ستائیسویں ترمیم: غیر جذباتی جائزہ اور بیرونی چیلنج!
اگر غیر جذباتی ہو کر دیکھا جائے اور اس امر پر یقین رکھ کر سوچا جائے کہ ہوتا وہی ہے جو اس ذات بے ہمتا کی چاہت ہوتی ہے۔ تو ستائیسویں ترمیم کا بخار یا اس کی وجہ سے ہونے والا بخار جلد اتر جائے گا۔
کسی کو پسند ہو یا ناپسند، یہ حقیقت ہے کہ جنرل ضیاء الحق مرحوم سے بہت پہلے سے ہی پاک وطن کا دستور یہی بنا دیا گیا تھا کہ دستور پاکستان کوئی 'مقدس صحیفہ' نہیں۔
یہ یاد کرانے کے لیے 1956 کے دستور پاکستان کا حوالہ دینا یا 1962 کے خالصتا فرد واحد کی آشاؤں کو پورا کرنے اور 'کھیلن کو لیے چاند' کا ذکر ہرگز مقصود نہیں ہے۔
کیونکہ سچ یہ ہے کہ 1973 کے دستور پاکستان کے خالق بتائے جانے والے مرحوم ذوالفقار علی بھٹو نے بطور وزیر اعظم جو دو کام شوق اور تواتر سے کیے وہ ایک کام عوام کے لیے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے لگانے اور دوسرا دستور میں ترمیم پر ترمیم لانے ہی کے تھے۔
اگر وہ اس کے باوجود آج تک قائد عوام قرار دیے جاتے ہیں تو کون ہے جو دستور و جمہور اور جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ سے جھجکے اور شرمائے گا۔ اس لیے جو کچھ ستائیسویں ترمیم کے نام پر دستور کے ساتھ ہوا ہے وہ ہماری روایت و تاریخ بھی ہے اور موقع و دستور بھی۔
خصوصا وزیر اعظم میاں شہباز شریف کے زیر قیادت اور جناب صدر مملکت آصف علی زرداری کے زیر صدارت، اس سے ہٹ کر توقع کرنا اور ان پر اپنی زیادہ توقعات کا بوجھ لادے جانا غیر مناسب اور بلاجواز ہے۔ کیونکہ دونوں اعلی عہدیداروں کو میاں نواز شریف کی سرپرستی و سند دونوں حاصل ہیں۔
ملک کی دونوں نہیں بلکہ کئی بڑی جماعتیں اس سے قبل چھبیسویں ترمیم بھی اسی چاؤ کے ساتھ منظور کر چکی تھیں اور اب یقیناً اس کے بعد ستائیسویں کا ہی موقع تھا۔
چھبیسویں ترمیم میں تو بہت ساری دوسری بڑی شخصیات کے بے حجاب ہونے کا موقع بنا تھا ۔۔۔ جی، بے نقاب نہیں ۔۔ بے حجاب ۔۔۔ کہ بے نقاب کا لفظ منفی منفی لگتا ہے اور بہت پٹ چکا ہے۔ جبکہ بے حجابی آج کا رواج ہے، چلن ہے، ذوق ہے، شوق ہے۔ ہاں بعضوں کے نزدیک مغرب زدگی کا طوق ہے۔
بہرحال واپس مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کے ذکر کی طرف چلتے ہیں۔ جنہوں نے اپنے ہی بنائے ہوئے دستور میں سات ترامیم کر ڈالی تھیں۔ ایک ۔۔ دو ۔۔ تین ۔۔ چار ۔۔ پانچ ۔۔ چھ نہیں ۔۔پوری سات ترامیم۔ گویا مرحوم بھٹو نے ترامیم کے ساتوں آسمان اپنی مدت حکومت کی ایک ہی جست میں طے کر لیے تھے۔بس یہی کہیں گے ۔۔
'کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کا!'
پھر اس دستور کے ساتھ تیر و تلوار اور اختیار و اقتدار والوں نے ایسا کھیل شروع ہوا کہ اب تک بے تکان جاری ہے۔ سول کے شعبے سے بھی ایسے ایسے مشاق نشانہ باز ملے کہ ہر ایک کے نشانے اور مشورے دونوں تیر بہدف رہے۔ شریف الدین پیرزادہ اس میدان کے سرخیل ہوئے۔ کئی چھوٹے پہلوان بھی آئے اور بڑے بڑے نامی بھی۔ اگر پاکستان کی دستوری ترامیم کا احوال دیکھا جائے تو صاف نظر آتا ہے۔ کہ کیا نام تھے ۔ مگر
'مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے'
اس لیے حقیقت پسندی یہ ہے کہ اب ستائیسویں تک جو سلسلہ پہنچا ہے یہ آہستہ آہستہ چالیسویں تک جائے گا کہ 'ابھی سامنے آسماں اور بھی ہیں'
مستقبل کے ہر دور کے اپنے تقاضے ہوں گے۔ اس لیے آنے والے ادوار اور شخصیات کی بھی اپنی اپنی ضرورتیں بلکہ اپنا اپنا نظریہ ضرورت ہو گا۔ اللہ بخشے! ایک جسٹس منیر بھی ہوا کرتے تھے۔ نئی عدالیہ کی پرانی شناخت ۔
لیکن فی الحال یہ کہنا دور کی کوڑی لانے کے مترادف ہو گا کہ دستوری ترامیم کا یہ سفر چالیسویں تک کب پہنچے گا۔
ستائیسویں ترمیم کی ایک اہم اور مثبت بات یہ ہے کہ ہم بھارت کے ہم پلہ ہو گئے ہیں۔ اپنے سے پانچ گنا بڑے ملک کے ہم پلہ۔
ماضی میں بھارت نے اپنی افواج کو زیادہ مضبوط، منظم، مستحکم اور فتح مند رکھنے کے لیے 'سی ڈی ایس' یعنی چیف آف ڈیفنس سٹاف کا عہدہ تخلیق کیا تھا اور یہ زیادہ پرانی بات نہیں حالیہ چند برس ہی کی بات ہے۔
غالباً جنوری 2020 میں جنرل بپن راوت کو بطور آرمی چیف اپنی مدت مکمل کر لینے کے بعد مودی سرکار نے ایک نیا عہدہ تخلیق کر کے 'سی ڈی ایس' بنا دیا تھا۔
جنرل راوت اس ناطے بڑے خوش قسمت رہے کہ انہیں کئی دوسرے جرنیلوں کی سینیارٹی نظر انداز کر کے آرمی چیف بنایا گیا اور پھر آرمی چیف کی مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد پہلے چیف آف ڈیفنس سٹاف بنا دیا گیا۔ تاہم جنرل راوت اس عہدے پر زیادہ عرصہ نہ رہ سکے اور ایک حادثے کا شکار ہو گئے۔
ان سے پہلے بھارتی فوج جنرل دلبیر سنگھ سہاگ کے زیر قیادت تھی۔ جبکہ جنرل راوت کی ہلاکت کے چار سال بعد بھارتی فوج آپریشن سندور کی قید میں ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ جنرل راوت کا یہ دور سہاگ اور سندور کے بیچوں بیچ ہی ختم ہو گیا۔
گویا پاکستان میں جس عہدے کی ستائیسویں دستوری ترمیم کے ذریعے تخلیق کی گئی ہے یہ عہدہ بھارت میں پہلے تخلیق کیا گیا تھا۔ مقصد دونوں جگہ سب سے لائق اور ماہر جرنیل کو تینوں مسلح افواج کی قیادت دینا تھی۔ یہ اور بات ہے کہ تینوں بھارتی مسلح افواج کو مئی 2025 کی چار روزہ جنگ میں ہی ذلت و شکست دونوں کا مزہ چکھنا پڑگیا۔ اور اس کے بندوبست کے باوجود کرنا پڑا ۔
بعد ازاں بھارتی ایئر چیف اسی مشترکہ کمان کے نیچے اپنی فضائیہ کی سربراہی کرتے ہوئے بعد ازاں فضائیہ کے لیے جنگی آلات اور جہازوں کی فراہمی میں دفتری پراسس کے لمبا ہونے کی شکایت کرتے بھی پائے گئے۔
ادھر پاک فضائیہ کے شاہینوں نے اللہ کے خاص فضل اور اپنی غیر معمولی مہارت و قیادت کی مدد سے ماہ مئی میں پاک سرزمین پر بھارتی یلغار کے پہلے ہی روز اس کے فخر و غرور کو رافیل سمیت زمیں بوس کر دیا۔ رافیل طیارے کا پاک فضائیہ کے شاہینوں سے یہ پہلا سامنا تھا۔ جو برے تجرںے کی صورت رافیل اور اس کی شہرت دونوں کو خاک میں ملا گیا۔
پاکستان کے آنے والے دنوں میں 'سی ڈی ایف' کے سربراہ بننے والے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے زیر قیادت اب فضائیہ بھی آ گئی ہے اور بحریہ بھی۔ اگرچہ ان کے پاس ذمہ داریوں کا پہلے ہی کافی بوجھ تھا۔ کہ وہ پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کے علاوہ ملک کے اندر دہشت گردی سے بھی نمٹ رہے ہیں۔
سیاست و معیشت کی بہت سی گتھیاں بھی وہی سلجھانے میں پیش پیش نظر آتے ہیں۔ لیکن ایک چیز جو ان کے لیے خاص ہے۔ حالیہ جنگ میں پاک فوج کی قیادت کا بہترین تجربہ بھی ان کے پاس ہے۔ نیز وہ ایئر فورس کے تکنیکی امور سے بھی شناسائی رکھتے ہیں۔ علاوہ ازیں انہیں حکومت کی طرف سے بھی ہر طرح کا تعاون حاصل ہے۔
اس نئے تخلیق کردہ آئینی و عسکری و عدالتی منظر نامے میں جہاں اختیارات و مراعات میں وسعت آئی ہے وہیں ذمہ داریوں اور چیلنجوں کی بھی ایک لمبی قطار سامنے ہے۔
'سرحدوں پر منڈلاتے خطرات'
روائتی طور پر پاکستان کو درپیش سرحدی چیلنج اور خطرات بھارت سے رہے ہیں۔ لیکن خطے اور بین الاقوامی سطح پر آنے والی حالیۃ برسوں کی تبدیلیوں نے چیلنج بڑھا دیے ہیں۔مشرقی سرحد پر بھارت کے ساتھ ساتھ مغربی سرحد پر طالبان کے ساتھ جوں جوں تعلقات میں خرابی بڑھ رہی ہے افغانستان میں بھارتی 'پراکسیز' کے حوصلے اور کارروائیاں بڑھ رہی ہیں۔
گویا دو سرحدوں پر خطرات اب کثیر جہتی صورت میں موجود ہیں۔ اس پر مستزاد یہ ہے کہ پاکستان میں صوبہ بلوچستان اور صوبہ خیبرپختونخوا کے بعد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دہشت گردی کے واقعات کا پہنچ نے کوشش میں ہیں۔
ایران جسے غیر مستحکم کرنے کے لیے امریکہ اور اسرائیل کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے اس کی بھی ایک لمبی سرحد پاکستان کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔
پاک چین تعلقات پر بھی امریکی نظریں گڑی ہوئی ہیں۔ سی پیک جس سے پاکستان اور چین ہی نہیں دنیا بھر کے علاقوں کو تجارتی و معاشی فوائد کی امید تھی یہ امید ہے عملا لٹک کر رہ گئی ہے۔
بھارتی سرکار اپنے دہشت گردوں اور ان کے ساتھ اس کے فنانس کردہ دہشت گرد گروپوں سے سی پیک سے متعلقین پر حملے کراتی رہی ہے۔ کلبھوشن یادیو اسی زمانے کی ایک مثال ہے۔ اب بھی اس کا خطرہ کم نہیں ہو گا بلکہ بڑھ سکتا ہے کہ چین کے بڑھتے ہوئے بین الاقوامی اثرات امریکہ کے لیے بے شمار تحفظات کا ذریعہ ہیں۔ جبکہ امریکہ ایک بار ہھر اس علاقے میں آنے کے لیے کھلے عام اپنے ارادوں کا اظہار کر رہا ہے۔
ایک اور خطرہ جو بدلے ہوئے مشرق وسطیٰ میں اسرائیلی ہتھیاروں سے ہو سکتا ہے۔ یہ خطرہ پہلے بھی پاکستان کے لیے کبھی کم نہیں رہا اور اب بھی اس میں کمی کا امکان کسی بھی صورت ممکن نہیں ہے۔
پاکستان کی بہترین فوجی قوت، زبردست فضائیہ، میزائل و ڈرون ٹیکنالوجی اور جوہری ہتھیار بھارت ہی نہیں اسرائیل کے لیے بھی تکلیف اور اذیت کا باعث ہیں۔ اس لیے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے بڑھے ہوئے اثرات پاکستان کو اپنی سکیورٹی کے لیے مزید محتاط رہنے کا جواز فراہم کرتے ہیں۔
ان دنوں بلاشبہ امریکی صدر ٹرمپ پاکستان پر بہت مہربان نظر آتے ہے۔ لیکن امریکہ کی پاکستان کے ساتھ پالیسی کے ماضی کے زیر و بم اور اتار چڑھاؤ سے صاف ظاہر ہے کہ امریکی پالیسی میں استحکام اور استقلال صرف اس صورت میں ہو سکتا ہے کہ پاکستان انکھیں بند کر کے اور سر جھکا کر امریکی خواہشات و مفادات کو پورا کرتا رہے اور ہدایات و احکامات پر عمل کرتا رہے۔
سلالہ کیمپ پر امریکی حملے کی یاد بھی تازہ ہے۔ ماہ نومبر کی 26 تاریخ ہر سال اس حملے کو تازہ کر دیتی ہے۔ ڈرون حملوں کے ساتھ ساتھ پاکستان پر امریکی پابندیاں عائد کرنے کی بھی ایک لمبی تاریخ ہے۔
پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ ماہ ستمبر میں جو دفاعی معاہدہ کرنے کا موقع ملا ہے اس معاہدے کو ہر دو ملکوں کے لیے مفید بنانا بجائے خود ایک ذمہ داری بھی ہے اور چیلنج بھی۔
ابھی تک اس معاہدے کے اثرات زمین پر دیکھنے کا ایک زمانہ منتظر ہے۔ فیلڈ مارشل اور مستقبل کے چیف آف ڈیفنس فورسز کے لیے یہ چیلنج بھی اہم ہو گا۔ خاص طور پر ایسے حالات میں جب پاکستان کو اپنے مشرق و مغرب سے خطرات کا ہمہ وقت سامنا ہے۔ اگر اس معاہدے کی عملی صورت کی طرف پیش رفت ہوتی ہے تو بلاشبہ پاکستان کی مشرقی و مغربی سرحدوں پر منڈلانے والے خطرات میں کمی آئے گی۔ نیز پاکستان کو درپیش دہشت گردی کے چیلنج بھی کمزور پڑیں گے کہ سعودی عرب کے ایسے اثرات بہرحال موجود ہیں۔ بھارت و افغانستان دونوں سعودی عرب کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ اس لیے انہیں اپنی 'پراکسیز' کو لازمآ روکنا ہو گا۔
تاہم اس خاطر پاکستان کے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ اس کی حکومت اور دیگر تمام متعلقہ حکام سفارتی و ابلاغی دونوں سطحوں پر بھی ایک مربوط اور موثر حکمت عملی کے ساتھ سعودی پاک دفاعی معاہدے کو 'سپلیمنٹ' کریں۔
دریں اثناء دیگر چیلنجوں میں پاکستان کے سیاسی و معاشی حالات ہیں۔ جنہیں بلاشبہ بہتر حکمت عملی، تدبر اور تحمل کے ساتھ ہی بہتر کیا جا سکتا ہے۔ طاقت کے استعمال کے لیے تحمل فراست کا ثبوت ہوتی ہے۔ تحمل و تدبر سے ماورائی اختیار کو غیر مستقل بنا دیتی ہے۔
معاشی حالات میں بہتری سیاسی ابتری کے ساتھ ممکن نہیں ہے اور سیاسی حالات میں بہتری لانے کے لیے جہاں دیگر تدابیر کی ضرورت ہے وہیں عام آدمی کو معاشی طور پر اس ریلیف کی ضرورت ہے جس کا اظہار حکمرانوں کے دعووں، تقریروں اور اشتہاروں کے بجائے عام آدمی کے بدلے ہوئے حالات، افراط زر کے کم ہوتے ہوئے گراف اور مہنگائی میں واضح کمی سے نظر آئیں۔ اگر ملک میں خط افلاس سے نیچے جانے والی آبادی کی تعداد بڑھتی جائے گی تو معاشی شعبدہ باز جو بھی اعداد و شمار اور معاشی اشاریے اپنے حق میں پیش کرتے رہیں گے وہ عوام کو اطمینان کے بجائے ردعمل کا شکار کریں گے۔
عام آدمی کے مسائل میں بہتر روزگار، اس کی صلاحیتوں کے مطابق اس کو مشاہرہ اور محنت کے مطابق محنتانہ ملنا ضروری ہے تاکہ وہ اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کی حد تک نہ رہے بلکہ ان کی تعلیم، صحت اور دیگر ذمہ داریوں کے حوالے سے بھی اپنے آپ کو مایوس کن تنگی کا شکار نہ بنائے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ حکومت گاہے گاہے تنخواہوں میں اضافہ کرتی ہے لیکن تنخواہوں میں یہ اضافہ، ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگائی کی حد سے بڑھی ہوئی رفتار اور معاشی شعبدہ بازوں کے شعبدوں کے نتیجے میں عام آدمی کی زندگی میں کسی مثبت تبدیلی کا باعث نہیں بنتا۔
ایسے حالات میں جب فیلڈ مارشل کو حکومت نے معاشی حالات سدھارنے میں بھی اپنے ساتھ شریک کار رکھا ہے تو اس 27 ویں ترمیم کے بعد فیلڈ مارشل کی ذمہ داری بھی حکومت کے ساتھ بہت بڑھ جاتی ہے۔
نوجوانوں کو بھی بعض پہلوؤں سے شفقت اور بعض پہلوؤں سے استثناء دینے کی ضرورت ہے۔ یہ اپنے بچے ہیں، یہ اپنے بیٹے ہیں، ان کی غلطی یا ان کی غلطیاں ہرگز ناقابل معافی نہیں ہونی چاہییں۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کو حکومت نے جس قدر عزت بخشی ہے اور جو مرتبہ و مقام دیا ہے اس کے بعد ان سے عوامی توقعات میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے۔ بلاشبہ وہ ایک پیشہ ور سپاہی ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اب ان کا مرتبہ کسی سطح پر صدر مملکت اور وزیر اعظم کے بیچ میں آ گیا ہے۔ یہ جمہوریت کے لیے اچھا ہے یا برا، اسے جمہور کے لیے ضرور اچھا ہونا چاہیے۔
27 ویں ترمیم نے بلاخوف تردید عدلیہ کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے جو دستور پاکستان میں اس سے پہلے توقع نہیں کی جاتی تھی۔ خود عدلیہ نے بھی اپنے ذاتی مفادات اور مراعات کو بہت ساری چیزوں پر ترجیح دی ہے۔ اس لیے عدلیہ کے بے اختیار ہونے یا ناقابل ذکر ٹھہر جانے کو فی الحال زیر بحث لانے سے گریز ہے۔ ممکن ہے آنے والے وقتوں میں کچھ بہتری ہو لیکن شاید بہت وقت لگے گا۔
عدلیہ کے اس حال کو پہنچ جانے کہ بیچ میں سپریم کورٹ بس ایک عمارت کی حد تک نظر آنے کو رہ گیا ہے۔ اس پر کس کی مذمت کی جائے اور کس کی نہیں۔ یہ ایک الجھا ہوا معاملہ ہے۔
فاضل جج حضرات اور عدلیہ کو کچھ کہنا توہین عدالت کا سیدھا سیدھا کیس بنے گا۔ حکومت کی مذمت کرنے سے پیکا ایکٹ لگتا ہے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری اور سہولت کار جماعت پیپلز پارٹی کی مذمت اس لیے نہیں بنتی نہیں کہ وہ زرداری صاحب اور بلاول صاحب بے چارے تو حکومت میں شامل ہی نہیں۔ وہ صرف استثناء شریک بھائی ہیں۔ حکومت کی تو بس چلمن سے لگے بیٹھے ہیں۔
یہ بھی ممکن ہے کل اتحادی جماعت کہہ دے کہ زرداری صاحب آپ نے جو لینا تھا لے لیے آپ ذرا بیمار ہو کر گھر جائیں۔ ہمیں بھی اپنے قائد کو 'استثنا سرائے' المعروف ایوان صدر سے استثاء کا ٹھپہ لگوانا ہے۔
اس لیے عدلیہ کے خون کے چھینٹے بہت دور تک بکھرے ہوئے ہیں۔ کسی ایک کو مورد الزام ٹھہرا نا غلط ہو گا۔ خود عدلیہ بھی اپنے ہاتھوں کو غور سے دیکھے تو خون کے کے چھینٹے صاف نظر آنے لگیں گے۔