.

کچھ تو شرم کیجئے!

حامد میر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یہ وہ پاکستان نہیں جو 1947ء میں مسلمانوں نے بنایا تھا۔یہ وہ پاکستان ہے جو 1947ء میں ہندوئوں نے بنایا تھا۔ آپ سوچ رہے ہونگے کہ ہندو پاکستان کیسے بنا سکتے ہیں ؟ آپکی حیرانگی بلاجواز نہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ 1947ء میں ہندوئوں نے بھی ایک پاکستان بنایا تھا جو آج بھی ہندوستان میں قائم ہے ۔ یہ ایک چھوٹا سا گائوں ہے جو بھارتی ریاست بہار اور مغربی بنگال کی سرحد پر واقع ہے ۔ 1947ء سے پہلے اس گائوں میں بہت سے مسلمان رہتے تھے ۔

جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو اس گائوں کے مسلمانوں نے پاکستان کی طرف ہجرت کا فیصلہ کیا۔ گائوں کے ہندوئوں نے انہیں بہت روکا لیکن مسلمان تو پاکستان میں رہنا چاہتے تھے ۔ وہ اپنی جائیدادیں ہندوئوں کو سونپ کر مشرقی پاکستان کی طرف چل دیئے۔ گائوں کے ہندوئوں نے ان مسلمانوں کی یاد میں اپنے گائوں کا نام پاکستان رکھ دیا ۔ ان ہندوئوں پر گائوں کا نام بدلنے کیلئے بہت دبائو ڈالا گیا لیکن انہوں نے انکار کردیا ۔ انہوں نے پاکستان کو قائم رکھا لیکن گائوں کے مسلمان جس پاکستان کو گئے تھے وہ پاکستان قائم نہ رہا ۔ ان کا پاکستان بنگلہ دیش بن چکا ہے ۔ یہ مسلمان واپس اپنے پرانے گائوں نہیں جا سکتے۔ بنگلہ دیش نے انہیں بار بار اپنی شہریت پیش کی ہے۔

بہت سے نوجوان بہاریوں نے بنگلہ دیشی شہریت قبول کر لی ہے لیکن بزرگ بہاریوں کی بڑی اکثریت آج بھی اپنے آپ کو پاکستانی کہتی ہے۔ یہ پاکستانی اپنے اصل وطن اسلامی جمہوریہ پاکستان آنا چاہتے ہیں لیکن پاکستان کا حکمران طبقہ ان غریب اور بے کس پاکستانیوں کو قبول کرنے کیلئے تیار نظر نہیں آتا۔ یہ ایک چھوٹے سے گائوں کے چند سو بہاری مسلمانوں کا نہیں بلکہ کم از کم تین لاکھ بہاری مسلمانوں کا المیہ ہے جو کئی دہائیوں سے بنگلہ دیش کے مختلف مہاجر کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔پاکستان کے لوگ انہیں اپنی خوشیوں میں شامل کریں نہ کریں لیکن یہ پاکستانیوں کی خوشیوں میں خوشی مناتے ہیں اور پاکستانیوں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھ کر آنسو بہاتے ہیں۔

آپ انہیں اچھا سمجھیں یا برا سمجھیں لیکن بنگلہ دیش کے کیمپوں میں ذلت کی زندگی گزارنے والے یہ تین لاکھ انسان اہل پاکستان کی اسلام سے محبت اور وطن پر مرمٹنے کے دعوئوں کے سامنے ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکے ہیں ۔ میں جانتا ہوں کہ ان مفلوک الحال بہاری پاکستانیوں کیلئے آواز اٹھانا ’’آئوٹ آف فیشن‘‘ ہے ۔ پاکستان میں اسلام کی نام لیوا جماعتوں نے بھی ان کا ذکر کرنا چھوڑ دیا ہے۔

آج کل وہ میانمار، کشمیر اور فلسطین کے مسلمانوں کے نام پر رقوم اکٹھی کرکے اپنا ایمان تازہ کر رہے ہیں ۔ بہاری پاکستانی انہیں یاد نہ رہے کیونکہ اگر یہ پاکستان آ گئے تو ان کے نام پر اکٹھی کی گئی رقوم ان پر خرچ بھی کرنا پڑیں گی لہٰذا کوئی بھی جماعت اس گھاٹے کے ’’کاروبار‘‘ میں ہاتھ ڈالنے کیلئے تیار نہیں۔ میں جانتا ہوں کہ میرے ان گستاخانہ خیالات کو پڑھ کر بہت سے طاقتور اور غصیلے پاکستانی مجھے برا بھلا کہیں گے اور یہ فتویٰ صادر کرنے میں ذرا دیر نہ لگائیں گے کہ حامد میر نے بے وقت کی راگنی چھیڑ کر پاکستان کے مفادات کو نقصان پہنچانے کی مذموم کوشش کی ہے ۔ مجھے ان فتوئوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میں ایک گناہ گار انسان ہوں لیکن مجھے غداری اور کفر کے فتوے فروخت کرنے والوں کو نہیں بلکہ اپنے اللہ کو جواب دینا ہے۔ میں جب قربانی کی عید پر فلسفہ قربانی سے بھرپور بھاشن سنتا ہوں تو ندامت میرے دل ودماغ کو گھیر لیتی ہے۔ میں سوچنے لگتا ہوں کہ ہم کیسے پاکستانی ہیں جو پاکستان کیلئے ہجرت کرنے والوں کو فراموش کر چکے ہیں اور ان کیلئے تھوڑی سی قربانی دینا ہمیں گوارا نہیں ۔

اگر آپ کے دل میں اللہ تعالیٰ کا تھوڑا سا بھی خوف ہے تو اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچئے کہ بنگلہ دیش میں ذلیل وخوار ہونے والے تین لاکھ بہاری پاکستانیوں کا اصل قصور کیا ہے ؟اس سوال پر غور کریں اگر آپ کے اندر کچھ انسانیت اور پاکستانیت باقی ہے تو آپ کو اپنے آپ سے شرم آنے لگے گی۔ تاریخ کی سچائی یہ ہے کہ پاکستان کی خالق جماعت مسلم لیگ نے آج کے پاکستان میں نہیں بلکہ ڈھاکہ میں جنم لیا تھا ۔مسلم لیگ کو پہلا اقتدار پنجاب میں نہیں بلکہ متحدہ بنگال میں ملا۔ بہار، یوپی، سی پی، گجرات اور مدراس کے مسلمان اپنی علیحدہ شناخت کی تحریک میں سب سے آگے تھے۔ علامہ اقبالؒکے خطبہ الہٰ آباد کے بعد اس تحریک نے سندھ، پنجاب اور صوبہ سرحد (خیبر پختونخوا) کا رخ کیا ۔

1946ء میں بہار کے مسلمانوں کی آبادی اپنے صوبے میں صرف 10 فیصد تھی لیکن صوبائی انتخابات میں انہوں نے کانگریس کی 152 نشستوں کے مقابلے پر مسلم لیگ کو 34 نشستیں دلوائیں۔ وہ جانتے تھے کہ بہار پاکستان کا حصہ نہ بنے گا لیکن انہوں نے پاکستان کو ووٹ دیا اور انکی پاکستان سے محبت نے 1946ء کے فسادات میں ہزاروں بہاری مسلمانوں کی جانیں لیں۔ مولانا سید سلیمان ندوی اور مولانا مناظر احسن گیلانی جیسے بہاری علماء کا تحریک آزادی میں کردار تو اہل پاکستان کو یاد ہے لیکن ان علماء کے خاندانوں کو ہم بھول گئے۔

ان میں سے کچھ مغربی پاکستان آئے تھے لیکن زیادہ تر مشرقی پاکستان گئے تھے ۔ ان کی زبان اردو تھی ۔ بنگالیوں کو پاکستان کے ساتھ ساتھ اپنی زبان سے بھی محبت تھی ۔ جب اردو پاکستان کی قومی زبان قرار دی گئی اور اکثریتی صوبے کی زبان نظرانداز ہوئی تو لسانی فسادات شروع ہوئے ۔ ان فسادات نے بہاری پاکستانیوں اور بنگالیوں میں فاصلے پیدا کر دیئے ۔ 1964ء میں بنگالیوں اور بہاریوں نے مل کر جنرل ایوب خان کے مقابلے پر محترمہ فاطمہ جناح کا ساتھ دیا لیکن ریاستی جبر اور دھاندلی نے فاطمہ جناح کو شکست دی۔ 1970ء کے انتخابات میں بہاریوں نے عوامی لیگ کی بجائے جماعت اسلامی اور کنونشن لیگ کا ساتھ دیا ۔

عوامی لیگ کو قومی اسمبلی اور مشرقی پاکستان اسمبلی میں اکثریت ملی۔ پاکستان کے فوجی حکمران جنرل یحییٰ خان نے اقتدار اکثریتی جماعت کے حوالے کرنے کی بجائے اکثریتی لیڈر شیخ مجیب الرحمان کے خلاف فوجی آپریشن شروع کر دیا ۔ بہاریوں کی اکثریت نے اس فوجی آپریشن کی حمایت کی۔ بہت سے بہاریوں نے پاکستانی فوج کے شانہ بشانہ مکتی باہنی کے خلاف لڑائی میں حصہ لیا ۔1971ء میں مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔ پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش کے مابین دہلی میں 1974ء میں ایک معاہدہ ہوا جس کے تحت پاکستان کی حکومت بنگلہ دیش میں پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کی پابند تھی ۔ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت ایک لاکھ سے زائد بہاریوں کو پاکستان واپس لائی لیکن بعدازاں یہ سلسلہ رک گیا۔

کئی سال تک ذلیل وخوار ہونے کے بعد بہت سے بہاری بنگلہ دیش کی شہریت حاصل کر چکے ہیں۔ بنگلہ دیش کی حکومت انہیں ووٹ کا حق بھی دے رہی ہے لیکن 5 لاکھ 39 ہزار پاکستانیوں نے بنگلہ دیشی شہریت قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ وہ پاکستان آنا چاہتے ہیں۔ اس دوران سپریم کورٹ آف پاکستان میں ایک درخواست دائر کی گئی اور استدعا کی گئی کہ بنگلہ دیش میں پھنسے پاکستانیوں کو پاکستان لایا جائے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ نے عدالت میں کہا کہ ان پاکستانیوں کو واپس لانا ہماری ذمہ داری نہیں اور یہ درخواست 2015ء میں مسترد ہو گئی۔ اب یہ لاکھوں پاکستانی بنگلہ دیش میں کیڑے مکوڑے بن کر زندگی گزار رہے ہیں ۔جنیوا کیمپ کے ایک ایک کمرے میں دس لوگ رہتے ہیں ۔ایک لیٹرین کو 90 خاندان استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان کی کوئی بڑی سیاسی جماعت ان مظلوموں کا ذکر نہیں کرتی کیونکہ سندھی قوم پرست ناراض ہو جاتے ہیں۔ پختون اور بلوچ جماعتوں کا یہ مسئلہ نہیں ۔متحدہ قومی موومنٹ بھی اب بہاریوں کی بات نہیں کرتی۔

اہل پنجاب کو پاکستان سے محبت کا سب سے زیادہ دعویٰ ہے لیکن یہ مظلوم پاکستانی اہل پنجاب کو بھی نظرنہیں آتے ۔1971ء میں ان بہاری پاکستانیوں نے مکتی باہنی کے مقابلے پر فوج کا ساتھ دیا تھا۔ جنرل ضیاء اور جنرل مشرف کے دور میں ان مظلوموں کو پاکستان لا کر صرف ایک عدد ڈیفنس ہائوسنگ اسکیم میں کھپایاجاسکتا تھا لیکن پاکستان کے ڈیفنس کی جنگ لڑنے والے ان پاکستانیوں کا ڈیفنس کسی کو یاد نہیں۔ ان کا سب سے بڑا جرم ان کی پاکستان سے محبت اور وفاداری ہے ۔انہوں نے پاکستان کی جنگ لڑی اور آج پاکستان کے حکمرانوں نے انہیں فراموش کردیا۔ قربانی کی عید پر بنگلہ دیش میں پھنسے لاکھوں پاکستانیوں کا المیہ ہمارے لئے باعث شرم ہے۔

------------------------
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.