بین الاقوامی سلامتی کو ہتھیاروں سے خطرہ

 زيد بن كمی
زيد بن كمی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 7 منٹ

لبنان میں حزب اللہ کے ہتھیار اب محض لبنان کے اندرونی مسئلے یا چیلنج کی حد تک نہیں رہ گئے بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تشویش اور خطرے کا باعث بن چکے ہیں۔ یہ جہاں ریاستی تعامل اور عمل داری میں ایسی رکاوٹ بن چکے ہیں جو پوری ریاست کے سیاسی نظم کو مفلوج کر دینے کا سبب ہے۔

اس کے باوجود کہ امریکی ایلچی ٹام بیرک نے لبنان میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے بارے میں خوش امیدی ظاہر کی ہے۔ لیکن اس گروپ کی قیادت نے ایک بار پھر ہتھیاروں کے ساتھ اپنے غیر معمولی اور غیر متزلزل تعلق کا اظہار کر دیا ہے۔ حزب اللہ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل نعیم قاسم کا باضابطہ بیان کافی چشم کشا ہے۔ 'حزب اللہ کو یہ نہیں بتایا جا سکتا کہ وہ اپنے ہتھیار چھوڑ دے۔'

واقعہ یہ ہے کہ نعیم قاسم کا یہ بیان محض ایک سیاسی تاثر قائم یا برقرار رکھنے کے لیے اختیار کیے گئے موقف پر مبنی نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک کھلا اور دو ٹوک اعلان ہے۔ یہ ہتھیار ریاست کے ایک متبادل شناخت کا حصہ بن چکے ہیں۔ اب یہ اس گروپ کی طاقت کا ذریعہ ہیں نہ کہ زمین کے آزاد کرانے کیے ایک ضرورت۔

یہ ایک ایسی جماعت کا ماڈل ہے جو فرقے کی بنیاد پر اپنے طاقت کو ریاستی اداروں کے باہر بھی استعمال کرتی ہے اور یہ صرف لبنان تک محدود نہیں ہے۔ ہم اسے یمن میں بھی دیکھتے ہیں۔ اگرچہ یمن میں یہ زیادہ خطرناک انداز سے سامنے آئی ہے۔

جیسا کہ پچھلے ہفتے یمن کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے خبردار کیا تھا کہ حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون طیاروں کی پیداوار شروع ہو گئی ہے۔ میزائلوں کی یہ تیاری سعدا اور حاجہ کے علاوہ صنعا کے مضافاتی علاقوں میں بطور خاص کی جارہی ہے۔

یمن کے اندر ان ہتھیاروں کی حوثیوں کے ہاتھوں تیاری صرف یمن کے اپنے لیے ہی خطرہ نہیں بلکہ یہ عالمی سلامتی کے لیے بھی خطرناک ہے۔ کیونکہ یمن کا جغرافیائی محل وقوع آبنائے باب المندب اور بحیرہ عرب کے نزدیک ہونا اسے عالمی تجارتی راہداری کے حوالے سے اہم بنا دیتا ہے۔ اس لیے اس علاقے میں جو بے چینی اور کشیدگی ہوگی اس کا اثر لازماً بین الاقوامی جہاز رانی اور عالمی رسد کے تسلسل پر پڑے گا۔

اس لیے یہ انتباہات یمن کے سرحدی پیرا میٹرز سے باہر بین الاقوامی تناظر میں بھی اہم ہیں۔ جیسا کہ کینیڈا کے نیشنل ڈیفنس سٹڈیز سنٹر کی 2022 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ حوثیوں کے ساتھ ساتھ اس علاقے میں چار دوسرے گروپ بھی موجود ہیں۔ جنہوں نے جدید تر ڈرونز کی تیاری کا کا ایک پائیدار پروگرام تیار کر لیا ہے۔

یہ ڈرونز اگرچہ ٹیکنالوجی کے اعتبار سے مختلف ہیں مگر خطرناکی میں ایک جیسے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اصل خطرہ ٹیکنالوجی سے نہیں بلکہ اصل خطرہ ٹیکنالوجی کے عسکریت پسندوں کے ہاتھ میں چلے جانا ہے۔ جو خود کو کسی بھی ریگولیٹری یا قانونی فریم ورک کے اندر لانے کو تیار نہیں ہوتے۔

