اسٹرٹیجک خودمختاری.

نصرت مرزا
نصرت مرزا
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

اس ہفتے دو اہم تقریبات ہوئیں ایک تو صدر ممنون حسین اور بحریہ کے سر براہ ذکاء اللہ کی تقاریر اور پاک بحریہ کا منوڑہ میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ اور وزیر اعظم پاکستان کا 431 ارب روپے کا کسان پیکج ۔ان دونوں تقاریب میں شریک تھا، یہ الگ الگ کالموں کا تقاضا کرتی ہیں۔ تاہم آج ہم دُنیا میں بڑی تیزی سے جو تبدیلی آرہی ہے اورنئی جتھہ بندی ہورہی ہے ان پر بات کریں گے ۔ صورت حال یوں بن رہی ہے کہ بھارت اور روس کا کئی عشروں پرانا بندھن ٹوٹ رہا ہے اور روس پاکستان سے قریب ہو رہا ہے، امریکہ اور ایران قریب آرہے ہیں مگر ابھی اِس قربت کی راہ میں کئی رکاوٹیں ہیں۔

امریکہ کی اسلام دشمنی اور ایران میں امریکہ پر بداعتمادی اِن دونوں ممالک کے قریب آنے میں بڑی رکاوٹ ہیں، امریکہ روس پر شدید دبائو بڑھا رہا ہے تو چین روس کی مدد کر رہا ہے۔ امریکہ یورپ کو مختلف حیلے بہانوں اور ڈرا کر اپنے ساتھ جوڑے رکھنے میں کامیاب ہے، وہ چین کو اپنے ساتھ اٹکائے رکھنے اور روس کو تنہا کرنے کی پالیسی پر کاربند ہے، اس کے علاوہ مشرق وسطیٰ کی سرحدوں کی تبدیلی کے منصوبے کو عملی جامہ پہنچانے کیلئے نت نئے طریقے استعمال کررہا ہے۔ یورپ پر شامی پناہ گزینوں کی یلغار اور معصوم ایلان کردی کی موت نے دُنیا اور خصوصاً مغرب کے ضمیر کو جگا دیا ہے جبکہ شام، ترکی، عراق، ایران اور آذربائیجان کے علاقے کاٹ کر کردستان بنانے کی منصوبہ بندی آخری مرحلے میں ہے۔

دوسری طرف اگر برصغیر کو دیکھیں تو بھارت کی مودی سرکار نے جہاں اپنے پچھلے پندرہ ماہ میں چین سے تعلقات مزید خراب کئے ہیں، پاکستان کے ساتھ وہ حالتِ جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے جس میں ایٹمی جنگ بعید از قیاس نہیں ہے جبکہ روس کے ساتھ اس کے تعلقات 1947ء سے اب تک کی کم ترین سطح پر آگئے ہیں۔ پاکستان اگرچہ اپنے عرب دوستوں کو ناراض کر بیٹھا ہے متحدہ عرب امارات بھارت میں 75 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کیلئے تیار ہوا ہے تو دوسری طرف یہ تاثر مل رہا ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں وہ قربت نہیں رہی جو پاکستان کی پالیسی کا بنیادی عنصر تھا، ہمارے برادر چاہتے تھے کہ یمن کی جنگ میں یمن کے اندر جا کر اُن کی طرف سے لڑیں ایک ایسے ملک سے جو اندرونی طور پر دہشت گردی کا شکار ہے اور اُس کو مشرقی و مغربی سرحدوں سے خطرات لاحق ہیں۔ وہ کیسے اپنی افواج یمن بھیج کر بین الاقوامی قضیہ میں پڑ سکتا تھا۔

تاہم پاکستان نے اپنے تعلقات چین سے بہت گہرے کرلئے ہیں، چین پاکستان میں 46 بلین ڈالرکی سرمایہ کاری کررہا ہے، جس سے پاکستان کی اہمیت اور اس کی معاشی حالت راتوں رات بدل گئی ہے۔ مغرب کے دانشوروں نے لکھا ہے کہ ان معاہدوں سے پاکستانی معیشت اور اہمیت میں چارچاند نہیں دس چاند لگ گئے ہیں۔ چین پاکستان کو آٹھ آبدوزیں دے رہا ہے، پاکستان چین کو گوادر کی بندرگاہ کے قریب 2300 ایکڑ زمین 43 سال کیلئے لیز پر دے رہا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان اور چین کے درمیان اسلحہ سازی کے میدان میں تعاون مثالی ہے۔ پاکستان اور چین مل کر F-17 تھنڈر طیارے بنا رہے ہیں۔ فریگیٹ لڑاکا بحری جہاز کراچی ڈاکیارڈ میں بن رہے ہیں، جو زمین اور سمندر میں بطور آنکھ اور بطور لڑاکا بحری جہاز کام دیں گے ، جو کام اورین طیارہ کرتا تھا وہ اب فریگیٹ بحری لڑاکا جہاز سرانجام دے رہے ہیں۔ وہ انہی سازوسامان سے لیس ہیں اور کسی دشمن آبدوز کا پتہ لگا سکتے ہیں۔ کچھ اورین طیارے اب بھی ہمارے بحری بیڑے میں موجود ہیں پاکستان نے ایران کیساتھ اپنے تعلقات بہتر بنائے ہیں اور چین کیساتھ مل کر ایران کو پاکستان اور چین اقتصادی راہداری کا حصہ بنانے کیلئےتیار ہوگئے ہیں۔

اس صورت حال میں سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان اور روس آپس میں گہرے تعلقات قائم کرنے پر رضامند ہیں۔ حالات و واقعات اور امریکی پالیسی روس کو مجبور کررہی ہے کہ وہ پاکستان کی اہمیت کو سمجھ کر پاکستان سے تعلقات قائم کرے اور ایسی صورتِ حال میں کہ جب بھارت، روس کی بجائے امریکہ سے جڑ گیا ہے۔ اسی وجہ سے روس نے پاکستان کو F-35 ہیلی کاپٹر کے بعد SU-35 طیارے دینے کا عندیہ دیا ہے۔ 9 ستمبر 2015ء کو روسی ڈپٹی وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے اعلان کیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ SU-35 لڑاکا طیارے کے بارے میں گفتگو کررہے ہیں۔ یہ طیارہ خوفناک درندے کے نام سے منسوب ہے اور اپنی کارکردگی کے لحاظ سے یہ فرانس کے رافیل اور امریکہ کے F-35 طیارے سے بہتر ہے۔ روس نے پہلے بھارت کو یہ طیارے دینے کی پیشکش کی تھی مگر بھارت نے فرانسیسی طیارے رافیل کے حق میں فیصلہ کیا۔ یوں روس نے پاکستان کو یہ طیارہ دینے کا ارادہ ظاہر کردیا ہے جو پاکستان قبول کرلے گا اور فضا میں اپنی برتری قائم رکھے گا۔ ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ روس کے نزدیک پاکستان کی اہمیت بڑھ گئی ہے کہ وہ امریکہ کے روس کے خلاف عزائم میں امریکہ کا ساتھ نہیں دے گا۔ روس اور چین دونوں مل کر پاکستان کو امریکی اثر سے نکالنا چاہتے ہیں اور اُس کو آزاد اور خودمختار ملک بنانے میں مدد دے رہے ہیں۔ امریکہ کے نزدیک پاکستان کی اہمیت اگرچہ کم ہوئی ہے مگر پاکستان امریکہ کے ساتھ تعلقات میں توازن قائم رکھے گا۔ تاہم پاکستان کا اسلحہ اور معیشت کے حوالے سے امریکہ پرانحصار کم ہوا ہے۔

روس پاکستان سے اس لئے بھی تعلقات بڑھانا چاہتا ہے کہ امریکہ افغانستان میں اپنے فوجی اڈے قائم کئے ہوئے ہے اور روس چاہتا ہے کہ پاکستان کے تعاون سے امریکہ طالبان کو روس کے خلاف استعمال نہ کر سکے۔ حال ہی میں امریکی مشیر برائے سلامتی امور سوزن رائس پاکستان کے وزیراعظم کو امریکہ کا سرکاری دورے کرنےکی دعوت دینے آئی تھیں مگر تاحال پاکستان نے اس کا جواب نہیں دیا ہے، کیونکہ وہ دن اب گئے جب پاکستان کے وزیراعظم امریکہ کے دورے کی دعوت کیلئے بے چین رہتے تھے اور پاکستان کی مسلح افواج اور پینٹاگون کے درمیان قربت بھی اس سطح پر نہیں رہی جو کبھی ہوا کرتی تھی۔ اس صورتحال نے جو پاکستان، چین، روس مل کر بنا رہے ہیں اس سے خطے کے تزویری خدوخال بدل رہے ہیں۔

اگرچہ جیسے پہلے کہا گیا کہ اب بھی پاکستان امریکہ کے لئے ایک اہم ملک ہے مگر وہ پاکستان کو عدم استحکام کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے اور بھارت و افغانستان دونوں کو شہہ دے رہا ہے کہ وہ پاکستان میں مداخلت کریں، جو امریکہ کے مخلص نہ ہونے اور دہرا کھیل کھیلنے کا ثبوت ہے۔ ایسی صورت حال میں پاکستان امریکہ سے تصادم سے گریز کرتے ہوئے ایک خاص سطح پر تعلقات رکھنا چاہے گا کہ امریکہ بلوچستان کی آزادی کا خیال چھوڑ دے۔ پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے اور ہتھیاروں کے معاملے میں کافی حد تک خودکفیل ہوگیا ہے۔ بھارت کی امریکی شہہ پر بلااشتعال فائرنگ اور بلوچستان میں مداخلت کے بعد پاکستان نے 9 ستمبر 2015ء کو نیشنل کمانڈ اتھارٹی کا اجلاس بلا کر بھارت کو متنبہ کیا کہ اس طرح وہ خطے کو ایٹمی جنگ سے دوچار کرنے جارہا ہے مگر پاکستان اس کے لئے تیار ہے۔ پاکستان کافی حد تک اسٹرٹیجک خودمختاری حاصل کر چکا ہے۔ جس نے اس کو اپنی مرضی کے فیصلے کرنے کا مجاز بنا دیا ہے۔ -

-----------------------------
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں