پوتین سے جنگ کے لیے اوپیک پلس کا کاندھا

محمد الیحییٰ
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اپنی بے احتیاطی اور لاپرواہی کی وجہ امریکی دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ شرق اوسط گذشتہ دو دہائیوں سے انکل سام کے دیس کے باسیوں اور حکمرانوں کے اسی مختلف انداز فکر کا ہدف بنا ہوا ہے۔ لیکن لمحہ موجود میں مذکورہ ریجن کے زمینی حقائق سے آنکھ چرانے کو خود فریبی کے سوا کچھ اور نام نہیں دیا سکتا۔

امریکہ کی موجودہ اور سابقہ قیادت کے شرق اوسط سے متعلق عاقبت نااندیش انداز فکر کی وجہ سے ایک جانب علاقے کے لوگوں کے سر پر غم کے پہاڑ ٹوٹے تو دوسری طرف امریکی خود بھی ان حماقتوں سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔

زبانی جمع خرچ، غرور اور زمینی حقائق سے عدم واقفیت کی بنا پر امریکی پالیسی سازوں نے گذشتہ ہفتے ایک نئی درفطنی چھوڑی۔

وائٹ ہاؤس کے نیشل سکیورٹی امور کے ترجمان جان کربی نے گذشتہ منگل کو اعلان کیا کہ اوپیک پلس کی جانب سے تیل کی پیداوار کم کرنے کے فیصلے کے تناظر میں امریکی صدر جو بائیڈن سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کا از سر نو جائزہ لیں گے۔

’’پوتین سے جنگ کے لیے اوپیک پلس کا کاندھا‘‘ کے عنوان سے ہونے والی گفتگو میں جان کربی نے مزید کہا کہ سینٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے سربراہ کے طور پر میں الریاض کے ساتھ تعلقات کے لئے اس وقت تک کسی قسم کی اجازت نہیں دوں گا جب تک سعودی عرب یوکرین جنگ سے متعلق اپنی پوزیشن کا از سر نو جائزہ نہیں لیتا۔

امریکہ اور سعودی عرب کے باہمی تعلقات کو ایک دوسرے کے لیے لازم وملزوم سمجھنے والا ہر ذی غرض [stakeholder] ریاض ۔ واشنگٹن تعلقات پر نظر ثانی کی بات کو خوفناک سمجھتا ہے۔

یادش بخیر! یہ امریکی صدر باراک اوباما کی انتظامیہ ہی تھی جس نے روسی صدر ولادیمیر پوتین کو مشرقی بحیرہ روم میں قدم جمانے کا موقع دیا۔ پہلے سیاہ فام امریکی صدر نے اپنی اس کوشش کو امریکی عوام کے سامنے بڑے کارنامے کے طور پر پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے اس اقدام سے شام میں جاری ’’خانہ جنگی کی حدت کم‘‘ کرنے میں مدد ملے گی۔

گذشتہ ایک دہائی سے وائٹ ہاؤس نے جزیرہ کرائمیا اور شام میں گرما پانیوں والی بندرگاہیں ولادیمیر پوتین کو پلیٹ میں سجا کر پیش کرنے کی جس پالیسی پر عمل درآمد کر رہا ہے، اس کا پھل کوئی اور نہیں بلکہ امن کا دشمن ایران کھا رہا ہے۔

اسی امریکی پالیسی نے ایران کو خطے میں لگنے والی آگ کے شعلوں سے بچایا۔ خطے میں امریکہ کے اتحادی سعودی عرب، خلیجی ممالک اور اسرائیل کے پاس واشنگٹن کی طرف سے مقرر کردہ راستے پر چلنے کے سوا کوئی دوسرا آپشن موجود نہیں تھا۔

گذشتہ مہینے جب روس فوج نے ایرانی ساختہ ڈورنز کو بروئے کار لاتے ہوئے کیئف کی اینٹ سے اینٹ بجائی تو ایسے میں سعودی عرب نے اپنی سفارتی قوت کو استعمال کرتے ہوئے پوتین سے امریکی اور برطانوی جنگی قیدیوں کو رہائی دلوائی۔

امریکی پالیسیاں سعودی عرب کو ایک ایسے ہمسایہ ملک [شام] لے گئیں جسے ایرانی گروپس اور روسی فضائیہ عملاً کنڑول کر رہے تھے۔ اس پر مستزاد یہ کہ بائیڈن انتظامیہ نے تہران سے جوہری معاہدہ کر کے اس پر عاید پابندیاں ختم کروائیں۔

