بنگلہ دیش: رضاکار بمقابلہ حسینہ اور مجیب کے بت
ایک ماہ قبل کون جانتا تھا کہ بنگلہ دیش پر آہنی گرفت سے حکومت کرنے والی شیخ حسینہ واجد کے اقتدار کا سورج یوں ڈوبے گا اور ملک سے فرار ہونا ان کا مقدر بنے گا۔
اپنے چار ادوار میں ، مجموعی طور پہ قریبا 20 سالہ اقتدار کے دوران 76 سالہ شیخ حسینہ واجد نے راہ میں آنے والے تمام حریفوں کو بزور دبایا۔ بنگا بندھو کی جانشین کے طور پہ وہ ناقابل شکست بنی رہیں اور اپنے پیروکاروں کو آزادی کی میراث پر اجارہ داری برقرار رکھنے میں مدد کرتی رہیں۔
باہر کی دنیا میں انہیں ایک زبردست مثال کے طور پہ پیش کیا جاتا ہیں۔ وہ دنیا کی طویل ترین عرصے تک خدمات انجام دینے والی خواتین سربراہان حکومت میں شامل ہیں۔ انہیں ایک سیکولر مسلمان سمجھا جاتا ہے جس نے اسلام پسندوں کا مقابلہ کیا، لاکھوں لوگوں کو غربت سے نکالا اور بڑی تدبیر سے ہندوستان اور چین دونوں کو اپنے ساتھ ملا کے رکھا۔
ان کا دور معاشی ترقی سے معنون کیا گیا۔ محض دس سال میں بنگلہ دیش کی فی کس آمدن تین گنا بڑھ گئی۔ بنگلہ دیش کو پورپی یونین اور چین کے بعد ملبوسات برآمد کرنے والی تیسری بڑی قوت اور آٹھویں ابھرتی ہوئی معیشت کہا گیا۔
لیکن یہ بظاہر کامیابی بھاری قیمت پر آئی ہے۔ گذشتہ 15 سالوں میں، شیخ حسینہ نے اختیارات کو وسیع کرنے کے لیے 170 ملین لوگوں کی اس قوم کو تقسیم کردیا۔ اپنے حامیوں کو سرپرستی، طاقت، مراعات اور استثنیٰ سے نوازا گیا۔ اختلاف کرنے والوں کو کریک ڈاؤن، لامتناہی قانونی الجھنوں اور قید و بند کا سامنا کرنا پڑا۔
ان کے اقتدار کا فارمولا ان کے والد شیخ مجیب الرحمان اور اہل خانہ کے قتل کے صدمے، پاکستان سے آزادی اور بنگلہ دیش میں بچے کھچے پاکستان مائل جذبات سے نجات پر مرتکز رہا۔ یہ بیانیہ ان کی سیاست کا محور تھا جس کے پھیلاؤ کے لیے انہوں نے آہنی ہاتھ استعمال کرنے سے بھی دریغ نہ کیا اور پرتشدد سیاسی کلچر کا آغاز کیا جس میں بغاوت در بغاوت اور قتل و غارت گری عام تھی۔
آج بھی، چار دہائیوں کے بعد، ان کے عوامی بیانات بغاوت کی سازش کرنے والوں کے سیاسی وارثوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں سے جڑے ہوئے ہیں۔اختلاف کرنے والوں کو اب بھی غداری اور انتہا پسندی کی پرانی قوتوں کی باقیات قرار دیا جاتا ہے۔
مسلسل چوتھی بار وزیرِ اعظم بننے کے چند ہی مہینوں بعد بنگلہ دیش کو متاثر کرنے والے یہ مظاہرے شیخ حسینہ کے اقتدار کے اس فارمولے کے خلاف ایک ردعمل تھے۔ معیشت میں کیے گئے ظاہری اقدامات عدم مساوات اور نا انصافی پر مبنی نظام کے سامنے ڈھیر ہوگئے۔
بنگلہ دیش کی معاشی کامیابی کی قلعی بھی اب کھلنے لگی تھی۔ ملبوسات کی برآمدات پر ملک کا انحصار اپنی حد کو پہنچ گیا، اور حکومت ترقی کے متبادل ذرائع تلاش کرنے کے لیے جدوجہد کرنے لگی۔ کورونا اور یوکرین جنگ بڑا دھچکا ثابت ہوئے ، جس کی وجہ سے وسائل توانائی اور خوراک کی قیمتیں بڑھ گئیں ، غیر ملکی ذخائر گر گئے اورترقی کی رفتار رک گئی۔
ایسے میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کا انحصار سرکاری ملازمتوں پر بڑھنے لگا جن پر کوٹہ سسٹم کے تحت شیخ حسینہ کے پیروکاروں کی اجارہ داری تھی۔
ماضی سے چمٹی حسینہ واجد نے اس سانحے اور پاکستان دشمنی کو اپنا سیاسی محرک بنا لیا تھا مگر وہ بھول گئیں کہ ان کے والد شیخ مجیب کے زوال اور قتل کا باعث بننے والے واقعات اس سے مختلف نہ تھے۔
