یوکرین،روس جنگ کے خاتمے کے لیے نیتن یاہو کی ثالثی کا مخمصہ

ڈیوڈ پاول
ڈیوڈ پاول
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے 30جنوری کو نشرہونے والے سی این این کے ساتھ ایک وسیع انٹرویو میں پوچھا گیا تھا کہ کیا وہ یوکرینی صدرولودی میرزیلنسکی کے ایک سینیرمشیر کی طرف سے یوکرین اور روس کے درمیان تنازع کے خاتمے کے لیے ثالثی کی کوشش کی پیش کش کو قبول کریں گے؟نیتن یاہو نے امریکی نیٹ ورک کو بتایا کہ روسی حملے کے ابتدائی دنوں میں انھیں غیر سرکاری طور پر ثالثی کرنے کے لیےکہا گیا تھا لیکن انھوں نے اسے ٹھکرادیا تھا کیونکہ وہ اس وقت وزیراعظم نہیں تھے۔انھوں نے کہا کہ وہ اب اس خیال پرغور کریں گے کہ وہ اقتدار میں واپس آچکے ہیں لیکن صرف اس صورت میں جب انھیں دونوں اطراف اور امریکاکی طرف سے ایسا کرنے کے لیے کہا جائے۔اس کے لیے ’’درست وقت اوردرست حالات‘‘ہونے چاہییں۔

اسرائیلی وزیراعظم اس تنازع میں ثالثی کے لیے دیگر رہ نماؤں کے مقابلے میں بہترپوزیشن میں ہیں۔گذشتہ سال فروری میں تنازع کےآغازکے بعد سے اسرائیل سفارتی محاذ آرائی پرایک تنی رسی پر چل رہا ہے۔امریکا کا مضبوط اتحادی ہونے کے باوجود صہیونی ریاست مغربی اتحاد کا حصہ نہیں،جو کیف کوفوجی برتری کے مقصد سے تیزی سے جدید ترین ہتھیاروں سے لیس کررہا ہے اور اس طرح ماسکو کو تصفیے پر بات چیت کرنے پر مجبورکررہا ہے لیکن اسرائیلی حکومت نے تنازع کے آغاز ہی سے یوکرین کو ہتھیاربھیجنے کے مطالبے کو مستردکردیاتھا اور اپنی امدادکو زیادہ تر انسانی امداد تک محدود کردیا ہے۔

یوکرین کو مسلح کرنے میں یہ ہچکچاہٹ اسرائیل کے ان خدشات کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے جس کے تحت نیتن یاہو نےایک دہائی قبل صدرولادی میرپوتین کے ساتھ ذاتی حیثیت میں طے شدہ معاہدے کو خطرے میں نہیں ڈالا تھا۔اس کے تحت اسرائیلی جنگی طیاروں کو شام میں پروازکرنے اور حزب اللہ اورایران کے حمایت یافتہ دیگرملیشیا گروپوں کے خلاف باقاعدگی سے فضائی حملے کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔نیتن یاہوواضح کرچکے ہیں کہ وہ شام میں اسرائیل کے خلاف تیسرا محاذ کھولنے، لبنان میں حزب اللہ اور غزہ میں حماس کی حمایت میں اضافے کے لیے ایران کی کوششوں کو ملک کی سلامتی کے لیے ایک بنیادی خطرہ سمجھتے ہیں۔

ان کاکہنا ہے کہ وہ یوکرین کوانسانی امداد کے علاوہ دیگرغیر واضح امداد بھیجنے پرغور کر رہے ہیں، لیکن یہ واضح ہے کہ وہ ماسکو کو ناراض کرنے اور شام کے معاملے پر معاہدے کو خطرے میں ڈالنے سے محتاط ہیں،اس کے باوجود کہ امریکا کی جانب سے اسرائیل سے یوکرین کوہتھیاربھیجنے کی بارباراپیل کی جارہی ہے۔گذشتہ ہفتے ہی امریکی وزیرخارجہ انتھونی بلینکن نے یروشلم (مقبوضہ بیت المقدس) کے دورے کے موقع پریوکرین کوسلامتی کے ساتھ ساتھ انسانی امدادمہیّاکرنے کی ضرورت کے بارے میں خبردارکیا تھا۔

شام میں ماسکو کے فضائی تعاون پر انحصار کو متوازن کرتے ہوئے نیتن یاہو حکومت یوکرین کے ساتھ اپنے تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کررہی ہے۔نیتن یاہونے بلینکن کو بتایا کہ وہ یوکرین کو اسرائیل کا آئرن ڈوم ایئرڈیفنس سسٹم بھیجنے پر غور کررہے ہیں تاکہ اسے سویلین انفراسٹرکچر پر روس کے فضائی حملوں سے بچانے میں مدد مل سکے۔اسرائیلی وزیرخارجہ ایلی کوہن نے گذشتہ ہفتے اپنے یوکرینی ہم منصب دمتروکلیبا کی کیف کادورہ کرنے کی دعوت قبول کی تھی۔وہ جنگ کےآغاز کے بعد سے یوکرین کا دورہ کرنے والے سب سے سینیر اسرائیلی عہدہ دارہوں گے۔