کینیڈین ادارے کی تیار کردہ اس رپورٹ میں اس امر پر بھی تشویش ہے کہ اس ڈرون ٹیکنالوجی میں مزید اختراعی انداز اور اسے تیزی سے اپناتے چلے جانا کا رجحان خطرے کی گھنٹی ہے۔ خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں ریاستی کنٹرول مؤثر نہیں ہے اور ان عسکریت پسندوں کی عمل داری ہے۔ یہ صورت حال ایسے سنجیدہ چیلنجوں کا سبب بن جاتی ہے۔ جنہیں روایتی طریقوں سے نہیں نمٹا جا سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ہر مسلح گروہ اپنے ڈرونز تیار کرنے کی اپروچ کو اختیار چکا ہے۔ اس نے اپنے آپریشنل، اہداف اور حالات کا بھی تعین کر لیا ہے۔ کہ وہ کس قسم کے ماحول میں کام کر سکتا ہے۔ یہ فرق ان کے ہان زیر عمل ڈرون پروگراموں کو متنوع اور زیادہ لچکدار بناتا ہے۔ اس لیے ان سب گروپوں کے تیار کردہ ڈرونز کا ایک ہی روایتی طریقے سے توڑ کیا جا سکتا نہ مقابلہ۔ اس لیے جو کچھ ہم آج دیکھ رہے ہیں اسے کسی وقتی، گزر جانے والی یا عارضی حقیقت کے طور پر نہیں دیکھ رہے ہیں۔ یہ طویل نوعیت کی سوچ سمجھ کر حاصل کی گئی اسلحہ جاتی کامیابی ہے جو ان گروپوں نے حاصل کی ہے۔

یہ گروپ کسی ریاستی خود مختاری یا حود کو تسلیم کرتے ہیں نہ ہی کسی سرحدی حد بندی کا لحاظ کرتے ہیں۔ بلکہ سرحدوں سے ماورا اپنے اہداف کا پیچھا کرنے کی سوچ کے حامل ہیں۔

اگر لبنان میں حزب اللہ کا تجربہ سیاسی مفلوج اور ریاستی اداروں پر گروہی تسلط میں ختم ہو گیا ہے، تو یمن میں حوثی جو کچھ بنا رہے ہیں وہ کہیں زیادہ خطرناک چیز کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ تو عالمی سمندری تحفظ اور سلامتی کے لیے بہت بڑا خطرہ ثابت ہو چکے ہیں۔ آبنائے مندب اور وسیع پیمانے کی بین الاقوامی سپلائی لائن سب ان کے زد میں ہیں۔

اس لیے اصل خطرہ سیاسی خلا میں ہے جو ان گروہوں کو جوابدہ بنائے بغیر چلا جا رہا ہے۔ جو انہیں اسلحہ بنانے کی اجازت دیتا اور انہیں روکتا نہیں۔ ان پر کوئی نظم حاوی نہیں کرتا۔ ان کی جوابدہی و نگرانی کا اہتمام نہیں کرتا بلکہ انہیں ہتھیار ذخیرہ کرنے اور چلانے کی کھلی اجازت دیے رکھتا ہے۔

خبردار رہنا چاہیے کہ جنوبی بحیرہ احمر جیسے انتہائی حساس علاقے میں ایک چھوٹی سی لاپرواہی بھی بہت بڑے بحران کو جنم دے سکتی ہے۔

اس لیے یمن کی قانونی حکومت کی ذمہ داری محض یہ نہیں ہے کہ وہ اس صورتحال پر اظہار تشویش کرتی رہے بلکہ اس کے لیے لازم ہے کہ اپنی سیاسی موجودگی کو مؤثر بنائے اور ان خطرات سے نمٹنے کے لیے کوششوں کوتیز کرے۔ اگر اس کام کے لیے بین الاقوامی سپورٹ کی ضرورت ہو تاکہ خطرے کو کنٹرول کیا جا سکے تو وہ حاصل کرے۔

مزید یہ حوثیوں کو دوبارہ واپس مذاکرات کی میز پر لانی کی کوشش کی جائے اور اس پھیلتے چلے جانے والے بحران کا حل نکالنے کی کوشش کی جائے۔

اس علاقے میں اس طرح کے خطرناک ہتھیاروں کو کھلا چھوڑ دینا یمن کو ایک اندرونی تصادم کا مرکز بھی بنا دے گا اور بین الاقوامی سطح پر پھیلائے جانے والے خطروں کا پلیٹ فارم بھی۔ اس لیے اسے روکا جائے۔

ڈرون طیاروں اور بیلسٹک میزائلوں کی حکومتی کنٹرول سے باہر تیاری کا یہ تقاضا ہے کہ اس پر فوری توجہ دی جائے اور اس سلسلے کو روکنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر مربوط کارروائی کی جائے۔

جب یہ ہتھیار اس طرح سایوں میں بناتے رہیں گے اور سمندوں میں ان کی آزمائش کرتے رہیں گے اور پھر سرحدوں سے ماورا ان کا استعمال کریں گے اس وقت مقامی سطح پر سلامتی کی باتیں کرنا بامعنی نہیں رہے گا۔ کیونکہ اب یہ ایک بین الاقوامی خطرہ بن چکا ہے اور یہ ہتھیار اور انہیں رکھنے والے سرحدوں کو نہیں مانتے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size