.

فوڈ فار تھاٹ

محمد بلال غوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صدر مملکت جناب ممنون حسین نے علماء کرام کو ’’فوڈ فار تھاٹ‘‘ دیتے ہوئے سود کی حرمت پر از سر نو غور کرنے اور گنجائش نکالنے کی استدعا کی تو سوچا کیوں نہ موقع غنیمت جانتے ہوئے ان سے دست بستہ گزارش کی جائے کہ آپ بھی ہماری حالتِ زار پر رحم کھائیں اور شاہانہ طرز زندگی سے باز آجائیں ،ممکن ہو تو کوئی گنجائش پیدا کریں، کوئی درمیانہ راستہ تلاش کریں۔ چند روز قبل ایک دیرینہ قاری ڈاکٹر حمیرا نے احتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے کہا کہ حکومت نے 313 اشیاء پر ٹیکس لگانے کا فیصلہ کر کے غریب عوام کا کچومر نکالنے کا پروگرام بنا لیا ہے، ان سے کہیں اپنی فضول خرچیاں اور غیر ملکی دورے کم کریں۔ سرکاری خزانے کو جس طرح مال مفت سمجھ کر گلچھرے اڑانے کیلئے بے رحمی سے خرچ کیا جاتا ہے، اسے دیکھ کر بھلے چنگے آسودہ حال شہری کو بھی ٹیکس بوجھ محسوس ہونے لگتا ہے۔

کفایت شعاری کا ڈھونگ رچانے کے باوجود حالیہ بجٹ میں ایوان صدر اور وزیراعظم سیکرٹریٹ کیلئے مختص رقوم میں اضافہ کیا گیا۔ ایوان صدر کیلئے مختص بجٹ میں 7.77فیصد اضافہ کرتے ہوئے 801ملین روپے رکھے گئے جبکہ وزیر اعظم سیکرٹریٹ کیلئے 842ملین روپے کا تخمینہ منظور ہوا۔اگر اس بجٹ کو 365دنوں پر تقسیم کریں تو ایوان صدر کے روزانہ کے اخراجات 2.19 ملین روپے ہیں جبکہ وزیر اعظم سیکرٹریٹ پر سرکاری خزانے سے یومیہ 2.306 روپے خرچ کئے جاتے ہیں ۔ایوان صدر کے باغیچے کی تزئین و آرائش کیلئے 3کروڑ 13 لاکھ روپے مخصوص کئے گئے ہیں جبکہ وزیر اعظم سیکرٹریٹ میں گل کھلانے اور پودے لگانے کیلئے 2 کروڑ 73 لاکھ روپے منظور کئے گئے ہیں۔

وزیر اعظم پاکستان کے غیر ملکی دوروں کیلئے مختص کی گئی 1700 ملین کی رقم فارن آفس کے کھاتے میں ڈال دی گئی تاکہ نظروں سے اوجھل رہے۔ سال بھر میں بیرون ملک دوروں پر خرچ ہونے والی اس رقم کا حساب کتاب لگایا جائے تو روزانہ ساڑے چھیالیس لاکھ روپے بنتے ہیں۔ صدر مملکت جن کا منصب علامتی اور رسمی نوعیت کا ہے ،انہوں نے بھی غیر ملکی دوروں میں کوئی کسر نہیں چھوٹی ۔آڈیٹر جنرل کی رپورٹ آئی تو معلوم ہوا جناب صدر نے 2013-14 کے دوران غیر ملکی دوروں کے دوران ویٹرز اور ڈرائیورز کو سرکاری خزانے سے 61لاکھ روپے بخشش کے طور پر عنایت کر دیئے۔

قربان جائوں اس عنایت خسروانہ اور انداز شاہانہ پر ،ایسی سخاوت اور دریا دلی ذاتی جیب سے کی ہوتی تو ہم بھی عیب نہ چُنتے بلکہ سر دُھنتے۔ مگر یہ ٹھاٹھ باٹھ ،یہ عیش و عشرت ،یہ شاہانہ انداز و اطوار سرکاری خزانے سے ہی ممکن ہیں ۔اسی رپورٹ میں ہی یہ انکشاف ہوا کہ جناب میاں نواز شریف نے گزشتہ برس عید الفطر پر وزیر اعظم سیکرٹریٹ کے درجہ چہارم کے ملازمین کو 4000 روپے فی کس عیدی دی مگر اس سخاوت اور دریا دلی کا بوجھ بھی ذاتی جیب کے بجائے سرکاری خزانے پر ڈال دیا گیا۔ عیدی کی مَد میں سرکاری خزانے سے 3.7 ملین روپے بانٹے گئے اب یہ حساب کتاب آپ خود ہی لگا لیں کہ وزیر اعظم سیکرٹریٹ میں ملازمین اور خادمین کی کتنی بڑی فوج ہو گی کہ چار ہزارروپے فی کس دینے کے لیئے 37 لاکھ روپے کی ضرورت پڑی۔

