی پر الزام لگا دیا کہ آپ کیانی صاحب کے خلاف پروپیگنڈہ کررہے ہیں۔ اس الزام کے جواب میں جاوید ہاشمی نے ٹھیکیدار کو ایک پیغام بھیجا۔ پیغام بہت لمبا ہے۔ صرف چند سطریں پڑھ لیجئے۔ ’’میں کافی عرصے سے آپ کی جہالت، کم علمی اور حسد کا شکار ہوں۔ میں نے آپ کو کہا تھا کہ جنرل کیانی تحریک انصاف کی کوئی مدد نہیں کررہے آپ کہتے تھے کہ وہ کررہے ہیں میں نے کہا صورتحال مختلف ہے۔ آپ جنرل کیانی سے قربت کا دعویٰ رکھتے ہیں ان سے پوچھ لیجئے وہ عمران خان کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ کچھ شرم ہونی چاہئے کچھ حیا ہونی چاہئے۔‘‘
جاوید ہاشمی کے اس پیغام سے صاف پتہ چلتا ہے کہ جنرل کیانی سے قربت کے دعویدار کہیں نہ کہیں ان کے نام کو استعمال کرتے رہے ہیں اور شاید اسی لئے آج بھی تحریک انصاف کے کچھ رہنما 2013ء کے انتخابات میں جنرل کیانی کے کردار پر گرجدار گفتگو کے متمنی ہیں لیکن عمران خان نے اپنے ان ساتھیوں کی زیادہ حوصلہ افزائی نہیں کی۔ ملکی حالات کی نزاکت کا تقاضا ہے کہ ہماری سیاسی قیادت نت نئے تنازعات میں الجھنے سے گریز کرے۔ حب الوطنی کے نام نہاد ٹھیکیدار اورریٹائرڈ جرنیلوں کے حوالدار قسم کے صحافی سیاستدانوں کو آپس میں لڑا کر اپنا اُلّو سیدھا کرنا چاہتے ہیں۔ نوازشریف اور عمران خان ان ٹھیکیداروں اور حوالداروں سے بچ کررہیں۔ ایک دوسرے سے سیاسی اختلاف ضرور کریں لیکن قومی امور پر ایک دوسرے سےتعاون کے سوا کوئی راستہ نہیں۔
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