اس سے ایران کو اربوں ڈالر ہاتھ آئے جسے ولی الفقیہ کا نعرہ مستانہ لگا کر خطے کو آگ کے حوالے کرنے والی ایرانی قیادت نے عراق، شام کو تباہ کرنے کے بعد لبنان میں افراتفری کی ایسی بنیاد رکھی کہ جس سے مشرق وسطیٰ کا پیرس بدامنی کے اندھیروں میں ڈوب گیا۔

اس امریکی پالیسی کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلا کہ یمن سے ایرانی میزائل اور ڈرون کے سعودی عرب کی تیل تنصیبات سے لے کر شہریوں آبادیوں حملے زور مرہ کا معمول بن گئے۔

گذشتہ سال جب سعودی عرب کے تیل کے ذخائر اور ریفائنریز پر میزائلوں کی بارش جاری تھی تو بائیڈن انتظامیہ نے ’دوستی کا حق‘ ادا کرتے ہوئے دارلحکومت ریاض کے تحفظ کی خاطر نصب کردہ ائر ڈیفنس بیٹریاں ہٹانے کا حکم صادر فرمایا۔

سات سالوں تک سعودی عرب نے نہتے شامی عوام کے خلاف روسی فوج کے مظالم دیکھے ہیں۔ ان میں کیمیائی ہتھیاروں سے حملوں جیسی غیر انسانی کارروائیوں میں روسی معاونت کے باوجود سعودی عرب نے یوکرین پر روسی حملے کی مذمت میں پس وپیش سے کام نہیں لیا۔

مغربی دنیا کی اکثریت شامی جنگ کو آسان اور مختصر سمجھتی رہی، صرف اسرائیل اور سعودی عرب ہی پوتین کی اصل صلاحیت کا اداراک رکھتے تھے۔

سعودی عرب نے ہر ممکن کوشش کی کہ وہ امریکہ کو زک پہنچائے بغیر علاقائی سطح پر پیدا ہونے والے عدم استحکام میں بہتری کی کوشش جاری رکھے۔ اس علاقائی عدم استحکام کی وجہ بھی خود واشنگٹن ہی تھا۔ سعودی عرب ہمیشہ علاقائی امن اور مملکت کے دفاع میں کی جانے والی امریکی کوششوں کا معترف رہا ہے۔

جنوری 2021 کو وائٹ ہاؤس میں بائیڈن کی آمد کے بعد سعودی عرب کو اس وقت ’‘خطرے اور تکلیف‘‘ کا احساس ہوا جب ستر سالہ ڈیموکریٹ صدر نے امریکی عوام کو اپنا انتخابی وعدہ یاد دلاتے ہوئے کہ ہم ’’سعودی عرب سے تعلقات پر نظر ثانی کریں گے‘‘ اور ’’سعودی ولی عہد کے کردار کو مارجنلائز کرتے ہوئے شاہی خاندان پر کوئی دوسرا سوبر متبادل لانے کے لئے دباؤ ڈالیں گے‘‘ اور ’’ایسا نہ ہوا تو سعودیوں کو اس کی قمیت ادا کرنا ہو گی اور ہم سعودی عرب کو اچھوت مملکت بنا دیں گے۔‘‘ کیا دوست، دوستوں کے بارے میں ایسی خوفناک باتیں کیا کرتے ہیں؟

امریکہ آج ’’سعودی عرب سے تعلقات پر نظر ثانی‘‘ کا دعوی کر رہا ہے اس کی بظاہر وجہ اوپیک پلس کی جانب صدر بائیڈن کی گذشتہ کئی مہینوں سے کی جانے والی درخواست کا مسترد ہونا ہے جس میں وہ امریکہ کے وسط مدتی انتخاب میں کامیابی کے امکانات میں بڑھوتری کی باتیں کرتے رہے ہیں، تاہم تیل کی غیر مستحکم قیمتوں کے باعث یہ امکانات معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔

امریکیوں سے دوستی کا دعویدار کوئی بھی شخص تیل کی قیمتوں کے اضافے کا امریکی عوام کی زندگیوں پر منفی اثر نہیں دیکھنا چاہتا۔ لیکن شرق اوسط کے عدم استحکام کو بڑھاوا دینے میں خود امریکہ بھی قصور وار ہے جب وہ ایرانی دہشت گردی کے لئے جوہری معاہدے کی بحالی کی آڑ میں تہران کے ڈالروں کی بوریوں کے منہ کھول دیتا ہے تو ایسے میں سعودی عرب کے پاس کسی بڑی غلطی کی گنجائش نہیں رہتی کہ وہ تیل کی عالمی منڈی کو امریکہ کے وسط مدتی انتخاب میں کسی مخصوص جماعت کی کامیابی کو یقینی بنانے کی خاطر غیر مستحکم کرے۔

امریکی صدور بائیڈن اور اوباما نے اپنے دور اقتدار میں سعودی عرب اور اسرائیل کو سفارتی اور سکیورٹی کے شعبوں میں بہت نقصان پہنچا۔ اب بائیڈن انتظامیہ نے کاربن کا اخراج کرنے والے توانائی ذرائع کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہوئے یہ حقیقت فراموش کر دی کہ متبادل توانائی کے عبوری طریقوں کا بندوبست کیسے کیا جائے گا؟

’’دا گرین نیو ڈیل‘‘ امریکی کانگریس کے مٹھی بھر ارکان کی جانب سے مشتہر کیا جانے والا ایسا سراب ہے جس میں سنجیدگی کے فقدان کے ساتھ اس بات کا بھی کوئی ادارک دکھائی نہیں دیتا کہ امریکہ اور عالمی معیشت کا پہیہ کیسے چلتا ہے؟

اس حکمت عملی کا مقصد ماضی میں بھی یہی تھا اور آئندہ بھی یہی رہے گا کہ توانائی کی صاف ٹکنالوجیز اور فوسل فیولز کا کنٹرول روس اور چین کے سپرد کرنا تھا۔

مذکورہ پالیسی دراصل امریکی انتظامیہ کے منافقانہ رویوں میں ایک نیا اضافہ کہلا سکتی ہے۔ فاسل فیول استعمال کرنے سے ممانعت کی اپیل اور پوتین کے ملک روس کو عالمی توانائی مارکیٹ سے بیدخل کرنا عجب بات نہیں، لیکن روس سے تیل کی خریداری جاری رکھتے ہوئے ایسی باتیں کرنا صرف عجب نہیں بلکہ منافقت کی شرمناک مثال قرار دی جا سکتی ہے۔

روس کے یوکرین پر حملے کے ایک ماہ بعد [اپریل 2022] مغربی دنیا نے ماسکو پر کڑی پابندیاں عاید کیں، جبکہ اسی مدت کے دوران امریکہ نے روسی تیل کی ریکارڈ مقدار درآمد کی جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔

مؤقر امریکی اخبار ’فائنینشل ٹائمز‘ نے گذشتہ ہفتے شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ ’’یوکرین پر حملے کے بعد سے فوسل فیولز کی مد میں کئی یورپی ملکوں نے روس کو 100 ارب یورو ادا کئے ہیں۔‘

اسی مدت کے دوران امریکی انتظامیہ نے روس کے خلاف اقدامات نہ اٹھانے کی پاداش میں اسرائیل، سعودی عرب، خلیجی ممالک کو کھلے عام ڈانٹ پلائی ہے۔

اس امریکی ‘کارکردگی‘ نے اسرائیل، ریاض، ابوظبی، نئی دہلی، ماسکو اور کیئف سمیت کسی کو متاثر کیا اور نہ ہی یہ رویہ امریکی شہریوں کے ووٹ لینے کے کام آ سکے گا۔

گذشتہ آٹھ دہائیوں کے دوران ایک دن بھی ایسا نہیں گذرا جب سعودیوں کا امریکہ کے ساتھ تعلق خراب ہوا ہو۔ امریکہ نے اپنے اور اتحادیوں کی حفاظت کی خاطر جو دفاعی انجیئنرنگ تیار کی، ہتھیار یا دفاعی سسٹمز فروخت کئے، اس کے بدلے میں سعودی عرب سے جس بات کی توقع تھی، ریاض اس پر کما حقہ پورا اترا۔

سعودی عرب نے تیل کی عالمی منڈیوں سے متعلق تعاون کے ساتھ امریکی دفاعی صعنت کے لئے ایک بڑی زرخیر منڈی فراہم کی۔ امریکی فوج کو اپنے ہاں اڈے پیش کیے اور واشنگٹن کے ساتھ دونوں ملکوں کے انٹلیجنس معاملات پر بھی بھرپور تعاون کیا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان دہشت گردی کے خلاف جنگ اور اس سے قبل تعلقات میں نشیب و فراز بھی آئے، تاہم اس کے بعد بھی سعودی معاشرہ اور حکومت زیادہ تر واشنگٹن کے بیانیے کا ہی پرچار کرتے رہے ہیں۔

سعودی عرب، امریکہ کو عراق پر حملے کا منصوبہ ترک کرنے پر زور دیتے رہا ہے۔ یہ بات سعودی عرب کی اس خواہش کی غماز تھی کہ مملکت نیک نیتی سے خود کو اس معاملے میں فاصلے پر رکھنا چاہتی ہے کیونکہ امریکی حملے کے تباہ کن نتائج نوشتہ دیوار تھے۔

دوسری جانب واشنگٹن، براک اوباما نے عمداً یا، بش نے غیر ارادی طور پر اسرائیل اور سعودی عرب کے زندہ وموجود دشمن ایران کے علاقائی بالادستی کے رجحانات کی بڑھوتری میں مؤثر سہولت کار کا کردار ادا کیا۔ اس کے باعث عراق سے یمن اور شام سے لبنان تک پورا خطہ آگ کی لیپٹ میں ہے۔

پوتین کی مدد کے علاوہ امریکہ کے پارٹنرز صدمے کی حالت میں یہ منظر کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے کہ بائیڈن انتظامیہ کیسے بڑھ چڑھ کر ایران کے جوہری پروگرام کے لئے روس کے منافع بخش اشتراک میں تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔

ایران جوہری معاہدے کی بحالی کی کوششوں میں روسی مذاکرات کاروں کی خدمات سے استفادہ کر رہا ہے، حتی کہ تہران نے روس میں اپنے جتھوں کے ذریعے نیٹو ملکوں کے فوجی تہہ تیغ کرانے سے بھی گریز نہیں کیا۔

دراصل بائیڈن انتظامیہ کی یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کو جنگ سے گریز اور فرار کی راہ اختیار کرنے کی نصیحت نے ہی جنگ کا شعلہ بھڑکایا۔ یوکرینی فوجی اور شہری جس وقت اپنی دلیرانہ جدوجہد کے ذریعے روس کے توسیع پسندانہ عزائم کی راہ روکنے کے لیے میدان جنگ میں تھے تو عین اس وقت وائٹ ہاؤس اور امریکی دفتر خارجہ اپنے سفارتی عملے اور شہریوں کے یوکرین سے انخلا میں مصروف تھا۔

ستم بالائے ستم کہ انکل سام دوسرے ملکوں کو بھی یہی درس دے رہا تھا۔ واشنگٹن کے اس خود غرضانہ رویے کا دنیا بھر میں امریکی اتحادیوں پر بہت زیادہ منفی اثر پڑا۔

سعودیوں کی بڑی اکثریت امریکی ڈیموکریٹس یا ری بپلکینز میں کسی کے ساتھ برا ہوتے نہیں دیکھنا چاہتی۔ امریکہ اور سعودی عرب کو ایک دوسرے کی آج بھی اسی طرح ضرورت جس کی بنیادیں شاہ عبدالعزیز اور فرینکلن روز ویلٹ نے 1945 میں رکھ چھوڑیں تھیں۔

امریکہ کے اتحادیوں کو آج وہ ورلڈ آڈر منتشر ہوتا دکھائی دے رہا ہے جسے امریکہ نے سوویت یونین کے زوال کے بعد بڑی محنت سے کھڑا کیا تھا۔ وائٹ ہاؤس جس سرعت کے ساتھ دنیا اور اتحادیوں کو اپنی علاقائی اور عالمی پالیسیوں سے متعلق پیٹھ دکھا رہا ہے، اس سے ورلڈ آڈر کی عمارت کا زوال نوشتہ دیوار ہے، جسے شاید قصر سفید میں بیٹھے کوتاہ بین امریکی کارپرداز فی الوقت دیکھنے اور محسوس کرنے سے قاصر ہیں۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں