انسداد دہشت گردی کے لیے ولی عہد محمد بن سلمان کے زیر قیادت سنہرے معیار کا قیام

ڈاکٹر ماجد رفیع زادہ
ڈاکٹر ماجد رفیع زادہ
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 18 منٹ

پوری دنیا میں اقوام عالم مختلف نوع کی دہشت گردی کے تجربے سے گزری ہے۔ اس دہشت گردی کے انسداد کے لیے ہر قوم نے اپنے اپنے انداز اور مخصوص چیلنجوں کی بنیاد پر دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے کوششیں کی ہیں۔ جس طرح کا دہشت گردی کا چیلنج رہا اسی طرح کا توڑ کرنے کی ہر کسی نے کوشش کی۔

دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مختلف اقوام کی کوششوں اور اقدامات کو اگر حکمت عملی کے اعتبار سے دیکھا جائے تو ہر ایک نے اپنے چنلج کی مناسبت اور اپنی ضرورت اور سہولت کے مطابق کسی ایک راستے کو اختیار کیا۔

ان میں نظریاتی و فکری چیلنجوں سے نمٹنے کی عملی تدابیر بھی اختیار کی گئیں، علاقائی سطح پر اتحاد بھی بنائے گئے اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے تصادم اور ٹکراؤ کی حکمت عملی بھی اپنائی گئی۔ کہ دہشت گردی اکیسویں صدی کا اب تک سب سے بڑا اور مسلسل چیلنج ہے۔

سعودی عرب نے اس ماحول میں سب سے زیادہ اور متنوع تدابیر اختیار کی ہیں اور اقدامات کیے ہیں۔ اس ناطے دیکھا جائے تو مملکت نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے زیر قیادت انسداد دہشت گردی کے لیے منفرد مگر جامع ماڈل اپنایا ہے۔

ولی عہد کا دہشت گردی سے نمٹنے کا ویژن مملکت کی سیکیورٹی ڈاکٹرائن کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ مملکت کی یہ ڈاکٹرائن کسی رد کی سوچ کا مظہر ہے نہ ہی کسی ایک محدود سوچ یا نکتے پر توجہ مرکوز کر کے تشکیل دی گئی ہے۔ سعودی عرب نے دہشت گردی کے مقابلے کے لیے فوجی و نظریاتی جہتوں کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل ذرائع علاقائی سفارتکاری کے علاوہ شہریوں میں آگاہی کے حوالے سے مربوط حکمت عملی شروع کر رکھی ہے۔

جیسا کہ دہشت گردی کا ارتقائی ابھار جاری ہے۔ خصوصا تنہا اداکاروں کا ڈیجیٹل بنیاد پرستی کے علاوہ فنڈنگ کا بین الاقوامی نیٹ ورک بھی پورے عروج کے ساتھ موجود ہے۔ اس سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب نے بھرپور فعالیت کے ساتھ جو کثیر جہتی ردعمل ترتیب دیا ہے۔ وہ دوسرے ملکوں کے لیے بھی ایک راہ عمل کا تعین کرنے میں مدد دینے والا ہے۔

سعودی عرب کی انسداد دہشت گردی کی یہ جامع منصوبہ بندی اس سبب سے اور بھی قابل ذکر ہے کہ اس کا ہدف دہشت گردی کے پورے سائیکل کو پوری جامعیت کے ساتھ سمجھ کر اس سے نمٹنے کا ایک منظم اور مؤثر نظم ہے۔ اس میں دہشت گردی کی جڑوں کو تلاش کرنا، ان جڑوں کو ختم کرنے لیے اساسی نوعیت کی تدابیر اختیار کرنا۔ لیکن یہ سارے اقدامات صرف طاقت کے استعمال کے مرہون منت نہیں بلکہ تعلیم و تربیت، آگاہی اور بحالی کے سارے مراحل پر محیط ہے۔ اس کے ذریعے دہشت گردی کے اسباب سے لے کر علامات اور ممکنہ خطرات کا خاتمہ ممکن بنایا جا رہا ہے۔

مملکت اپنی اس کامیاب حکمت عملی سے نہ صرف داخلی سطح پر دہشت گردانہ حملوں میں کمی کرنے میں کامیاب ہوئی ہے بلکہ سعودی عرب علاقے میں دہشت گردی کے چیلنج سے نمٹنے والے ایک لیڈر ملک کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اس ناطے مملکت کا یہ ماڈل اس امر کا مستحق ہے کہ اس کا باضابطہ طور پر تحقیقی مطالعہ کیا جائے اور اس کی روشنی میں علاقے کے دیگر ملک بھی اپنے لیے انسداد دہشت گردی کے طویل مدتی منصوبوں کو ممکن بنائیں۔

دہشت گردی کے خلاف پہلی دفاعی دیوار ' ڈیجیٹل اینوویشن' !

فکری اعتبار سے کٹر پن اور انتہا پسندی پر مبنی افکار کے ابلاغ میں سوشل میڈیا نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس سلسلے میں محفوظ سمجھی جانے والی سوشل میڈیا ایپس کا بھی بڑا دخل ہے۔ اس چیلنج سے نمٹنے اور ان کٹر قسم کے خیالات و افکار کو روکنے میں ٹیکنالوجی کو بنیادی کردار کے لیے بروئے کار لایا ہے۔

سوشل میڈیا کی مانیٹرنگ کے لیے سعودی عرب نے خطیر رقوم کی سرمایہ کاری کی ہے۔ اس مقصد کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں نگرانی اور جاسوسی کی جدید ترین آلات کی مدد سے اہلیت کو مؤثر بنایا گیا ہے۔ اس طرح سوشل میڈیا مانیٹرنگ میں مصنوعی ذہانت کلیدی اہمیت اختیار کر چکی یے۔

یہ مانیٹرنگ صرف سرحدات اور اس طرح کے دیگر اداراتی ڈھانچوں کے لیے نہیں بلکہ بلکہ یہ سائبر سپیس میں ہونے والی سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کے لیے بھی کارآمد ہے۔ اسی کی وجہ سے کٹر قسم کے مذہبی و انتہا پسندانہ خیالات کی روک تھام ممکن بنائی جاتی ہے۔ یوں انتہا پسندانہ خیالات کو لوگوں تک پہنچنے سے روکنے میں بھی خوب مدد ملی ہے۔

اس ڈیجیٹل طریقے سے مانیٹرنگ کا بنیادی ستون ' گلوبل سنٹر برائے انسداد انتہا پسندانہ افکار' نامی ادارہ ہے۔ اسے عام طور پر 'ایٹی ڈال' کا نام دیا جاتا ہے۔ اس کا افتتاح 2017 میں کیا گیا تھا۔ یہ بنیادی طور پر مصنوعی ذہانت کے استعمال کے ذریعے 'ڈیٹا انیلسز' اور دہشت گردی کو آن لائن ہدف بنانے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔

اسی کی مدد سے انتہا پسندی کے آن لائن کام کرنے والے نیٹ ورک پکڑے جاتے ہیں۔ مختلف زبانوں میں دہشت گردی سے پہلے ان کی دہشت گردانہ کارروائیوں سے پہلے ہی ان کے منصوبوں کو روک دیا گیا ہے۔

ڈیجیٹل اہلیت کا استعمال دہشت گردی کی پیش بندی کے لیے

مملکت میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا استعمال صرف دہشت گردوں کی نگرانی اور جاسوسی کے لیے نہیں کیا جاتا ہے بلکہ یہ ان کی فکری اور ذہنی فکر کا پہلے سے قلع قمع کر دینے کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔ گویا سعودی عرب نے اس کی سوچ اور فکر کی بنیاد کو اپنا ہدف بنا لیا ہے۔

اس کے لیے سعودی عرب مذہب کی اعتدال پسندانہ تشریح کا حامی ہے۔ اس کی طرف سے اس اعتدال پسندی پر مبنی نظریات کے بارے میں معلومات کے ایک سیلاب جیسا بہاؤ شروع کر دیا گیا ہے۔ تاکہ انتہا پسندی کی طرف لے جانے والی باتوں کی طرف کوئی دیکھے نہ جائے۔ جیسا کہ کہا گیا سعودی عرب جڑ کو کاٹ اور بنیاد کو ڈھانے میں مصروف ہے۔

فوجی استعمال کے ساتھ ادارہ جاتی ارتباط

ایک طرف سعودی عرب انتہا پسندانہ سوچ کی جڑ کاٹ رہا ہے تو دوسری جانب اس نے مختلف اداروں کے درمیان ایسا جڑاؤ اور ارتباط پیدا کررکھا ہے جو کٹر اور انتہا پسندانہ قسم کی مذہبیت اور اس کے افکار کو روکنے کے علاوہ دہشت گردی کے لیے بھرتیوں یا افرادی قوت کے امکان کو روکتا ہے۔ اس کے لیے انٹیلی جنس ادارے بھی رد دہشت گردی کے لیے بروئے کار ہیں۔ مملکت کی فوجی قوت کا استعمال اندھا دھند نہیں بلکہ فوجی مداخلت صرف اسی صورت کی جاتی ہے جب دہشت گردی بہت مربوط انداز میں آگے بڑھ رہی ہو۔ انٹیلی جنس کی بنیاد پر کیے جانے والے آپریشنز بھی خوب تیاری و احتیاط سے کیے جاتے ہیں۔

حالیہ برسوں کے دوران مملکتی سلامتی کے ادارے کے زیر صدارت دہشت گردی روکنے کے لیے کام کیا ہے اور سلامتی سے متعلق اور دہشت گردی سے نمٹنے والے طاقتور ادارے مشترکہ انداز میں کام کررہے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے بھی ان ادراروں بشمول انٹیلی جنس اداروں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ یوں خصوصی کارروائیاں مل کر کی جاتی ہیں۔ ان کے لیے ایک ہی کمان کو بروئے کار رکھا جاتا ہے۔

علاوہ ازیں سعودی عرب نے اس مقصد کے لیے بطور خاص کھڑی کی گئی اسلامی فوج کا استعمال شروع کر رکھا ہے۔ یہ اسلامی فوج اس دہشت گردی کے لیے مختص ہے۔ بلاشبہ یہ ایک بڑا فوجی نیٹ ورک ہے۔ اس میں چالیس اسلامی ملکوں کا باہم رابطہ ہے۔ یہ ایک جوائنٹ وینچر ہے۔ یہ فوجی اتحاد ' آئی ایم سی ٹی سی' مل کر مشقیں کرتا ہے۔ باہم انٹیلی جنس شیئرنگ کرتا ہے اور تربیتی امور میں ایک دوسرے کے لیے بھی مربوط ہے۔ اس طرح ریاستوں اور مملکتوں کے اندر چاروں جانب سے دہشت گردی کو گھیر لیا گیا ہے۔ تمام ممبر ملک اپنے ہاں دہشت گردوں کو روکنے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں۔

اس سلسلے میں سعودی عرب انٹیلی جنس کی ضروریات کے پیش نظر انٹیلی جنس کے لیے افرادی قوت کے کئی سیشنز کی میزبانی کر چکا ہے۔ یہ سیشن انٹیلی جنس کی تربیت کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ افرادی قوت کی تیاری کے لیے یہ اہم پیش رفت ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں مملکت کا دہشت گردی کے خلاف کردار بھی مضبوط تر ہو رہا ہے۔

ان فوجی ذرائع کے استعمال کا مطلب یہ نہیں کہ باقی کسی طریقے کو چھوڑ دیا گیا ہے بلکہ واقعہ یہ ہے کہ یہ سب ایک دورے میں پیوست کوششیں ہیں۔ جو لاجسٹکس اور اہدافی کارروائیوں کے لیے ایک دوسرے کے لیے مفید تر ہیں۔ جبکہ ڈیجیٹل اور ٹیکنالوجیکل کوششوں سے دہشت گردی کی فکری، اخلاقی اور نفسیاتی کمزوری کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اور جڑوں تک پہنچا جاتا ہے۔

شعور کا فروغ اور ذہنی بحالی کا کام

یہ سمجھتے ہوئے کہ دہشت گردی کی سب سے پہلی آماجگاہ دماغ بن سکتا ہے۔ دماغ میں ایسی چیزیں پلنے کے بعد ہی عملی طور پر دہشت گردی کا وجود ممکن ہوتا ہے۔ اس لیے سعودی عرب نے اس کا آغاز تعلیمی شعبے سے کیا ہے۔ تعلیم کو ایسے مواد سے صاف کر کے اساتذہ کی خصوصی تربیت، بہترین اور محفوظ تعلیمی نصاب کے علاوہ عوام میں دہشت گردی کے خلاف شعور پیدا کرنے کی کوششوں کو بروئے کار لانے کے لیے ثقافتی انداز میں کاوشیں بھی بروئے کار ہیں۔ ثقافتی سرگرمیوں کا فروغ رد فساد کے لیے اہم ہے۔

سعودی عرب میں تعلیم کے شعبے میں بھی ثقافتی نکتہ نظر سے تبدیلیاں لائی گئی ہیں۔ اس طرح معاشرے میں ثقافتی ماحول کو ویژن 2030 کا حصہ بنایا گیا ہے۔ نوجوانوں کو انتہا پسندانہ افکار سے بچانے کے لیے یہ بہت مؤثر اور دلفریب طریقہ ہے۔ معاشرے کو تعمیری مکالمے کے ماحول سے بھی منسلک کر دیا گیا ہے۔

عوامی سطح پر مثبت پیغام کی مہم

سعودی عرب کی دہشت گردی کے خلاف مسلسل اور ہمہ پہلو مہم کا بہت اچھا اثر نظر آ رہا ہے۔ ٹی وی، ریڈیو اور سوشل میڈیا کے ذریعے مسلسل اہتمام جاری ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ریاستی ایجنڈا عوام تک پہنچایا جائے۔ دوسری جانب دہشت گردوں کے پراپیگنڈے کا اہتمام بھی پورے منظم انداز میں ہمہ گیر ابلاغی مہم سے جاری ہے۔

دہشت گرد مملکت کے عوام میں تفریق اور تقسیم چاہتے ہیں۔ جبکہ مملکت اس پراپیگنڈے کا توڑ کرتے ہوئے اقومی اتحاد ویکجہتی کا فروغ کر رہی ہے۔ اس پس منظر میں مذہبی اعتدال پسندی پر بھی توجہ دی جاتی ہے۔

شاہ عبدالعزیز مرکز برائے قومی مکالمہ اور بین المذاہب کا تبادلہ خیال اور مکالمے کا فروغ بھی بڑا کار آمد ہے۔ ہر گروہ کو محفوظ اور اطمینان کے ساتھ رہنے اور اس کے جائز مقام کے ساتھ ساتھ اس کے لیے گنجائش کو بڑھانے پر فوکس ہے۔ گویا شناخت کا اشتراک اہمیت پا چکا ہے۔ اسی طرح 'محمد بن نائف کونسل اور کیئر سنٹر' کا اس سلسلے میں کردار اور خدمات بہت اہم ہیں۔

یہ ادارہ بظاہر ایک کیئر سنٹر کے نام سے ہی مشہور ہے۔ جس کا اصل کام دہشت گردانہ خیالات سے پلٹنے والوں کی مکمل بحالی کے لیے سہولیات اور خدمات فراہم کر رہا ہے۔ اس طرح یہ حقیقی معنوں میں مرکز بحالی بن گیا ہے اور سب افراد کو واپس لایا ہے جو دہشت گردی کے اثرات سے متاثر ہو کر اور طرح سوچنے لگے تھے۔

یہ بحالی مرکز ان افراد کی نفسیاتی بحالی، مذہبی اصلاح اور سماجی واپسی کا اہتمام کرتا ہے اور انہیں ہر طرح کی سہولت اور ماحول دینے کی کوشش کرتا ہے۔ سعودی عرب میں تادیب و تعذیب کے ماڈل کے مقابلے میں یہ طریقہ کار زیادہ منظم اور مؤثر ہے۔ یہ طریقہ دہشت گردی کی سوچ کو خیرباد کہنے والوں کے لیے معاشرے میں قبولیت کا استعارہ ہے۔

سکیورٹی کے حوالے سے کی گئی اصلاحات اور انٹیلی جنس اداروں کا باہمی ارتباط سعودی عرب میں اب ان مناظر کا باعث نہیں جس میں جگہ جگہ ان چیزوں کا اظہار ہو سکتا ہو۔ ایک گہرا اور مؤثر و مربوط نظام ہے جو اپنی جگہ پر رہتے ہوئے اپنا کام کر رہا ہے اور کسی شور و شغب کے بارے کیا جا رہا ہے۔

مملکتی سلامتی و استحکام کے ادارے کی صدارت میں ایک تنظیم نو کا ماحول بھی دیا ہے اور باہمی ارتباط و ہم آہنگی کا بھی۔ اس ہدف کے حصول میں ابھی کئی اقوام کوشش کے مرحلے میں ہیں جبکہ سعودی عرب یہ منازل طے کر چکا ہے۔

بائیو میٹرک سسٹم اور اندرونی چیک پوائنٹس کو اب قومی انٹیلی جنس ڈیٹا بیس کے ساتھ ہم آہنگ کیا گیا ہے۔ جس سے خطرے کی حقیقی تشخیص اور فوری ردعمل کی اجازت ملتی ہے۔

سرحدی بندوبستی کے نظام سے لے کر نگرانی، جاسوسی، بائیو میٹرک سسٹم کی ہر جگہ تنصیب اور مملکت کے اندر قائم کیے گئے چیک پوائنٹس اب سب شعبوں کی طرح سلامتی کے قومی اداروں سے جڑے ہوئے اور ورکنگ میں پوری طرح ہم آہنگ ہیں۔

انٹیلی جنس کے حصول کا نظام زمین پر متحرک قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مدد دیتا ہے۔ تاکہ دہشت گردوں سے نمٹنے کا کام سرعت کے ساتھ بھی ممکن ہو اور مکمل آگاہی کی بنیاد پر متعلقہ ادارے اور شعبے بھی اس ارتباط کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے متعلق حصوں کی تیاری اور کارروائی کو بلا تاخیر ممکن بنائیں۔

ان معنوں میں یہ چیز سعودی عرب کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہے کہ اس کے ہاں بے تحکمانہ فوجی قوت کے استعمال پر ترجیح انٹیلی جنس ورک کی ہے۔ گرفتاریاں اور چھاپے عام طور پر وسیع تر تفتیش سے پہلے ہوتے ہیں۔ اس سے کولیٹرل ڈیمیج کا امکان کم ہو جاتا ہے۔

مملکت میں یہ دیکھا گیا ہے کہ اس کی اندرونی دہشت گردی کی سازشوں سے نمٹنے کی اہلیت عام طور پر منصوبہ بندی کے مرحلے میں بروئے کار آ جاتی ہے۔ یہ باہمی کوآرڈینیشن کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ اس پر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں سرخیاں بھی جمتی ہیں۔ وجہ صاف ہے کہ یہ بڑی ہی سمجھداری سے دہشت گردی کو ناکام بنانے کی کامیاب خبریں ہوتی ہیں۔

علاقائی اور بین الاقوامی تعاون

سعودی عرب کو یہ خوب اندازہ ہے کہ دہشت گردی کسی سرحدی احترام اور تقدس کا ماننے والی نہیں ہوتی۔ اس لیے عالمی سطح پر دہشت گرد جہاں ایک اہم کھلاڑی بن گئے ہیں وہیں اس کی وجہ سے دہشت گردی سے نمٹنے کی سفارت کاری بھی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔

اس ناطے ایک اہم سفارتی کھلاڑی ہونے کے باعث سعودی عرب نے دہشت گردی کے خلاف بڑے منصوبوں کے لیے فنڈنگ بھی کی ہے۔ حتیٰ کہ اقوام متحدہ کے دہشت گردی کے خلاف انیشیٹوز میں بھی حصہ لیا ہے۔ مملکت نے عرب لیگ، او آئی سی اور خلیج تعاون کونسل کی سطح پر بھی دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔

سعودی عرب ' آئی ایم سی ٹی سی ' کے توسط سے افریقی اور ایشین ممالک کے ساتھ مل کر دہشت گردی اور سرحدی تحفظ کے امور کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ سعودی عرب علاقے میں داعش کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے بھی بڑھ چڑھ کر تعاون کر رہا ہے۔

نیز مملکت علاقائی کانفرنسوں اور انٹیلی جنس سربراہان کے اجلاسوں کی میزبانی کر رہا ہے۔ جس کے ذریعے معلومات کے تبادلے اور مشترکہ منصوبہ بندی کے لیے پلیٹ فارم کی تیاری ہو رہی ہے۔ اس سے اس امر کا اندازہ ہوتا ہے کہ سعودی عرب نہ صرف شہریوں کا تحفظ یقینی بنا رہا ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر سلامتی میں کردار ادا کر رہا ہے۔

سعودی عرب کے تجربے کا حاصل یہ ہے کہ ضرورت کے باوجود فوجی طاقت ناکافی ہے۔ فوجی مہمات سے دہشت گردانہ کارروائیوں میں خلل ضرور آتا ہے لیکن اس کے ذریعے انتہا پسندی کی نظریاتی و سماجی جڑوں کو ختم نہیں کیا جا سکتا ہے۔ امریکہ اور مغربی ممالک نے افغانستان اور عراق میں مشکل سے یہ سیکھا ہے۔ فوجی فتوحات کے بعد وہاں نظریاتی خلا پیدا ہوا جس کے نتیجے میں انتہا پسندی کو پنپنے کا موقع ملا۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ ذہنوں اور دلوں کی سطح پر ہونی چاہیے۔ فوجی فتوحات نظریاتی اصلاحات، سماجی بحالی اور بین الاقوامی تعاون کے بغیر عارضی طور پر بہترین محسوس ہوتی ہیں۔

مملکت کی انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی نہ صرف مؤثر ہے بلکہ مثالی ہے۔ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں جدید آلات، حکمت عملی کی درستگی اور بین الاقوامی یکجہتی کے ساتھ ملکی نگرانی کو یکجا کیا گیا ہے۔ سعودی عرب نے ڈیجیٹل جدت، تعلیمی اصلاحات، فوجی رابطہ کاری، سکیورٹی کے بنیادی ڈھانچے اور عالمی سفارت کاری کو یکجا کر کے پائیدار دفاعی نظام تشکیل دیا ہے۔

دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات میں سعودی عرب کی حکمت عملی دوسرے ممالک کے لیے ایک روڈ میپ فراہم کرتی ہے۔ یہی وقت ہے کہ دہشت گردی سے نبرد آزما قومیں مزید جامع حکمت عملی اختیار کریں اور سعودی عرب کی طرح ہر محاذ پر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی جائے۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size