تاہم اسرائیل کی جانب سے دونوں فریقوں کے ساتھ اپنے مثبت تعلقات کو ثالث کے طور پربروئے کارلانےکی کوشش ناکام رہی ہے۔ تنازع کے ابتدائی ہفتوں میں اس وقت سابق اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے مبیّنہ طور پر صدرزیلنسکی کی دعوت پر دونوں فریقوں کے درمیان ثالثی کی کوشش کی تھی۔ انھوں نے دونوں رہ نماؤں کے ساتھ بار بار فون پر بات چیت کی اور یہاں تک کہ صدرپوتین کے ساتھ تین گھنٹے کی ملاقات کے لیے ماسکو بھی گئے تھے لیکن اس سب کا کوئی فائدہ نہیں ہوا تھا۔

اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ نیتن یاہو11 ماہ قبل بینیٹ کے مقابلے میں آج بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔وہ جانتے ہیں کہ یوکرین میں زمینی صورت حال ایسی نہیں جواس وقت مذاکرات کے ذریعے تصفیے کے زیادہ امکانات پیش کرتی ہے۔ دونوں فریق موسم بہارمیں بڑے پیمانے پرمتوقع حملے کی تیاری کررہے ہیں۔مغربی ممالک نے یوکرین کو جنگی ٹینک مہیاکرنے پراتفاق کیا ہے تاکہ یا تو روسی حملوں کو روکا جا سکے یا یوکرین کو مشرق میں روسی لائنوں سے گزرنے کی اجازت دی جا سکے۔

اگرچہ نیتن یاہو نے یوکرین کی جنگ کو عالمی اہمیت کا حامل قرار دیا ہے، لیکن اسے ختم کرنا ان کی وزارت عظمیٰ کی چھٹی مدت کے اہم مقاصد کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔ایران کے جوہری عزائم کو ناکام بنانا،عرب ممالک تک امن معاہدوں کی توسیع اور اسرائیل کی معیشت کو فروغ دینا ان کے اہداگ ہیں۔واضح طور پریہ تنازع اسرائیل کو براہ راست اس طرح سے خطرے میں نہیں ڈالتا جس طرح یورپی ریاستوں کودرپیش ہے۔نیتن یاہو ایران کو ایک بہت بڑا اورفوری خطرہ سمجھتے ہیں۔

روس کے ساتھ اچھے تعلقات برقراررکھنے پر ان کے انحصار کو دیکھتے ہوئے، نیتن یاہو کا روسی صدر پوتین پراثرورسوخ محدود ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ روس کویوکرین پر ڈرون حملوں سے روکناچاہیں گے اورایران اور روس کے درمیان بڑھتے ہوئے فوجی اتحاد کے بارے میں بات چیت میں پہیّا ڈالنا چاہیں گے جس کے بارے میں بلینکن نے گذشتہ ہفتے یروشلم میں خبردار کیا تھا۔

لیکن نیتن یاہو چاہتے ہوئے بھی روس پر دباؤ کیسے ڈال سکتے ہیں؟ اگرامریکا اورمغربی طاقتیں ایسا نہیں کر سکتیں یا نہیں کریں گی کیونکہ وہ تو یوکرین کو مسلح کررہی ہیں توان کے پاس یوکرین کو اپنے جنگی مقاصد کو کم کرنے اوراپنی سرزمین کی مکمل آزادی کے لیے آمادہ کرنے کا بہت کم امکان ہوگا۔ اہم بات یہ ہے کہ امریکا نے نیتن یاہو سے ثالث کے طور پرمدد لینے کے کوئی اشارے نہیں دیے ہیں۔

نیتن یاہو یوکرین میں جنگ کے خاتمے میں کامیابی کے ساتھ ثالثی کرتے ہیں تو وہ خود اپنے ملک کو ملنے والے عالمی وقار سے واضح طور پر لطف اندوز ہوں گے ، لیکن وہ جانتے ہیں کہ مستقبل قریب میں اس طرح کے نتائج کا امکان بہت کم ہے۔اس دوران میں امکان ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام اور اس کی جانب علاقائی ملیشیاؤں اور دہشت گرد گروپوں کی حمایت سے اسرائیل کی سلامتی کو لاحق فوری خطرے سے بچانے پرتوجہ مرکوز کریں گے جبکہ امن عامہ کی صورت حال اورمغربی کنارے میں دھماکا خیزسکیورٹی صورت حال پر قابو پانے کے لیے اپنی دائیں بازو کی حکومت کا انتظام سنبھالیں گے۔جیسا کہ انھوں نے سی این این کو بتایا، یوکرین کی جنگ ’’بڑی اہمیت‘‘ کی حامل ہوسکتی ہے، لیکن اسرائیل کے پاس’’نمٹنے کے لیے اپنا پس منظر‘‘تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈیوڈ پاول نے 20 سال تک بی بی سی عربی اور ایم بی سی سمیت پان عرب ٹیلی ویژن نیوز میں صحافی کی حیثیت سے کام کیا۔اب وہ مشرق اوسط کے امور کے تجزیہ کار ہیں۔وہ میڈیا اور اسلامی تحریکوں میں مہارت رکھتے ہیں۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں