.

ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کی اہمیت

نصرت مرزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کی اہمیت کا اندازہ اِس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس میں شریک ہونے کیلئے بھارت دونوں ملکوں کے مشیر سلامتی امور کے درمیان مذاکرات پر راضی ہوا جو 6 دسمبر 2015ء کو بنکاک میں ہوئےاور اس صورتحال کو پیدا کرنے کیلئے نریندر مودی جن کے منہ سے پاکستان کے لئے کلمہ خیر نہیں نکلتا تھا نے پیرس میں میاں محمد نواز شریف وزیراعظم پاکستان سے پاک بھارت مذاکرات کو شروع کرنے کی درخواست کی۔ یہ درخواست ایک تو ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شریک ہونے کیلئے تھی، دوسرے پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف امریکہ میں جو کچھ کر آئے اس کا حاصل تھا، تیسرے بھارت ساری دُنیا میں اپنی غیرذمہ دارانہ، بچکانہ اور متعصبانہ پالیسی کی وجہ سے بدنام ہورہا تھا اور ساتھ ساتھ خود اُن کے اپنے ملک میں بھی سخت تنقید کی زد میں تھا۔ اسلام آباد میں ہونے والی کانفرنس میں شریک ہونے کا مطلب ہے کہ پاکستان نے اس کا افغانستان میں کردار تسلیم کرلیا ہے۔ تاہم پاکستان کیلئے یہ اچھا تھا کہ بھارت کے مشیر سلامتی امور اجیت دوول سابق سربراہ ’’را‘‘ اور پاکستان کے مشیر سلامتی امور سابق سربراہ جنوبی کمانڈ ناصر جنجوعہ کے درمیان ملاقات ہوئی جنہوں نے افغانستان میں امن قائم کرنے کیلئے بلوچ عوام کے دل جیتے وہاں ’’را‘‘ کی سرگرمیوں کو محدود کیا، انہوں نے بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے ثبوت بھی بھارتی مشیر سلامتی امور کو دیئے۔ جس پر کہا جارہا ہے کہ وہ اِن ثبوتوں کا جواب نہیں دے سکے، یہ درست بات نہیں ہے، سچ یہ ہے کہ وہ انٹیلی جنس کے سربراہ رہے ہیں وہ جواب نہیں دیتے بلکہ اپنی غلطیوں کو درست کرنے کیلئے آپ کے دیئے ہوئے ثبوتوں سے کام لیتے ہیں۔ یہ بات پاکستانیوں اور حکمرانوں کو مان لینا چاہئے کہ بھارت کبھی بھی ہمارے ساتھ سکون اور اچھے پڑوسی کی طرح نہیں رہ سکتا۔ ضرورت پڑی اور دبائو میں آیا تو قدرے جھک گیا اور ایسا لگنے لگا کہ برف پگھل گئی جبکہ ان کاپروگرام یہ ہے کہ آگے چلیں گے پینترا بدل کر۔ کہا جارہا ہے کہ کشمیر سمیت تمام امور پر مذاکرات کیلئے بھارت تیار ہوگیا ہے۔ وولر بیراج،سیاچن، سرکریک، تجارتی تعلقات مستحکم بنانے پر اقدامات کا فیصلہ اور ساتھ ساتھ اس نے افغانستان تک جانے کیلئے راہداری مانگ لی ہے۔ یہی اُن کا حتمی مقصد ہے کہ اُن کے ٹرک پاکستان سے گزرتےہوئے افغانستان جائیں، ساتھ ساتھ پاکستان مخالف عناصر راستے میں چھوڑتے جائیں۔

