تیل سے منشیات تک کا سفر بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے کا باعث بن گیا

عبدالرحمٰن الراشد
عبدالرحمٰن الراشد
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 8 منٹ

جب بشار الاسد نے شام کے تیل سے مالا مال علاقوں پر اپنا کنٹرول کھو دیا اور یہ سارے وسائل 'سیرین ڈیموکریٹک فورسز' (ایس ڈی ایف) کے کنٹرول میں چلے گئے تو بشار الاسد نے تیل کی اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایران کی طرف رجوع کر لیا۔ تاکہ اس کی فوج کو لڑنے کے لیے ایندھن کی فراہمی ممکن ہوتی رہے اور اس کی حکومتی مشینری چلتی رہے۔

اس کی کمزور معیشت تباہ حالی سے دوچار ہو رہی تھی۔ حکومت معاشی دیوالیہ پن کا شکار ہو چکی تھی اور بشار الاسد بغیر مالی وسائل کے جنگ شروع کیے ہوئے تھا۔ اس دوران اس کا سارا انحصار منشیات کی فروخت اور دہشت گردی سے حاصل ہونے والے وسائل پر تھا۔ یوں بشار الاسد کی حکومت منشیات کی برآمد اور دہشت گردی کی پکی شناخت کے ساتھ سامنے رہی۔

ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگ یہ سوچیں کہ یہ باتیں ایک ایسی حکومت کے خلاف مبالغہ آرائی پر مبنی ہیں جو پہلے ہی گر چکی ہیں اور اب وہ اپنا دفاع بھی نہیں کر سکتیں۔ لیکن یہ بات اس لیے سوچنا درست نہیں ہو سکتا کہ جو باتیں کہی جا رہی ہیں انہیں باتوں کو استعمال کرتے ہوئے شام کی نئی حکومت علاقائی و بین الاقوامی سطح پر رابطے کر رہی ہے اور تعلقات کی استواری چاہتی ہے۔

جن حالات کا اوپر کی سطور میں ذکر کیا گیا ہے انہی حالات کے پیش نظر سعودی عرب نے بشار الاسد کی حکومت سے ہمیشہ فاصلہ رکھا۔ حتیٰ کہ مئی 2023 کے دوران شامی حکومت کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی کا معادہ ہونے جانے کے باوجود سعودی عرب نے شام میں اپنا سفیر نہیں بھیجا اور سفارتی ضروریات یا سرگرمیوں کا محور دمشق کے '4 سیزن ہوٹل' یا اس کے آس پاس تک ہی محدود رہا۔

سعودی عرب نے شعوری طور پر مئی 2023 کے بعد بھی تعلقات کو بڑھانے کی کوشش نہیں کی۔ حتیٰ کہ مئی 2023 سے نئی شامی حکومت کے آنے تک سعودی سفیر شام میں داخل نہیں ہوا۔

تعلقات کو سعودی عرب نے ہمیشہ سست روی کے موڑ میں رکھا۔ کیونکہ شام کی رجیم ان وعدوں کو پورا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی تھی جو شام نے سعودی عرب کے ساتھ کر رکھے تھے۔ ان میں سمگلنگ کو روکنا اور منشیات کا سدباب کرنا بھی شامل تھا۔ بشار الاسد نے اپنے معمول کے انداز میں ان سب وعدوں کو التوا میں رکھا اور منشیات کی روک تھام کے لیے اربوں ڈالر کی توقع کرتے رہے۔ تاکہ منشیات کے اس دھندے کو روک سکیں۔

سعودی عرب اس بات سے خوش نہیں تھا۔ بلکہ اس کی رائے یہ تھی کہ یہ تو منشیات فروشی کے کام میں ملوث لوگوں کو بھتہ دینے کے مترادف ہوگا۔ جو بالآخر ان کی حوصلہ افزائی ہو گی۔

بشار الاسد کولمبیا کے منشیات کے مافیا سرغنہ پابلو ایسکو بار کی طرح منشیات سے پیسہ کماتے رہے۔ مغربی ملکوں کے ایک اندازے کے مطابق ان کی 'کیپٹاگون' سے سالانہ آمدنی پانچ ارب ڈالر تک ہو چکی تھی اور یہ ان کی تیل سے اس سے قبل ہونے والی آمدنی سے بھی زیادہ تھی جو وہ جنگ کے زمانے سے پہلے تیل سے کما رہے تھے۔

میں بطور جرنلسٹ بشار الاسد سے پانچ مرتبہ مل چکا ہوں۔ یہ ملاقاتیں براہ راست گفتگوؤں پر مبنی رہیں۔ ہم نے کئی کئی گھنٹے گفتگو کی۔ لیکن اس کے باوجود میں یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ میں بشار الاسد کو اچھی طرح جان اور سمجھ سکا ہوں۔ میں نے ان گفتگوؤں کے حاصل کو 'الشرق الاوسط' میں اشاعتوں کا حصہ بھی بنایا۔ لیکن جب لبنان میں بشار الاسد رجیم نے لوگوں کا قتل عام شروع کر دیا تو میں نے ان اشاعتوں کو روک دیا۔ اس دوران ان کے صحافیوں کے خلاف ہدف بنا کر حملوں کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔ خود مجھے بھی بلیک لسٹ کر دیا گیا اور لبنان میں داخلہ رک گیا۔

میں بشار االاسد کے اقتدار کے خاتمے سے کچھ ہی عرصہ پہلے ان سے دوبارہ ملا تھا۔ وہ مجھے بڑے پراعتماد نظر آ رہے تھے اور اپنے تحفظ کے بارے میں پریقین تھے۔

بہرحال بعد از انقلاب بشار الاسد کے بارے میں ہولناک انکشافات نے بشار رجیم کے بارے میں پہلے سے زیادہ خوفناک معلومات میں اضافہ کیا۔ ملاقات کے دوران وہ ہمیشہ شائستہ دکھائی دیتے۔ وہ سننے اور جواب دینے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے۔ ان کا یہ رویہ ہر مہمان کے ساتھ ہوتا۔

بشار الاسد کے اس رویے نے بہت سے لوگوں کو حیران کیا۔ شام و لبنان میں ہونے والے مظالم کے پیچھے کون تھا؟ یہ اس کا بھائی ماہر الاسد تھا، ان کا ماتحت افسر علی مملوک تھا، بشار الاسد کی اہلیہ اسماء یا قاسم سلیمانی۔

سچ تو یہ ہے جو کچھ شام میں ہو رہا تھا اس سب کے پیچھے بشار الاسد ہی تھا۔ جو اس کو سوچتا بھی تھا اور اس کو عملی شکل بھی دیتا تھا۔ لیکن اس کا یہ امیج سامنے کبھی نہیں آیا۔ وہ حکومت کی ناکامی کی تلافی وحشیانہ کارروائیوں کے ذریعے کرتے رہے۔ جس کے نتیجے میں غریب ملک غریب تر ہوتا چلا گیا۔ جبکہ ان کا دعویٰ یہ تھا کہ ان کے ملاک کی یہ حالت دوسرے ملکوں کی مخالفت اور دشمنی کی وجہ سے ہوئی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ بشار الاسد کو علاقے اور دنیا بھر سے وسیع تر حمایت حاصل رہی کہ وہ اپنا اقتدار برقرار رکھ سکے۔ یہ لوگوں کو بڑی امید تھی کہ وہ اپنے والد حافظ الاسد کی جگہ زیادہ بہتر حکمرانی دے سکیں گے۔ لیکن وہ اپنے مخالفین کے خلاف اپنے والد سے بھی بڑھ کر نکلے اور مخالفین کے لیے جیلوں کی تعداد میں اضافہ کرتے رہے، انہیں دباتے رہے، انہیں قتل کرتے رہے، ان پر بمباری کرتے رہے اور دہشت گرد تنظیموں کے اپنے ملک میں میزبان بنے رہے۔ اس سارے تناظر میں بشار الاسد کے خلاف انقلاب کا کامیاب ہونا حیران کن نہیں ہے۔

بشار الاسد کے خلاف 2011 میں آنے والی تیونس کی تبدیلی کے محض تین ماہ بعد ہی بغاوت شروع ہوگئی تھی۔ تاہم ایک ناکام معیشت کے ساتھ بشار الاسد نے منشیات کے دھندے اور سمگلنگ کو بحال کر لیا اور اس کے ساتھ ساتھ مسلح گروپوں کو زیادہ فعال بنا دیا۔ یہ سارا کام اس وقت اس نے کیا جب عراق میں جنگ ہو رہی تھی اور یہ سب کرنے کے لیے اسے ایران کی حمایت حاصل تھی۔

آج جب شام سے اسد حکومت کا خاتمہ ہوگیا ہے اور اس کی جگہ نئے حکمران آ گئے ہیں تو نئے حکمرانوں کے لیے یہ ضروروی ہے کہ بطور حکمران بشار الاسد کی تاریخ اور اس کے کردار پر غور کریں۔ یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے کہ حکومت کے خاتمے کے وقت حکومت کی حفاظت پر مامور سپاہی اور معاشرے کا نمائندہ یونیورسٹی پروفیسر ماہانہ 20 ڈالر کماتا ہے۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ معاشی ناکامی کے خطرات سکیورٹی کی ناکامی سے زیادہ ہوتے ہیں۔

معاشی ناکامی جنگ سے پہلے کے برسوں میں تھی۔ جبکہ بیرون ملک ریاستی اثاثوں کا منجمد ہونا اور کرنسی کا خاتمہ بشار رجیم کی بد انتظامی، بدعنوانی، کمزور طرز حکمرانی، منشیات اور غیر ملکی جنگوں سے ہونے والی معیشت پر حکومت کے انحصار کا نتیجہ تھی۔

ان سب کے باوجود شام نے ہر میدان میں بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ آج ایک اور موقع سامنے ہے۔ احمد الشرع کی حکومت کو چاہیے کہ شامی عوام کو اکٹھا کرے تاکہ وہ ریاست کا حصہ بنتے ہوئے دنیا کو سرمایہ کاری کے لیے راغب کریں۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size