جنوری 1972 میں شیخ مجیب الرحمن جب اقتدار میں آئے تو اہم عہدے عوامی لیگ کے لوگوں ، اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کو بانٹ دئیے۔ ملک میں پھیلے ذخیرہ اندوز اور اسمگلر ہمیشہ سزا سے بچ جاتے تھے کیونکہ اعلی حکام اور عوامی لیگ کے لوگ خود کرپشن اور ذخیرہ اندوزی میں ملوث تھے۔
پاکستان سے بھاگ کر بنگلہ دیش لبریشن فوج میں شامل ہونے والے میجر شریف الحق دالیم ، جو مجیب کے بہت قریب تھے، اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ انہوں نے ایک بار غیر رسمی گفتگو میں مجیب سے عوامی لیگ کے بد عنوان عناصر کے بارے میں سوال کیا ، مجیب نےجوابا کہا: "کیا میرے لوگوں نے پاکستان کی حکومت کے دوران تکلیف نہیں اٹھائی؟ کیا ان کا نقصان نہیں ہوا؟
کیا وہ اپنی دولت اور جائیدادوں سے محروم نہیں ہیں؟ اگر آج انہیں کچھ فوائد مل رہے ہیں تو اس میں کیا حرج ہے؟ میں ان کے لئے بے حس نہیں بن سکتا۔ اگر کوئی اس سے ناخوش ہے تو میں کچھ نہیں کرسکتا۔ "
کئی دہائیاں گزرنے کے بعد حسینہ واجد کے بنگلہ دیش میں بھی دیگر مراعات کی طر ح سرکاری نوکریوں کا ایک تہائی پاکستان سے آزادی کے لیے لڑنے والوں کے خاندانوں کے لیے مخصوص تھا اور اعلی پڑھے لکھے نوجوانوں میں بے روزگاری حد سے بڑھ گئی تھی۔
حسینہ واجد حکومت کے زوال کا محرک بننے والی طلبہ تحریک کا مطالبہ تھا کہ وہ کوٹہ سسٹم میں اصلاحات چاہتے ہیں تاکہ ہونہار طلبا کو منصفانہ مواقع مل سکیں۔
کہا جاتا ہے کہ حسینہ واجد کا احتجاج کرنے والے طلبہ پر "رضاکار" کا لیبل لگانا جلتی پر تیل کے مترادف ثابت ہوا۔
14 جولائی کو ایک نیوز کانفرنس کے دوران، حسینہ واجد سے ایک رپورٹر نے نوکریوں کے کوٹے کے خلاف طلباء کے احتجاج کے بارے میں پوچھا جو ایک ہفتے سے زیادہ عرصے سے جاری تھا۔
جواب میں انہوں نے کہا" ’اگر سرکاری ملازمتوں میں 1971 میں ’آزادی کے لیے لڑنے والوں‘ کے پوتے پوتیوں کو کوٹہ نہ دیا جائے تو کیا ان رضاکاروں کے پوتے پوتیوں کو دیا جائے جنہوں نے پاکستان کا ساتھ دیا تھا؟‘
وزیر اعظم کے اس بیان کو’تذلیل آمیز‘ قرار دیا گیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس بیان نے نہ صرف مظاہرین کو مشتعل کیا بلکہ حسینہ واجد کے حامیوں کو مظاہرین پر حملہ کرنے کے لیے اشارہ بھی دیا۔ مطلق العنانی کے خمار میں خونی لکیر عبور کرتے ہوئے اس کریک ڈاؤن میں اندازا 300 سے زائدافراد ہلاک ہوئے۔
طلبہ کے احتجاجی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔ صرف ڈھاکہ میں سینکڑوں قیدیوں کو جیلوں میں ڈالا گیا ہے۔
ایک ایسے ملک میں جہاں مہلک سیاسی تشدد کی پرانی تاریخ ہے، اس کریک ڈاؤن کو عالمی سطح پر ایسے ظلم کا نام دیا گیا جس کی بنگلہ دیش میں حالیہ دہائیوں میں مثال نہیں ملتی۔
مجیب الرحمان کی طرح حسینہ واجد کے دور کو بھی سکیورٹی فورسز کے بے جا استعمال کے لیے جانا جاتا تھا۔ طلبہ احتجاج کو کچلنے کے لیے سڑکوں پر ہر فورس کو تعینات کیا گیا، جس میں ایک نیم فوجی یونٹ ریپڈ ایکشن بٹالین بھی شامل تھا جس کے رہنماؤں کو ماضی میں تشدد، ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیوں کے الزامات پر بین الاقوامی پابندیوں کا سامنا رہا ہے۔شیخ مجیب کے دور میں بھی عوامی لیگی کی تمام تر توجہ اپنے مفادات کے حصول کے لئے نت نئی باہنیوں کی تشکیل پر مرکوز تھی۔ ایک بار ایک
جلسہ عام میں خطاب کرتے ہوئے مجیب نے تکبرانہ انداز میں اعلان کیا کہ: "میں ریاست مخالف شرپسندوں کو انتباہ کر رہا ہوں۔ اگر ضرورت پڑی تو میں اپنے لال گھوڑوں [لال باہنی] کو کھول دوں گا۔"
مجیب نے کئی نجی فوجوں کے بعد ایک قومی سلامتی فورس "جاتیو راکھی باہنی" تشکیل دی۔ اس میں شامل 25 ہزار افراد کو باقاعدہ فوجی تربیت دی گئی اور ان کی آرمی طرز کی وردی تھی۔
سٹیل ہیلمٹ اور جدید خودکار ہتھیاروں سے لیس یہ فورس نازی "براؤن شرٹس" سے مماثلت رکھتی تھی۔ بظاہر اس کا مقصد پولیس کے ساتھ مل کر امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنا تھا ، جبکہ اصل مقصد مخالفین ، مجیب اور عوامی لیگ پر تنقید کرنے والوں کو ختم کرنا تھا۔
مئی 1974 میں ، راکھی باہنی کے خلاف تشدد کے ایک مقدمے میں ، "سپریم کورٹ میں کہا گیا کہ مجیب کی طوفانی فوج [راکھی باہنی] کے پاس کوئی ضابطہ اخلاق نہیں ، نہ کوئی ضابطہ کار اور نہ ہی گرفتاریوں اور تفتیشوں کا کوئی رجسٹر ہے"۔ سپریم کورٹ کو اس فیصلے کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑی اور اسے مجیب کے معاملات میں مداخلت کرنے کے اختیار سے محروم کر دیا گیا۔
ناقدین کے مطابق حسینہ واجد کے دور میں بھی عدلیہ سے متنازعہ فیصلے کروائے گئے۔ ایک چیف جسٹس کو ایک فیصلے میں مخالفت کرنے پر ملک سے فرار ہونے پر مجبور کر دیا گیا۔
اپنے مخالفین کے خلاف بیانیہ پھیلانے کے لیے شیخ حسینہ نے مرکزی دھارے کے میڈیا پر مضبوط کنٹرول رکھا۔ بنگلہ دیش میں مرکزی دھارے کے زیادہ تر ذرائع ابلاغ عوامی لیگ سے تعلق رکھنے والے کاروباری اداروں کی ملکیت ہیں۔
کنرولڈ میڈیا پر حامیوں کو ملک کی آزادی اور اس کی کامیابیوں کی میراث کے جائز وارث کے طور پر پیش کیا جاتا، جبکہ مخالفین اور حزب اختلاف کے اراکین کو غداری اور "انتہا پسند" باقیات کے طور پر پیش کیا جاتا۔
حسینہ واجد پر یہ بھی تنقید کی جاتی ہے کہ وہ سیاسی مخالفین کو دبانے کے لیے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے بھی دریغ نہیں کرتیں۔
سابق وزیر اعظم اور اہم اپوزیشن لیڈر بیگم خالدہ ضیا کو 2018 میں کرپشن کے الزام میں قید کیا گیا تھا۔ جماعت اسلامی کے ایک امیر کے ساتھ ساتھ متعدد رہنماؤں کو 1971 کے فسادات کے تناظر میں پھانسیاں اور سزائیں دی گئیں۔
شیخ مجیب کے دور میں بھی 1974 کے آغاز تک ، 2000 افراد سیاسی قتل کا شکار ہو چکے تھے جن میں کئی اراکین اسمبلی بھی شامل تھے۔
ماضی میں قید حسینہ واجد جبر کی تاریخ دہراتی رہیں۔ آخری وقت تک وہ احتجاج کچلنے کے لیے مشورے کرتی رہیں۔کوئی نہیں جانتا تھا کہ عوام کی طاقت ان کے تکبر اور جبر کو ملیا میٹ کر دے گی۔ جاتے جاتے مگر انہوں نے ایک با پھر ملک کو بھیانک تشدد کی آگ میں جھونک دیا۔
ماضی میں پیرانہ سالی میں جنگی جرائم پر پھانسیاں دینے والی حسینہ واجد کے سر پر 400 کے لگ بھگ افراد کا تازہ خون ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا بنگلہ دیشی عدالت ان پر مقدمہ چلائے گی؟
تقسیم اور عدم مساوات پر مبنی معاشرے محض بیانیوں کے زور پہ قائم نہیں رہتے۔ بنگلہ دیش میں بیانیوں اور مجیب کے بت ایک ساتھ گر رہے ہیں۔ اور دیکھنا یہ بھی ہے کہ استحصال در استحصال کا شکار بنگلہ دیشی عوام سنبھلنے میں کتنا وقت لیتے ہیں۔