جناب صدر ممنون حسین ایوان صدر میں تشریف فرما ہوئے تو فوری طور پر یہ فکر لاحق ہوئی کہ قصر شاہی کی راہداریوں میں ان کا قد آدم پورٹریٹ آویزاں کیا جائے۔ ایوان صدر میں بیشمار سرکاری فوٹو گرافر موجود ہیں جو پلک جھپکنے میں تصویر اتار کر کسی خوبصورت فریم میں آویزاں کر کے دیوار سے ٹانک سکتے تھے، اگر صدر مملکت بننے سے پہلے انہوں نے اپنے ذاتی گھر میں اپنی یا قائد اعظم کی تصویر لگانی ہوتی تو ایک ہزار روپے سے زائد خرچ نہ کرتے۔ مگر یہاں چونکہ سرکاری خزانے سے ادائیگی ہونا تھی تو جناب صدر کا یہ پورٹریٹ 15لاکھ روپے میں تیار ہوا کیونکہ فوٹو شوٹ کیلئے لاہور سے ایک ماہر فوٹو گرافر کی خدمات حاصل کی گئیں اور اسے یہ ٹاسک سونپا گیا کہ ان کی کوئی ایسی تصویر اتاری جائے جس میں واقعی صدر مملکت کی جھلک دکھائی دے. لگے ہاتھوں ان کے اہلخانہ نے بھی سرکاری خرچ پر فوٹو شوٹ کروا لیا۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے اس اہم ترین کام پر سرکاری خزانے سے نو لاکھ روپے خرچ کئے تھے مگر کفایت شعاری کی پالیسی آنے کے بعد صدر ممنون حسین نے 15 لاکھ روپے لگائے۔

کیا ہی اچھا ہوتا کہ سود پر گنجائش پید اکرنے کی اپیل کرتے وقت صدر مملکت لگے ہاتھوں یہ بات بھی کر دیتے کہ سرکاری خرچ پر حج یا عمرہ کرنا بری بات نہیں ،علماء اس پر بھی کوئی راستہ نکالیں۔ کیونکہ ہمارے حکمراں سرکاری خزانے سے عزیز و اقارب ہی نہیں ،دوستوں کو بھی مفت حج اور عمرہ کرواتے رہتے ہیں۔ دیگر اکابرین کی طرح جناب صدر نے بھی صدر مملکت بننے کے بعد اپنے اہلخانہ اور عزیز و اقارب سمیت 22افراد کو سرکاری خزانے سے حج کروایا۔اگر کسی کو یہ دعویٰ ہے کہ اس کی ادائیگی ذاتی جیب سے کی گئی تو اس کا ثبوت فراہم کیا جائے ۔ابھی چند روز قبل جناب صدر مملکت بہاولپور تشریف لے گئے تھے۔ اگرچہ اس دورے میں انہوں نے ایک نجی اسکول کی تقریب میں شرکت کی مگر اس دورے کا اصل مقصد اپنی بوریت دور کرنا اور پرانے دوستوں سے ملنا تھا ۔ان کے ایک دوست جن کے بہاولپور میں کئی پیٹرول پمپ اور سی این جی اسٹیشن ہیں ،انہوں نے دعوت دی تھی۔ بہر حال اس سرکاری کم نجی دورے کیلئے پہلے ایک سی ون تھرٹی طیارہ بہاولپور پہنچا جس میں صدر مملکت کی بلٹ پروف گاڑی اور ان کا سیکورٹی عملہ تھا اور کلیئرنس ملنے کے بعد ایک اور چارٹرڈ طیارے میں صدر مملکت اپنے اہلخانہ کے ہمراہ تشریف لائے۔

چند روز قبل انہوں نے فرمایا تھا کہ میں بدعنوانی کے خلاف جہاد کر رہا ہوں، قوم میرا ساتھ دے۔ خدا جانے انہوں نے کس شے کا نام بدعنوانی رکھا ہے اور جسے وہ جہاد سمجھ رہے ہیں ،وہ حقیقت میں کیا ہے۔ میری تو ان سے یہی التجا ہے کہ حضور والا! آپ ایک مفلس، قلاش، نادار اور غریب قوم کے علامتی سربراہ ہیں، یہ شاہانہ انداز آپ کو زیب نہیں دیتا، کچھ ترس کھائیں اور کوئی گنجائش نکالیں، ہمت ہو تو سربراہ حکومت کو بھی توجہ دلائیں اور بتائیں کہ اس سے پہلے ماضی کہ تلخ یادیں تازہ ہو جائیں اپنی روش میں تبدیلی لائیں۔ جہاں تک سود کے تناظر میں گنجائش کی بات ہے تو علماء اسلامک بنکنگ کے نام پر پہلے ہی بہت گنجائش نکال چکے ہیں، آپ کو یہ بات کر کے رسوائی مول لینے کی کیا ضرورت تھی؟ آپ خاموش ہی رہیں تو بہتر ہے۔ چرچل نے کہا تھا، خاموش رہنے سے آج تک کسی کو بد ہضمی نہیں ہوئی۔ ابراہم لنکن نے اس حوالے سے بہت خوبصورت بات کی ہے ،موقع ملے تو اس پر غور کریں اور براہ کرم کوئی گنجائش نکالیں :
Better to remain silent and be thought a fool than to speak and remove all doubt.
------------------------------------
(کالم نگار کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.