مذاکرات کی تاریخ شہید ملت لیاقت علی خاں کے دور سے شروع ہوئی کہ فسادات رکیں، وقتی طور پر رکے اور جب بھی موقع ملتا ہے فسادات ہوتے رہتے ہیں۔ پھر ایوب خاں کے دور میں بھارت کی نیفا اور لداخ میں چین سے شکست کے بعد امریکہ نے مذاکرات کرائے، ذوالفقار علی بھٹو اور سورین سنگھ جو دونوں وزرائے خارجہ تھے نے مذاکرات کے کئی دور کئے مگر معاملہ 1965ء کی جنگ پر جا کر منتج ہوا۔ اگرچہ قدرت اللہ شہاب نے اپنی کتاب ’’شہاب نامہ‘‘ میں لکھا ہے کہ چینی سفیر نے اُن کو اطلاع دی کہ وہ نیفا میں حملہ کرنے والے ہیں۔ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر پاکستان کشمیر پر قبضہ کرلے، مگر ایسا نہیں کیا گیا، امریکہ نے پاکستان کو تسلی دی کہ وہ پُرامن طریقے سے کشمیر پاکستان کو دلا دیں گے گو انہوں نے ایسا نہیں کیا ۔ آخر بات جاکر جنگ پر ختم ہوئی اور پھر 71ء کی جنگ نے پاکستان کو دولخت کیا، یہ اِن مذاکرات کا ہی حاصل کہلایا جائے گا۔ پاکستان کی فوجی طاقت جو 65ء میں دُنیا بھر نے تسلیم کی اُس کو 71ء میں شکست کے ذریعے بے اثر کردیا گیا۔ پھر ذوالفقار علی بھٹو اور اندرا گاندھی کے درمیان مذاکرات ہوئے۔ اس کے بعد جنرل ضیاء الحق کے دور میں گفتگو شروع ہوئی، پھر میاں محمد نواز شریف کے دورِحکومت میں بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی پاکستان آئے، مینار پاکستان کے نیچے کھڑے ہو کر تصویر بنائی کہ انہوں نے پاکستان کو دل سے تسلیم کرلیا ہے۔ کشمیر سمیت سارے مسائل حل کرنے کا عندیہ دیا۔ پھر معرکہ کارگل ہوگیا اور مربوط مذاکرات ختم ہوگئے۔ پرویز مشرف کے دور میں بھی مذاکرات ہوئے، اگرچہ پرویز مشرف کو مذاکرات کرانے کیلئے بہت کوشش کرنا پڑی اور کافی نچلی سطح پر مذاکرات کئے گئے۔ اس دفعہ بھارت کو مذاکرات کیلئے ایک خاص تکنیک سے مجبور کیا گیا۔ روسی شہر اوفا مذاکرات کے بعد بھارت نے سرتاج عزیز مشیر خارجہ کے دورے کو ایک روز پہلے ملتوی کردیا کیونکہ پاکستانی وزیرخارجہ کے دورے پر جانے سے پہلے Litmus Test کیا گیا یعنی بھارت میں سفیر پاکستان نے کشمیری رہنمائوں سے ملاقات کرلی جس پر چراغ پا ہو کر بھارت نے مذاکرات معطل کردیئے، اب ہارٹ آف ایشیا کانفرنس سے پہلے بھارت مذاکرات پر مجبور ہوا اور خود مودی صاحب نواز شریف سے ملے اور 167 سیکنڈ کی ملاقات میں سب کچھ طے ہوگیا جو اب تک ہوچکا ہے۔ یعنی مشیران سلامتی امور کی بنکاک میں ملاقات اور سشماسوراج کا ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شریک ہونا، دوطرفہ مذاکرات کا شروع ہونے کا عندیہ اور آئندہ سال سارک سربراہ کانفرنس میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی آمد کا فیصلہ، ہمارے خیال میں یہ سب وقتی ہے۔ بھارت پر جیسے ہی دبائو پڑے گا وہ اپنا موقف بدل لے گا ہمیں امید ہے کہ پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیاں جو دُنیا بھر میں اپنے تدبر اور رسائی کے حوالے سے مشہور ہیںپاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کے جلو میں بھارت کی کمزوریوں پر نظر رکھیں گی اور افغانستان سے تعلقات میں بہتری لانے کی کوششوں کو بھی جاری ر کھیں گی۔ میاں نواز شریف کا اشرف غنی صدر افغانستان کو خود ایئرپورٹ پر جا کر خیرمقدم کرنا ان کے تدبر کا مظہر ہے۔ ہم افغانستان سے واقعی دوستی چاہتے ہیں اور افغانستان کا امن پاکستان کیلئے بہت اہم ہے۔ ہم افغان بھائیوں کی خوشحالی کے خواہاں ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہاں کے سارے گروپ صورتحال کو سمجھیں کیونکہ پاکستان سے جو تعاون چاہتے ہیں وہ پاکستان دینے کو دستیاب ہے۔ ہم افغان صدر کی کانفرنس میں کی گئی تقریر میں جذبہ خیرسگالی کے تحت صرفِ نظر کرتے ہوئے کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔ البتہ بھارت کے معاملے میں یہ زور دے کر کہیں گے کہ ان سے مذاکرات، یہاں تک کہ مسکراہٹ کے تبادلوں میں احتیاط سے کام لینا چاہئے اور اصول یہ وضع کرنا چاہئے کہ اِن کے ساتھ ہم نے ذرا ہی نرم رویہ اختیار کیا تو یہ فوراََ بدل جائیں گے۔ جس طرح چیئرمین کرکٹ بورڈ اُن سے عاجزی کررہے ہیں۔ وہ پاکستانیوں کی شان کے خلاف ہے ، تعجب ہے کہ پیسے کے حصول کیلئے قومی وقار کو دائو پر لگا یا جارہا ہے۔ شہریار خان صاحب کو سوچنا چاہئے کہ بھارت کے ساتھ نرمی اور عاجزی سے پاکستان کی توہین ہوتی ہے اور ہم اپنی توہین اور وقار پر کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ'
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(کالم نگار کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.