ایران میں جنگ یا چین کو نشانہ بنانے کی سازش

عبدالرحمٰن الراشد
عبدالرحمٰن الراشد
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 10 منٹ

افواہوں کے سوداگر ہوں، سازشی تھیوریوں کے تخلیق کار یا جنگوں کے سوداکار ہوں یہ سب لوگوں میں خوف اور مایوسی پھیلانے کا کام ہی کرتے ہیں۔ البتہ ہر ایک کا طریقہ واردات اپنا ہوتا ہے۔

ایران میں جنگ کے لیے پہلی گولی چلنے کے ساتھ ہی سازشی تھیوریوں کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔ جو سازشی تھیوری سب سے زیادہ نمایاں نظر آئی وہ یہ ہے کہ یہ جنگ درحقیقت چین کے خلاف امریکہ کے تذویراتی منصوبے کا حصہ ہے۔ تاکہ خلیجی ملکوں کے تیل اور تیل کی ترسیل و تجارت کے لیے بروئے کار آبی گزرگاہوں کو امریکہ کنٹرول کر سکے۔

ایک سازشی تھیوری یہ بھی پیش کی گئی کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے تباہ کن جنگ میں پورے خطے کو گھسیٹ لیا ہے۔ ٹرمپ اس جنگی دلدل میں خلیجی ریاستوں کو گھسیٹ پھینک کر خود نکل جائے گا۔ بعد ازاں اہل عرب اس جنگ کی دلدلی مقدر کو بگھتتے رہیں گے۔

ایک سازشی نظریہ اس طرح پیش کیا گیا کہ نیتن یاہو نے ٹرمپ کو بھی اس جنگ میں کھینچ لیا اور بالآخر دونوں اس جنگ کو یہیں چھوڑ کر خود بھاگ جائیں گے۔ اسی کے ساتھ جڑی ایک سازشی تھیوری میں یہ دعویٰ کیا گیا یہ جنگ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں بڑا کردار دینے کے لیے چھیڑی گئی تاکہ فلسطین کاز کے ہمیشہ کے لیے خاتمے کی راہ ہموار ہو جائے۔

ان تمام پر بحث مباحثہ یا بات کی جا سکتی ہے۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ ان میں سے کسی ایک میں بھی سچ کا یقینی ہونا ضروری نہیں ہے۔ تو پھر کیوں نہ اس پہلو پر غور کر لیا جائے جس سے حقیقت زیادہ سادہ انداز میں سمجھ میں آجائے۔

'ایران کے خلاف جنگ کو نتیجہ خیز بنانے میں دیر کی گئی تو بے چینی بڑھے گی اور اضافی کشیدگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ممکن ہے پراکسی کردار بھی بڑھ جائے۔ یہ بھی حیران کن نہیں ہے کہ معاملات بتدریج براہ راست جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ خواہ معاملہ رجیم تبدیلی کا ہو یا اسے رجیم کی صلاحیتں محدود کرنے تک سکیڑ لیا جائے۔'

ان سازشی نظریہ کے پیش کرنے والوں کے دلائل میں بھی جھول اور تضاد ہے۔ دہائیوں سے یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ اسرائیل اور ایران کا باہم ارتباط ہے اور ان کے درمیان لڑائی محض 'نورا کشتی' ہے۔ لیکن اب اسرائیل اور ایران کے درمیان ہونے والی جنگ نے دہائیوں تک چلنے والے دعوے اور شکوک و شبہات کو مسترد ہی نہیں ختم کر کے رکھ دیا ہے۔ جاری جنگ نے اسرائیل اور ایران کے درمیان موجود دشمنی کو بہت گہرا ثابت کیا ہے۔ جیسا کہ نظر آرہا ہے کہ اسرائیل عربوں کے ساتھ لڑی جانے والی جنگوں کے مقابلے میں ایران کو کہیں زیادہ سنگین جنگ کا نشانہ بنا رہا ہے۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر امریکہ ایران پر حملہ نہ کرتا تو یہ ساری دشمنی کہاں ہوتی؟ اور اگر امریکہ وہی کچھ کر رہا ہے جو اس دشمنی کا تقاضا تھا، تو پھر اس پر تعجب کیوں ہے؟

ایک ایسی ہی بحث جو زیادہ جگہوں اور سطحوں پرپھیلی ہوئی ہے۔ یہ بحث دانشوروں کے کچھ حلقوں میں بھی ہے۔ اس لیے یہی موضوع ہے ایران میں جاری جنگ درحقیقت امریکہ چین رقابت کا ہی ایک باب ہے۔ واشنگٹن توانائی کے وسائل اور آبی راستوں کو کنٹرول میں کرنا چاہتا ہے تاکہ چینی کی برتری یا بالادستی کا راستہ روک سکے۔ اس بحث کو عالمی سیاسیات کی حرکیات سے بھی تقویت ملتی ہے۔ کیونکہ وسیع تر عالمی سیاسی بساط پر یہ مقابلہ بہرحال موجود ہے۔

اس میں صرف ایک کمی ہے کہ امریکہ تو پہلے ہی ان سمندروں اور خلیج پر کنٹرول رکھتا ہے۔ اس کے سب جگہوں پر فوجی اڈے ہیں۔ خشکی کے ساتھ ساتھ پانیوں میں بھی امریکی افواج موجود ہیں۔ تیل کی صنعت پر بھی امریکی کنٹرول یا بالادستی پہلے سے قائم ہے۔ تیل کی یہی صنعت دنیا بھر میں ایک 'سپلائی چین' بھی رکھتی ہے۔ تیل کمپنیوں سے لے کر متعلقہ 'سپیئر پارٹس' اور انشورنس کمپنیوں تک ہر شعبے میں امریکی موجودگی اور اثر ہے۔ مزید یہ کہ تیل سے متعلق ٹرانزیکشنز میں امریکی کرنسی کا ہی دخل ہے۔ کہ زیادہ تر ٹرانزیکشنز امریکی ڈالر کی مرہون منت ہیں۔ اسی طرح اس راستوں میں جگہ جگہ امریکہ کے طیارہ بردار کھڑے ملتے ہیں۔ بلاشبہ یہ امریکی طیارہ بردار بھی امریکہ ہی کی طاقت کی علامتیں اور عوامل ہیں۔

اس کے مقابلے میں چین کے پاس کوئی اڈہ ہے، نہ بحری جہازوں کا فلیٹ ہے۔ نہ تیل کی پیداوار اور ٹرانسپورٹ سے متعلق کمپنیاں ہیں۔ جبکہ تیل کی بہت تھوڑی مقدار چینی کرنسی یووان کے عوض خریدی جاتی ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو ان خطوں میں امریکی بالا دستی نمایاں ہے۔ تقریبا تمام شعے ہی اس کے کنٹرول میں ہیں تو پھر امریکہ کیوں اپنے اس سارے کنٹرول کے بعد بھی اسی کنٹرول کے لیے جنگ کرے گا۔

ایران کے ساتھ جنگ کی کئی وجوہات ہیں اور ایک بڑا مقصد ہے۔ ایران کی طرف سے بڑا خطرہ جو ابھر سکتا ہے وہ ایران کی جوہری بم کی بڑھی ہوئی خواہش ہے۔ ایرانی بیلسٹک میزائل ہیں۔ ایران سے باہر کی حمایت یافتہ ملیشیائیں ہیں۔ جنہیں امریکہ لازما روکنا ضروری سمجھتا ہے۔ اسی طرح ایرانی رجیم سے لاحق خطرے کوختم کرنا ہے۔

اس رجیم کا خطرہ اسرائیل کو زیادہ ہے۔ اگرچہ یہ خطرہ خلیجی ملکوں کو بھی ہے اور وسیع تر سطح پر دیکھا جائے تو عرب دنیا کو ہے۔ اس لیے اگر گہرائی سے دیھا جائے تو ایک جوہری چھتری ایسا خطرہ بن سکتی ہے، جس کے لیے ایران سے ابھرنے والے وجودی خطرے کو کچلنا ضروری ہے۔

جو چیز عام طور پر نظر انداز کر دی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ ایران کی طاقت کمزور ہونے کا سب سے ابتدائی فائدہ خلیجی ملکوں کو ہے۔ کیونکہ یہ خلیجی ریاستیں تذویراتی دفاع سے محروم ہیں۔ ان کے پاس امریکی ضمانتیں بھی نہیں ہیں کہ امریکہ ان کی حفاظت دفاع کرے گا۔

کیا امریکہ واقعی توانائی کے وسائل اورآبی راستوں کو چین کے خلاف استعمال کرنے کے لیے کنٹرول کرنا چاہتا ہے؟ اس سوال کا جواب یقینا اثبات میں ہے۔ مگر منظر اتنا سادہ بالکل نہیں ہے۔ یہ مقابلہ شطرنج کی طرح ہے، دلچسپ بھی مگر مشکل اور خطرات سے گھرا ہوا بھی اور شطرنج کی بساط پوری دنیا کے نقشے پر پھیلی ہوئی ہے۔ جب توانائی کے ذرائع اور آبی راستوں پر بالادستی کی بات ہوتی ہے تو اس کے لیے بہتر ہوگا کہ ان بیانات کی تشریح سیاق و سباق کے ساتھ اور درست تناظر میں کی جائے۔

امریکہ اور چین کی مسابقت افریقہ اور ایشیا دونوں میں زیادہ ہے۔ لیکن یہ مسابقتی ماحول ان خطرات سے الگ ہے جو ایرانی رجیم نے اس خطے میں پیدا کر رکھے ہیں۔ ان خطروں کے بارے میں امریکہ سمجھتا ہے کہ یہ اب اس حد کو چھونے لگے ہیں جہاں انہیں روکنا ضروری ہو جاتا ہے۔

دونوں طاقتوں کے درمیان مخاصمت کی شدت کا تعلق توانائی کے وسائل، منڈیوں، ٹیکنالوجی میں ایک دوسرے پر برتری کی دوڑ کے ساتھ ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مفادات کا یہ ٹکراؤ براہ راست جنگ میں بدل جائے یا بالواسطہ انداز سے کسی جنگ میں ایک دوسرے سے بِھڑ جائیں۔

حقیقت یہ ہے اس ساری مسابقت کے باوجود تیل کے حالیہ دھچکے کے دوران امریکہ نے چین کو روس اور ایران دونوں سے تیل خریدنے کی اجازت دی ہے کہ امریکہ نے پہلے سے پابندیاں لگا رکھی تھیں۔ تاکہ عالمی سطح پر تیل کی وجہ سے کسی بڑے معاشی بحران کو روکا جائے۔

صدر ٹرمپ نے خود چین کو دعوت دی ہے کہ وہ اپنی فوج بھیج کر آبنائے ہرمز میں تیل کے ٹینکروں کو تحفظ دے۔ یہ بھی اسی لیے کیا گیا کہ ایران کی ان کوششوں کو ناکام بنایا جو وہ عالمی سطح پر جنگ کی معاشی اثرات کو بڑھانے کے لیے کر رہا ہے۔ امریکہ اور چین کے درمیان مسابقت کا یہ معاملہ تذویراتی نوعیت کا ہے۔ امریکہ اب بھی وہ بنیادی طاقت رکھتا ہے جو توانائی کے عالمی راستوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔ خوفناک حد تک حیران کن یہ چیز ہے کہ چین امریکہ کے اس حفاظتی بندوبست سے فائدہ لے رہا ہے۔ جبکہ ایران کی فوجی سرگرمیوں سے سب سے زیادہ نقصان کی زد میں بھی آسکتا ہے کہ ایران نے خلیج میں تیل کے بہاؤ کو روک دیا ہے۔ نیز عراق سے آنے والے تیل، گیس اور اس سے متعلق دیگر انفراسٹرکچر کی راہ میں بھی ایران حائل ہے۔

اس کی سب سے زیادہ قیمت چین کو ادا کرنا پڑ رہی ہے کہ وہ سب سے بڑا تیل درآمد کرنے والا ملک ہے۔ اس کے مقابلے میں امریکہ اس وقت تیل اور گیس پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔

جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ جنگ کیوں ہو رہی ہے، واشنگٹن کا کہنا یہ ہے کہ وہ اپنے مفادات کو ایرانی خطرات سے محفوظ کرنے کے لیے ایرانی خطرات کا خاتمہ چاہتا ہے۔ تاکہ اپنے اثر کو مضبوط کر سکے اور اپنے اتحادیوں کی سلامتی کے لیے اقدامات کر سکے۔ اس کا قطعی یہ مطلب نہیں کہ وہ چین کو آج سعودی تیل کی درآمد سے محروم کرنا چاہتا ہے اور آنے والے کل میں ایرانی تیل سے۔

موجودہ جنگ کے مضمرات امریکہ کے لیے بھی اخراجات کے اعتبار سے کافی زیادہ ہیں۔ خصوصا افراط زر کے حوالے سے کہ افراط زر کا فوری اثر امریکہ میں آنے والے وسط مدتی انتخابات پر بھی ہو سکتا ہے۔ تاہم سازشی تھیوریوں کی بحث چلتی رہے گی۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size