.

مرد درویش، مرد قلندر

اوریا مقبول جان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جو لوگ تاریخ کو حرف آخر سمجھتے ہیں اور اس کی بنیاد پر شخصیات کا تعین اور خصوصاً عقیدے کی بنیاد رکھتے ہیں ان کے لیے کیا صرف ایک یہی گواہی کافی نہیں کہ اس ملک میں سنی سنائی کہانیوں پر مبنی کتنے افسانے ملا محمد عمر کی زندگی اور طالبان کے دور حکومت کے بارے میں عام مل جاتے ہیں۔ یہ بنی امیہ، بنی عباس اور بنی فاطمی ملوکیت کا دور نہیں کہ ظلم اور جبر کے تحت تاریخ لکھوائی جاتی ہو۔ یہ جمہوریت، آزادی اظہار اور قلم کی حرمت و تقدس کا دور ہے۔ لیکن اس دور میں بھی آپ کو ملا محمد عمر کے بارے میں گفتگو کرنے، لکھنے والے اور تبصرے کرنے والے اکثریت میں ایسے ملیں گے جن کی ان سے زندگی بھر کبھی ملاقات تک نہیں ہوئی۔ جب کہ طالبان کے افغانستان میں چھ سالہ سنہری دور پر لکھنے والوں کی بھی اکثریت ایسی ہے جنہوں نے کبھی بھی تورخم یا اسپن بلدک کے دوسری جانب قدم نہیں رکھا، جنھیں افغانستان میں بولنے والی ایک زبان بھی نہیں آتی، جن کے تجزیات عالمی اخبارات کے تراشوں، تعصب کی ملاوٹ سے بھرپور تحریروں اور من گھڑت خفیہ رپورٹوں پر مبنی ہوتے ہیں۔

آج اگر کوئی مورخ پاکستان میں ملا محمد عمر اور افغانستان میں طالبان کے دور حکومت کے بارے میں کتاب لکھنا چاہے تو اسے جو عمومی تصور یہاں ملے گا وہ نوے فیصد سے زیادہ بے بنیاد اور گروہی و فرقہ وارانہ تعصب کی عینک لیے ہوئے ہو گا۔ یہ صرف پندرہ سال پہلے کی تاریخ ہے، اس دور کے لوگ ابھی زندہ ہیں لیکن سچ اس قدر دھندلا دیا گیا ہے کہ کسی کو بولنے کا یارا نہیں۔ تاریخ کی سچائی کا اندازہ اس طرح کی ہزاروں موجودہ دور کی مثالوں سے دیا جا سکتا ہے۔ ضیاء الحق کے دور میں تحریروں پر اعلیٰ ترین سول ایوارڈ لینے والے آج ان کے سب سے بڑے ناقد ہیں۔ پاکستان کے گزشتہ تیس سالوں کی آمریتوں کے اپنے اپنے مورخ اور مداحین ہیں اور وہ اعلیٰ پایہ کے نثر نگار بھی ہیں، اپنے زمانے کے طبری، واقدی اور بلاذری۔ ان تین مورخوں نے افسانے تو تین سو سال بعد تحریر کیے، لیکن ان دانشوروں نے تو اپنی زندگی میں ہی افسانوں کو حقیقت بنا دیا۔

ملا محمد عمر۔ قندھار کے ایک کچے گھر کے چھوٹے سے کمرے سے چھ سال تک افغانستان کو ایک پرامن اور خوشحال ملک میں بدلنے اور پندرہ سال دنیا کی چالیس کے قریب عالمی طاقتوں سے تن تنہا لڑنے والا مرد مجاہد۔ کیا آج ایسا تصور اس کے بارے میں پاکستان میں پایا جاتا ہے۔ کیا ہمارا میڈیا اور اس پر جلوہ گر ہونے والے تجزیہ نگار اور مورخین سچ بولتے ہیں۔ تعصب اور نفرت نے جھوٹ ان کی زبانوں پر جاری کر رکھا ہے۔ لیکن کوئی تو سچ بولے، کوئی تو یہ بتائے کہ 1995ء سے 2000ء تک اس کا اگر چمن، پشین، لورالائی، ژہوپ، پشاور، مردان، سوات یا پاکستان کے کسی بارڈر کے قریبی شہر جانے کا اتفاق ہوا تھا اس نے سرحد کے اس پار سے ملا محمد عمر اور طالبان کے حکومتی انصاف کی خوشبو ضرور محسوس کی ہو گی۔ اس نے عام آدمی کی زبان پر یہ دعا ضرور دیکھی ہو گی کہ ہمارے ہاں کوئی ایسا حکمران کیوں نہیں آ جاتا۔ ایسی خواہش لوگوں کے دلوں میں دو دفعہ جاگی۔ ایک جب ایران میں آیت اللہ خمینی نے اقتدار سنبھالا اور دوسری دفعہ ملا محمد عمر کے زمانہ حکومت کے دوران۔ سرحدی شہروں کے کتنے لوگ تھے جو اپنے مقدمات فیصلوں کے لیے طالبان کے پاس لے جاتے تھے۔

1997ء میں جان محمد دشتی ڈپٹی کمشنر کوئٹہ تھا۔ میں چاغی سے اسے ملنے گیا۔ اس کے دفتر میں چند پشتون بیٹھے تھے۔ دشتی بلوچ آدمی تھا، اس کی پشتو کمزور تھی، مجھے ترجمے کے لیے بٹھا لیا۔ کہانی یہ تھی کہ چار لوگوں نے ان افراد کے کئی کروڑ افغانی اور ایک موٹر سائیکل فراڈ سے ہتھیا لیے تھے۔ چاروں پکڑے گئے۔ دو کو ایس ایچ او نے مقدمے سے فارغ کر دیا اور دو کو سیشن جج نے بری کر دیا۔ دو لوگ بھاگ کر قندھار چلے گئے۔ وہ اپنا مقدمہ لے کر قندھار گئے، گواہ پیش ہوئے۔ آدھے پیسے اور موٹر سائیکل طالبان نے واپس کروا دیے، باقی آدھے ان دونوں کے پاس تھے جو پاکستان میں تھے۔ وہ لوگ ڈپٹی کمشنر سے درخواست کر رہے تھے کہ ان دونوں کو ہمارے حوالے کریں، ہم قندھار لے جا کر طالبان سے انصاف کروائیں گے۔

روس افغانستان سے رخصت ہوا تو تباہ حال افغانستان بدامنی، لوٹ مار اور قتل و غارت کا گڑھ بن گیا۔ افغان مجاہدین کے گروہ آپس میں اس طرح دست و گریبان ہوئے کہ چاروں جانب اسلحہ و بارود کی بو پھیل گئی۔ چمن سے قندھار تک صرف ستر میل کا فاصلہ ہے لیکن اس تھوڑے سے فاصلے میں جگہ جگہ مختلف افغان مجاہدین گروہوں نے اپنی چیک پوسٹیں لگا رکھی تھیں جو ہر گزرنے والی گاڑی سے جبری ٹیکس وصول کرتی تھیں۔ امن و امان کا یہ عالم کہ نہ کسی کی جان محفوظ اور نہ مال۔ کابل شہر کے دونوں اطراف توپیں نصب تھیں اور شہر کھنڈر بن چکا تھا۔ نجیب اللہ ایک بے طاقت اور مجبور محض حکمران کی صورت موجود تھا۔ ملا محمد عمر سے میری ملاقات اسی دور آشوب میں ہوئی جب روس ابھی رخصت ہوا تھا۔ ایک درد دل رکھنے والا مسلمان جو مسلمانوں کی اس باہمی لڑائی پر ہر وقت کڑھتا رہتا۔ اس کے لیے یہ تمام لوگ اجنبی نہ تھے، اس نے ان کے شانہ بشانہ جہاد میں حصہ لیا تھا لیکن طاقت اور غلبے کی ہوس نے انھیں کیا بنا دیا تھا۔ چمن شہر سے قندھار تک وہ ہر ذی روح کے دکھ سے واقف تھا۔ یہ لوگ تو واقعی قریہ ظالم کے شہری تھے کہ جو سورہ نساء کی آیت کے مطابق پکار پکار کر کہتے تھے کہ اللہ ہمارے لیے کوئی مدد گار بھیج دے۔

تجزیہ نگار جو چاہے کہہ لیں، طاقت کے پجاری بے شک اسے ایک جھوٹی، لغو اور بے بنیاد کہانی کے ذریعے امریکا اور آئی ایس کی تخلیق کہہ لیں لیکن بلوچستان کے اس خطے کے رہنے والے ہزاروں لوگوں کو وہ وقت اب بھی یاد ہے کہ ایک صبح ملا محمد عمر نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ میں نے خواب میں سید الانبیاءﷺ کو دیکھا ہے جو مجھ سے کہہ رہے ہیں کہ اٹھو جہاد شروع کرو اور امن قائم کرو، اللہ تمہیں نصرت دے گا۔ اس کے بعد اس خطے کے میرے جیسے لاکھوں لوگ جانتے ہیں کہ کیسے ملا محمد عمر نے قندھار میں موجود سید الانبیاء ﷺ کے جبہ مبارک کو نکالا اور پھر کس طرح لوگوں نے جوق در جوق اس جبہ مبارک کو سامنے رکھتے ہوئے ملا محمد عمر کے ہاتھ پر بیعت کی۔ اس کے بعد رسول اکرم ؐ کی دی گئی بشارت کا وقت آیا۔ ایک گولی چلائے بغیر قندھار کی تمام فوج نے ملا محمد عمر کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ اس کی نصرتوں کا ایک سلسلہ ہے۔

یہ چند ہزار لوگ جس جانب بڑھے فتح و نصرت ان کے قدم چومتی رہی، ا تنی کم مزاحمت کہ صرف چند مہینوں میں نوے فیصد افغانستان ملا محمد عمر کے زیر نگیں تھا۔ میں اس وقت ایک ایسے ضلع کا ڈپٹی کمشنر تھا جس کا کئی سو میل بارڈر افغانستان سے ملتا تھا۔ تمام صوبائی انتظامیہ سے لے کر بڑی سے بڑی خفیہ ایجنسیوں کے فرشتوں تک کو بھی خبر نہ تھی کہ سب کیسے ہو رہا ہے۔ ایک ایسا افغانستان وجود میں آ چکا تھا جہاں گزشتہ سو سال کی تاریخ میں سب سے زیادہ امن تھا۔ اس دوران ہونے والے انتظامیہ کے بڑے بڑے اجلاسوں میں شرکت کے دوران یہ احساس ہوتا تھا کہ ہر کوئی حیران ہے۔ ان سب کے نزدیک طالبان کا از خود ایک قوت کے طور پر ابھرنا حیرت انگیز تو تھا ہی لیکن اصل حیرت انھیں اس بات پر ہوتی تھی کہ ان کے مقابل میں قوتیں خود بخود پسپا ہو رہی ہیں۔
یہ تو افغانوں کی گزشتہ کئی سو سالہ تاریخ کے خلاف تھا۔ جب طالبان افغانستان میں قوت کے طور پر مستحکم ہو گئے۔ ملا محمد عمر امیر المومنین کی حیثیت سے مانے جانے لگے تو اس دوران حکومت پاکستان کو بھی خیال آٓیا کہ اب انھیں تسلیم کر لینا چاہیے۔ ایک ایسی حکومت اس پسماندہ ملک میں قائم ہوئی جو سیاسیات کے کامیاب ترین اصول ’’کامیاب ریاست وہ ہے جہاں ریاست کا وجود نظر نہ آئے اور لوگ کاروبار زندگی جاری رکھیں‘‘۔ ہر بڑے شہر میں دس اور چھوٹے شہر میں سات طالبان سپاہی ہوتے تھے اورا سپن بلدک جیسی منڈی جہاں اربوں کا کاروبار تھا وہاں لوگ دکانیں کھلی چھوڑ کر نماز پڑھنے جاتے تھے۔

(جاری ہے)

بہ شکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.