ایران کا مستقبل کیا ہو گا؟

عبدالرحمٰن الراشد
عبدالرحمٰن الراشد
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 10 منٹ

ایران کی موجودہ حکومت کی تبدیلی کے بعد کے مرحلے پر غور کرنا کوئی خیالی خواب یا بے بنیاد قیاس آرائی نہیں، بلکہ زمینی حقائق پر مبنی ایک سنجیدہ اور حقیقت پسندانہ مکالمہ ہے۔ ہم ایک ایسی تبدیلی کے دہانے پر کھڑے ہیں جو اب محض امکان نہیں رہی بلکہ تقریباً ناگزیر دکھائی دیتی ہے۔ حتیٰ کہ اگر موجودہ ایرانی حکومت اپوزیشن کی یلغار، عوامی احتجاج اور اسرائیلی و امریکی دباؤ کو وقتی طور پر دبانے میں کامیاب بھی دکھائی دیتی ہو، تب بھی یہ صرف وقت کی مہلت ہو گی، تقدیر کا بدلاؤ نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب کوئی حکومت داخلی طور پر کمزور ہو جائے تو بیرونی دباؤ محض عمل کو تیز کر دیتا ہے، اسے روکتا نہیں۔

اسی موضوع پر میں نے بحیرہ احمر فورم کی ایک حالیہ نشست میں گفتگو کی۔ یہ نشست "فیملی آفس" نے سرمایہ کاری کے حوالے سے منعقد کی تھی۔

میں نے اپنی گفتگو کو دانستہ طور پر صرف ایک بنیادی سوال تک محدود رکھا کہ تبدیلی کے بعد ایران کی صورتِ حال کیا ہو گی؟ اس لیے کہ موجودہ بحران پر بات اتنی پیچیدہ اور ہمہ جہت ہو جاتی ہے کہ اس کے کئی پہلو سامنے آتے ہیں۔ میرے نزدیک اب تبدیلی محض ایک امکان نہیں رہی بلکہ ایک ناگزیر حقیقت بن چکی ہے۔ خواہ یہ تبدیلی مسلح طاقت کے ذریعے زبردستی نہ بھی آئے، تب بھی اس کے آثار واضح ہیں، کیونکہ موجودہ نظام اپنی عمر پوری کر چکا ہے۔ وہ نہ تو خود کو ازسرِنو تشکیل دینے میں کامیاب ہو سکا ہے اور نہ ہی عبوری دور کے ناگزیر تقاضوں کا سامنا کرنے کی سکت رکھتا ہے۔

تمام تر ممکنہ منظر ناموں میں جب ہم ایران کی آئندہ کی صورتِ حال کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں ایک ایسا ملک نظر دکھائی دیتا ہے گا جو تقریباً گذشتہ نصف صدی سے اپنی معروف شکل و صورت سے مختلف بننے کی راہ پر گامزن ہے۔ اس ملک کی ادھ موئی معاشی طاقت کو نظریاتی جکڑ بندیوں نے مضمحل کر رکھا ہے۔ ماضی میں چین اور سوویت یونین میں بھی کمیونسٹوں نے بھی ایسا ہی منظر دیکھا۔ تاہم اگر حالات بدامنی کی طرف بڑھے تو اس تبدیلی کا سفر طویل بھی ہو سکتا ہے۔

یہاں ایک ایسے ملک ایران کا ذکر ہو رہا ہے جو قدرتی وسائل کی دولت سے مالامال ہے، مگر بدقسمتی سے اب تک اس کی پہچان صرف قالینوں، زعفران اور مچھلی کے اچار [caviar] تک محدود کر دی گئی ہے۔ درحقیقت ایران دنیا میں گیس کے ذخائر کے اعتبار سے دوسرے نمبر پر آتا ہے، لیکن سخت پابندیوں کے باعث عالمی منڈی میں اس کی گیس برآمدات نہایت محدود ہیں اور اس وقت وہ 18ویں درجے پر ہے۔

ایران صرف گیس ہی نہیں بلکہ تیل پیدا کرنے والا ایک بڑا ملک بھی ہے۔ نو کروڑ نفوس پر مشتمل اس کی داخلی منڈی بے پناہ معاشی امکانات رکھتی ہے، جبکہ جغرافیائی اعتبار سے اسے تین اہم سمندروں تک رسائی حاصل ہے، جو اسے تجارت، توانائی اور علاقائی روابط کے لیے ایک غیر معمولی سٹریٹجک حیثیت عطا کرتی ہے۔ یوں ایران ایک ایسی خوابیدہ معاشی طاقت ہے جو سازگار حالات کے میسر آنے کی صورت میں خطے اور دنیا کی توانائی اور معیشت کا نقشہ بدلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔

اصل مسئلہ طرز حکمرانی میں پوشیدہ ہے۔ اقتدار پر قابض طبقہ مذہب کی مابعد الطبیعیاتی اور نظریاتی تعبیرات میں اس قدر الجھ گیا کہ ایران کی عملی ضروریات پسِ پشت چلی گئیں۔ نتیجتاً وسائل سے مالا مال ریاست رفتہ رفتہ معاشی کمزوری کا شکار ہو گئی، جبکہ مسلسل جنگوں اور محاذ آرائیوں نے اس کی توانائی، دولت اور عوامی طاقت کو بری طرح نچوڑ کر رکھ دیا۔

معمول کے حالات برقرار رہیں تو ایران بھی خلیجی ممالک کی طرح ایک خوش حال اور مضبوط ریاست بننے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ ترقی کے لیے اسے عراق کے وسائل پر ہاتھ صاف کرنے یا مغرب کو دباؤ میں لانے کی چنداں ضرورت نہ رہے۔ وہ توانائی کی عالمی منڈی میں ہمارا حریف بن سکتا ہے اور یہی مقابلہ دراصل ہمیں یہ احساس دلانا چاہیے کہ ہم اپنی معیشت کو زیادہ مضبوط بنائیں، پیداوار میں اضافہ کریں اور سائنس و تعلیم کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھاریں۔

سعودی عرب اور ایران دو ہمسایہ ممالک ہیں، جو خطے میں طاقت کے دو اہم ستونوں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سعودی عرب رقبے کے لحاظ سے بڑا ملک ہے، جبکہ ایران آبادی کے اعتبار سے زیادہ بڑا ہے۔ سعودی عرب کے پاس تیل کے سب سے بڑے ذخائر ہیں، جب کہ ایران گیس کے ذخائر کے اعتبار سے نمایاں مقام رکھتا ہے۔ آئندہ مرحلے میں جب معروضی حالات سازگار ہوں گے، تو دونوں ممالک کے درمیان ایک نتیجہ خیز اور مثبت تعلق قائم کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں، جو خطے میں استحکام کو فروغ دے سکتے ہیں۔

ایران میں حکومت کی تبدیلی کی صورت میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان برسوں پر محیط شدید عداوت کا کیا بنے گا؟ ایرانی حکومت یا اس کی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلی آنے کے بعد قوی امکان ہے کہ دونوں ملک ایک دوسرے کے قریب آنا شروع کر دیں۔ بعید نہیں کہ یہ تعلق نظریاتی اور بدیہی عداوت سے نکل کر عملی مفادات پر مبنی تعاون، حتیٰ کہ شراکت داری کی شکل اختیار کر لے۔

اسرائیل کے پاس جدید ترین ٹیکنالوجی، اختراعی صلاحیت اور سرمایہ کاری کا وسیع اثر و رسوخ موجود ہے، جبکہ اسے لمبے عرصے کے لئے انرجی پارٹنرشپ اور ایک بڑی صارف منڈی کی شدید ضرورت بھی ہے۔ دوسری جانب ایران کے پاس وسائل اور گنجائش موجود ہے۔ اس میں اصل رکاوٹ وقت ہو گا، وہ وقت جو ایران اور اس کے گیس کے شعبے کو دوبارہ منظم، تیار اور عالمی منڈی کے قابل بنانے میں لگے گا۔ یہ عمل ممکن ہے پانچ برس یا اس سے بھی زیادہ عرصہ لے، بشرطیکہ یہ تبدیلی ملک کو کسی بڑے انتشار یا عدم استحکام میں نہ دھکیل دے۔

میں سمجھتا ہوں کہ واشنگٹن کی جانب سے جلد از جلد ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کسی سزا کے طور پر نہیں، بلکہ تہران میں تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتِ حال کو پیشگی روکنے کی خواہش کے تحت ہے۔ امریکہ ایک ایسے معاہدے کا خواہاں ہے، جس میں کمزور ہوتی ہوئی تہران حکومت یورنیم افزودگی، بیلسٹک میزائلوں اور علاقائی پراکسیز سے متعلق تین بنیادی مطالبات پر اہم رعایتیں دے۔ بصورتِ دیگر امریکہ حالات کو جزوی تبدیلی کی سمت دھکیل دے گا۔ تاہم عراق پر قبضے جیسا کوئی منظرنامہ مکمل طور پر خارج از امکان ہے۔

مصنوعی ذہانت کی روز افزوں بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کے لیے توانائی کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ہے۔ دراصل یہی وہ نکتہ ہے جو امریکہ کی نظر میں ایران کی اہمیت کو دوچند بناتا ہے۔ یہی حقیقت ایران کو عالمی سطح پر بھی زیادہ اہم بنا دے گی، کیونکہ اس کے پاس گیس کے بے پناہ ذخائر موجود ہیں۔ آنے والے دور میں گیس وہی کردار ادا کرے گی جو گذشتہ صدی میں امریکی حکمتِ عملی میں تیل نے ادا کیا تھا۔

ایک دور تھا جب ایران کا محاصرہ کرنا اور اسے عالمی سطح پر تنہا رکھنا ایک قابلِ عمل پالیسی سمجھا جاتا تھا، کیونکہ تیل پیدا کرنے والے متعدد ممالک عالمی منڈی کی طلب باآسانی پوری کر رہے تھے۔ مگر آج منظرنامہ بدل چکا ہے۔ دنیا کو اب تیل سے آگے بڑھ کر گیس کے مزید اور قابلِ اعتماد ذرائع درکار ہیں اور اس بڑھتی ہوئی ضرورت کے تناظر میں ایران کو الگ تھلگ رکھنا نہ صرف غیر مؤثر بلکہ غیر حقیقت پسندانہ حکمتِ عملی بنتا جا رہا ہے۔

اسی لیے آنے والے برسوں میں گیس کا ذکر محض ایک توانائی ذریعے کے طور پر نہیں، بلکہ ایک طاقتور سیاسی محرک کے طور پر بار بار سنائی دے گا۔ یہ گیس ہی ہو گی جو توانائی کے تحفظ کی حکمتِ عملی کا مرکزی ستون بنے گی اور عالمی معاشی سلامتی کے توازن میں ایک فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔

محرکات سے قطعِ نظر، ایران کے حوالے سے جو بھی پیش رفت سامنے آئے گی وہ اس پورے علاقائی نظام کو نئی شکل دے گی، جس سے ہم گذشتہ دو دہائیوں سے مانوس ہیں۔ مستقبل کی غیر یقینی صورتِ حال کے بارے میں عرب دنیا کا خوف بے جا نہیں، کیونکہ اس کے اثرات اور قیمتیں ماضی میں نہایت بھاری ثابت ہوئی ہیں۔

عرب بہار کو شروع ہوئے پندرہ برس بیت چکے ہیں، مگر خطے میں پھیلی افراتفری آج تک پوری طرح ختم نہیں ہو سکی۔ اس کے باوجود وقت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم صرف بدترین خدشات کے گرد حصار کھڑا کرنے کے بجائے مثبت امکانات کی نشاندہی کریں، ان کے لیے ذہنی اور عملی طور پر تیار ہوں اور آنے والے بدلتے منظرنامے کا سامنا اعتماد اور بصیرت کے ساتھ کریں۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size