ولی عہد کا دورہ امریکہ، امریکی و سعودی تعلقات کے لیے ایک تاریخی دن

زید بن کمی
زید بن کمی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

یہ واشنگٹن میں یہ ایک غیر معمولی دن تھا۔ جس دن کے شروع کے لمحوں سے ہی یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ معمول کے سرکاری دورے سے کہیں زیادہ اہم دورہ ہے۔ یہ دورہ ایک وسیع ذمہ داری کے وزن کے ساتھ تھا اور ہر لحاظ سے قابل ذکر رہا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا وائٹ ہاؤس میں خیر مقدم محض ایک رسمی تقریب کا معاملہ نہیں تھا۔ اس سب کچھ کا ابتدائیہ جو غیر معمولی طور پر اس دورے کے ساتھ ایک نئی تاریخ کے لیے لکھا جا رہا تھا۔

ایک پرجوش استقبال، فوجی وجاہت اور قوت کا مرعوب کن مگر جاذب نظر ماحول اور اظہار ۔۔۔ روائت سے ہٹ کر وائٹ ہاؤس میں کیے گئے انتظامات ۔۔۔ یہ سب چیزیں وائٹ ہاوس کی طرف سے یہ ظاہر کر رہی تھیں کہ آج ایک خاص دن ہے ، ایک خاص موقع ہے اور ایک خاص اہتمام ہے۔

امریکی صدر کی رہائش گاہ پر یہ غیر معمولی اہتمام واشنگٹن کی ان خواہشات اور تمناؤں کا اظہار بھی تھا جو وہ اس دورے سے لگائے ہوئے تھے اور اس امر کی تصدیق بھی کہ سعودی عرب امریکی ایک متحرک تزویراتی شراکت دار ہے۔

جس طرح صدر ٹرمپ وائٹ ہاؤس کی راہداریوں سے ولی عہد کو گھماتے ہوئے لے کر گئے۔ یہ سب بھی تعلقات کی نوعیت کو نمایاں کر رہا تھا۔ یہ دو طرفہ غیر متزلزل اعتماد کا ایک علامتی پیغام بھی تھا اور اس بات کا اشارہ بھی کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی ایک نئی گہری اور وسعت سامنے ہے جس میں داخل ہونے کا وقت آ گیا ہے۔

بعد ازاں میڈیا کے سامنے ایک کھلی پریس کانفرنس کے دوران یہ بات اور بھی نکھر کر سامنے آ گئی جب صدر ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام لانے میں سعودی عرب کے کردار کی تعریف کی، توانائی اور اقتصادی معاملات میں عالمی سطح پر مملکت کی غیر معمولی اہمیت و افادیت، اثر و رسوخ اور مضبوط شراکت داری کو اجاگر کرتے ہوئے کہا پچھلے 90 سال سے ان عوامل نے دونوں ممالک کو جوڑ رکھا ہے۔

امریکی صدر کے یہ کلمات براہ راست احترام، تعریف اور سعودی قیادت کی حیثیت کا اعتراف تھے۔

دوسری جانب ولی عہد نے بھی اپنی طرف سے ایک ایسے رہنما کے اعتماد کی عکاسی کی جو عالمی معاملات میں سعودی عرب کے مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔ اس قوم کی بھرپور نمائندگی کی جو اپنے اتحاد کو اصولوں پر استوار کرتی ہے اور پھر ثابت قدمی کے ساتھ بدلتی ہوئی حرکیات کے ادراک سے مالا مال ہے۔

پوری دنیا نے وائٹ ہاؤس میں جس ملاقات کا مشاہدہ کیا اور جیسا کہ اس سے متعلق تفصیلات میں دکھایا گیا ہے۔ سلامتی و استحکام سے لے کر عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی سے توانائی تک کے سارے اہم مسائل پر بات چیت کی خاطر یہ غیر معمولی دورہ تھا۔

