کیا لبنان احمد الشرع کی حکومت سے کچھ سیکھ سکے گا؟

عبدالرحمٰن الراشد
عبدالرحمٰن الراشد
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 11 منٹ

لبنان میں جوزف عون کو صدر بنے اور نواف سلام کو وزارت عظمی سنبھالے تقریباً ایک سو پچاس دن ہو چکے ہیں۔ اس نئے آغاز کی صورت میں لبنان ایک جانب پچھلی دو دہائیوں کے دوران گزرنے والے وقت کے مقابلے بہترین وقت سے گزر رہا ہے۔

لیکن دوسری جانب یہ تشویش بھی موجود ہے کہ لبنان کی اس نئی حکومت کی اپنے اہداف حاصل کرنے کے لیے رفتار سستی کا شکار ہے۔ یہ سست رفتاری اس وجہ سے اور بھی زیادہ محسوس ہونے والی ہے کہ ایک اور جنگ چھڑنے کے نزدیک تر ہے۔ یعنی ملک جنگی دہانے پر ہے۔

اس سے قطع نظر کہ لیطانی دریا کے دونوں طرف جنگجو ایک فیصلہ کن جنگ کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس لیے کوئی چاہے یا نہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ لبنان کو اسرائیل اور حزب اللہ دونوں سے اپنی خود مختاری واپس لینے لیے ایک لمبا راستہ طے کرنا پڑے گا۔ کیونکہ اسرائیل آج بھی لبنان کی سرزمین پر قبضہ جمائے بیٹھا ہے جبکہ حزب اللہ نے بھی بہت تھوڑا اسلحہ ابھی حوالے کیا ہے۔ بہت تھوڑا پہاڑی کی چوٹی پر جمی تھوڑی سی برف کی مانند۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو دونوں صاحبان کی طرف سے اپنی تقریروں میں اس بیانیہ کو دہرایا جانا کہ اسرائیل دشمن ہے آج کے حالات میں کوئی خاص معنی یا وزن نہیں رکھتا ہے۔ نہ جدید دور کی سیاست میں یہ کہے چلے جانا ضروری ہے۔

یہ سچائی بعضوں کے لیے تلخ ہو سکتی ہے کہ حزب اللہ کے مستقبل کے خدوخال کا تعین اب اسرائیل نے کرنا ہے ۔۔ لبنان نے نہیں۔ یہ بھی اسرائیل کو فیصلہ کرنا ہے کہ حزب اللہ اب کس سائز کی حامل رہے گی۔ اس کی اہلیت و صلاحیت کن حدود کے اندر تک محدود رکھنا ہوگی اور اس کا اثرو رسوخ کہاں تک ہوگا اور کہاں اس کا اثر و رسوخ برداشت نہیں کیا جائے گا۔

پڑوسی ملک شام کو بھی اسی صورت حال کا سامنا ہے۔ شام میں بشارالاسد رجیم کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ جیسا کہ لبنان میں حزب اللہ کی گرفت کافی کمزور ہو چکی ہے۔ لیکن شام نے ایک مختلف راستے کا انتخاب کیا ہے۔ حالانکہ شامی سرزمین پر بھی اسرائیلی فوج موجود ہے۔ اسرائیل تواتر کے ساتھ شام میں اپنے اہداف کو نشانہ بھی بنا رہا رہا ہے۔

اس پیچیدہ صورت حال میں صدر احمد الشرع کی حکومت نے مختلف فیصلہ کرتے ہوئے اس پیچیدہ صورت حال کو اپنے لیے ایک موقع میں تبدیل کرنے کی حکمت عملی اپنا لی ہے۔ شام کی اس دانشمندانہ حکمت عملی پر احمد الشرع حکومت کی دنیا میں تعریف اور پذیرائی کی جارہی ہے۔ نیز اس سلسلے میں بھی الشرع حکومت کو تحسین کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کہ اس نے کن کاموں سے گریز کا فیصلہ کیا ہے۔

اس نے سابق حکومت کی طرح نہیں کیا کہ مسائل کا سامنا کرنے کے بجائے شتر مرغ کی طرح سر ریت میں دبا لیا بلکہ احمد الشرع اور ان کی حکومت نے نوشتہ دیوار کو پڑھ کر سمجھنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ماضی میں ایسا نہ کیا گیا تھا بلکہ ماضی کی حکومت اندرونی اور بیرونی سیاست کے چیلنجوں کا حقیقت پسندی سے جائزہ لیا اور نہ ہی عملیت پسندی کی راہ اختیار کی تھی۔

صدر احمد الشرع نے ایک فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنی تقریروں کے دوران بھی اسرائیل کا نام لیتے ہیں نہ اسے نشانہ بناتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی حکمت عملی اپنائی ہے کہ وہ اپنی فوج کو اسرائیلی فوج کے ساتھ تصادم کے لیے تیار کیا نہ ابھارا۔ حتی کہ یہ بھی نہیں کیا ہے کہ شام پر اسرائیلی حملوں کا جواب دینے کے لیے بھی کہا ہے نہ اجازت دی ہے۔

گویا اپنے آپ کو ان کاموں میں الجھانے سے کامل پرہیز کیا ہے۔ جو ان کے خیال میں شام کو نئی تباہی کی طرف لے جانے والے ہو سکتے تھے۔ عملی جواب دینا تو در کنار احمد الشرع نے اور ان کی حکومت نے اپنے بیانات میں بھی اسرائیل سے کوئی تعارض کا تاثر پیدا کیا ہے۔ جس طرح کے عام طور پر بیانات داغ کر اسرائیل پر فتح پانے کے لیے کوئی غیر حقیقت پسندانہ دعوی کیا ہے۔

صدر الشرع نے ہر طرح سے ٹھنڈ ا ٹھار رہنے کا راستہ اپنا لیا۔ اس کے باوجود کہ احمد الشرع کا پس منظر جنگجویانہ ہے۔ اس کے باوجود انہوں نے اپنی تقریروں میں بھی اسرائیل کو اپنے یا شام کے دشمن کے طور پر نہیں دیکھا ہے۔ اسی طرح شام کہ نئی حکومت نے کبھی اسرائیل کے ساتھ مذاکرات اور بات چیت کے امکان کو مسترد کیا ہے۔ اگرچہ عام طور پر اسرائیل کے ساتھ برائی کا لقب نتھی کر کے مذاکرات سے انکار کر دیا جاتا ہے۔

شام کے صدر نے واضح کر دیا ہے کہ ان کا ہدف صرف اور صرف جنگ سے تباہ حال شام کو استحکام کی طرف لانا ہے۔ جس میں بارود اور خون کی بارش نہیں بلکہ ترقی و خوشحالی کے خواب ہوں۔ نہ ہی شام اپنے ارد گرد کو غیر مستحکم کرنے کے لیے بروئے کار رہے۔

دوسری جانب لبنان ہے جس کے وزیر اعظم اور صدر اشرافیہ کا پس منظر رکھتے ہیں۔ اس اشرافیہ کا تعلق سول سے ہو یا فوج سے۔ دونوں کا تعلق اشرافیہ سے ہے۔ نواف سلام فرانس کی سور بون یونیورسٹی کے گریجوایٹ اور امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ ہیں۔ یہ لبنان کی سیاسی تاریخ کے بین الاقوامی سطح کے اعلیٰ ترین تعلیم یافتہ عہدے دار ہیں۔ جبکہ صدر احمد الشرع ھیتہ التحریر الشام کے ماحول کے نمائندہ ہیں۔ اس لیے انہوں نے اقتدار میں آنے سے پہلے دنیا کا کچھ نہیں دیکھا ہے۔ ان کی دوڑ زیادہ سے زیادہ عراقی صوبہ انبار اور شام میں ادلب کے درمیان تک رہی ہے۔

احمد الشرع کی کامیاب اپروچ اور اقدامات کو دیکھنے کے لیے کسی کو بھی محدب عدسے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے شام کو شام کے دوسرے ملکوں کے ساتھ معاہدات ممکن بنائے ہیں۔ حتیٰ کہ یہ معاہدے دوست ملکوں کے علاوہ دشمن طاقتوں کے ساتھ بھی کیے گئے ہیں۔ ان کی کوششوں سے ایرانی و عراقی گروپوں اور اسرائیل کی طرف سے درپیش خطرات کا راستہ رک گیا ہے۔

الشرع نے اپنی کامیاب حکمت عملی کے تحت ملکی ائیر پورٹس، بندر گاہوں اور توانائی کے انفراسٹکچر کے ساتھ ساتھ صنعتی شعبے کی تعمیر نو کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کیا ہے۔

یہ درست ہے کہ بیروت میں جن چیلنجوں کا سامنا ہے وہ دمشق سے مختلف ہیں۔ مگر لبنان کے پاس جو مواقع آج ہیں وہ پہلے چالیس برسوں کے دوران کبھی نہ تھے۔ لبنان اس وقت چاہے تو لبنان پر فلسطینی سیاست، ایرانی غلبے اور شامی اثر و رسوخ کے ماحول سے نکلنے کی کامیاب کوشش کر سکتا ہے۔ اس میں کامیابی کے لیے لچک پر مبنی اپروچ کی ضرورت ہے ۔ نہ کہ ماضی میں جمود کا شکار رہ چکی پالیسیوں کو جاری رکھنے کی۔

حزب اللہ اور اسرائیل کی طرف سے درپیش چیلنجوں کو دیکھا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ حزب اللہ کے پاس ان تین آپشنز کے علاوہ کوئی مستقبل نہیں ہے۔

اولاً یہ کہ حزب اللہ پھر سے سرحدوں سے ماورا ایک جنگجو طاقت بننے کی کوشش کرے۔ اسرائیل کے لیے خطرہ یمنی حوثیوں کو منظم کرے اور شام و عراق میں اپنی کارروائیاں جاری رکھے۔

مگر اسرائیل کی جانب سے سرحدی خطرہ بننے والی کسی بھی طاقت کو روکنے کی اپنی پالیسی پر سخت اصرار کے پیش نظر اب یہ غیر ممکن ہے۔

یہ بات نوٹ کیے جانے کے لائق ہے آج کے حالات میں مصر، اردن اور شام سمیت تینوں ملک اسرائیل کے ساتھ اپنے معاہدوں کے تحت ہتھیاروں کی اپنی سرحدوں سے فاصلوں پر موجودگی کو منظم کرنے پر راضی ہیں۔ اگرچہ حزب اللہ اس چیز کو مسترد کرتی رہی ہے۔

اس کے باوجود جنگ بندی کے معاہدے کے تحت، اس نے دریائے لیطانی کے جنوب سے اپنا انخلاء قبول کیا اور بھاری ہتھیار بھی حوالے کر دینے سے اتفاق کیا۔

دوسرا یہ کہ حزب اللہ اپنے آپ کو مقامی قوت میں تبدیل کر سکتی ہے۔ اس سلسلے میں طاقت کے توازن کی تبدیلی کو تسلیم کرنا، اسرائیل کے لیے خطرے یا ایران کے لیے سودے بازے کے طور پر اپنا کردار چھوڑنا ہوگا۔ اسرائیل بیروت کو اسلحہ کی معلومات فراہم کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں ان جگہوں پر چھاپے مار کر اسلحہ ظبط کیا جا رہا ہے۔

تاہم حزب اللہ اس کھیل میں ماہر ہے۔ یہ اس کے باوجود ہے کہ حالات پہلے سے زیادہ سخت ہے۔ امریکی ثالث مورگن اورٹاگس کو نظر انداز کرنے کے بعد بھی کوئی فرار نہیں ہے۔ یہ وہی اورٹاگس ہے جسے حزب اللہ اور اس کے اتحادی اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی کٹھ پتلی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ اسرائیل ہے امریکہ نہیں۔ جنوبی مضافات کے علاقوں پر اسرائیلی حملوں سے یہ واضح ہوتا ہے۔

لبنانی صدر نے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے اور 'پراکسی وار فرنٹ' کے طور پر لبنان کے کردار کو ختم کرتے ہوئے ریاستی خودمختاری بحال کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

اگلے 10 سے 20 برسوں میں لبنان کا مستقبل اس امر پر منحصر ہے کہ حال میں کیا ہو رہا ہے۔ یہ لبنان کے اندرونی معاملات اور لبنانی شہریوں کی ضروریات پر مرکوز ہے۔ شام میں احمد الشرع حکومت یہی کام کر رہی ہے۔ یہ اس کے باوجود ہے کہ لبنان کی قیادت کو درپیش حالات سے زیادہ سنگین حالات شام میں درپیش ہیں۔ یہ دعویٰ غلط ہے کہ دنیا الشرع حکومت کی حمایت کے لیے چل پڑی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ الشرع حکومت نے اپنی ترجیحات خود طے کی ہیں اور اپنے اتحاد قائم کیے ہیں۔ اب علیحدگی پسندوں سے لڑنا، معیشت کی بحالی اور سرد جنگ کے بعد منہدم ہوتی ریاست کی تعمیر پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size