اس روز کی نمایاں ترین خصوصیات میں سے ایک اعلان کردہ معاہدوں کا وہ پیکج تھا۔ جو ماضی میں سامنے نہ آیا تھا۔ یہ کاروباری سودا کاری نہیں تھی۔ بلکہ تزویراتی شراکت داری کے نئے مرحلوں کا ایک اہم سنگ میل تھا۔

انرجی، ٹیکنالوجی اور معدنیات کی نئی دریافتوں کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں بھی تعاون کا جامع، مربوط اور کا طویل مدتی فریم ورک پیش نظر تھا۔

اس میں دفاعی تعاون کے علاوہ بھی انضمام اور مشترکہ منصوبوں کی طرف تبدیلی و پیش رفت کے اشارے تھے ۔جو اگلی دہائیوں کے سفر کی نشاندہی کرتے ہیں۔

یہ معاہدے محض سفارتی فائلوں کے رکھے کاغذات کے پلندے اور لفظوں کے الٹ پھیر نہیں تھے بلکہ یہ معاہدات اس امر کا واضح اظہار ہیں کہ اب سعودی عرب کی امریکہ کے ساتھ ہم آہنگی مضبوطی کی اعلیٰ ترین سطح کی طرف بڑھ چکی ہے۔

یہ معاہدات ایک ایسے مرحلے کی نشان دہی کرتے ہیں جس کی جڑیں باہمی اعتماد اور مفادات سے جڑی ہیں۔ یہ عالمی اور علاقائی سطح پر درپیش چیلنجوں کے ایک مشترکہ فہم اور شعور پر مبنی ہیں اور ان سے نمٹنے کے لیے ٹھوس اتحاد کی ضرورت کے عکاس ہیں۔

یہ وقتی ہیں نہ عارضی خواہشات کا نتیجہ۔ یہ ایک طویل مدتی ادراک کی بنیاد پر کیے گئے ہیں۔

یہ ساری پیش رفت سعودی و امریکی ویژن کی توسیع کے پیش نظر ہے۔ ایسا ویژن جو تعاون کو ایک دائمی انتخاب و استحکام کے مشترکہ مقصد کے طور پر دیکھتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اس روز وائٹ ہاؤس کے مناظر خواہ وہ استقبالیہ تقریب ہو، اوول آفس میں ہونے والی ملاقات ہو یا پریس کانفرنس اور پھر عشائیہ۔ ہر جگہ ایک والہانہ پن تھا۔ اسی لیے ٹرمپ نے اعلان کیا کہ سعودی عرب پہلا 'نان نیٹو بڑا امریکی اتحادی' ہے۔

اس دن نے اور اس دن میں کیے گئے سارے فیصلوں نے تعلقات کی اجتماعی شفافیت کو بھی ظاہر کیا اور یہ تصدیق کی ہے کہ ریاض اور واشنگٹن کے درمیان شراکت داری مزید بڑھی ہے۔ دونوں کے درمیان ایک ایسا رشتہ ہے جس نے خود کو ہر طرح کے بحرانوں کے دوران بھی مضبوط تر ثابت کیا ہے۔

یہ رشتہ اب ایک نئے باب کی طرف بڑھ رہا ہے۔ جس میں زیادہ گہرائی ہے، زیادہ طاقت ہے اور جو ہر طرف رسائی کے بڑھنے کا اشارہ ہے۔

سچائی یہی ہے کہ وہ ایک غیر معمولی دن تھا کہ اس دن ایک بنیادی اور بڑی سچائی کی تصدیق کی گئی۔

سعودی عرب اور امریکہ کے تعلق کوئی گزر جانے والا واقعہ نہیں۔ یہ ایسا راستہ ہے جو علاقے میں امن و استحکام کو تشکیل کے لیے ہے اور خطے کی سلامتی و استحکام اور خوشحالی کو مضبوط تر کر کے دنیا کو ایک نئی سمت کے زیر اثر لائے گا۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں