پڑوسیوں کے خلاف کشیدگی اور ایرانی اندازے کی غلطی
ایران اور امریکہ کے درمیان ایک بار پھر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ اس نئی لہر کے نتیجے میں کئی حملے اور جوابی حملے رپورٹ ہو چکے ہیں۔ ایران نے اس صورت حال میں فوری طور پر خلیجی ملکوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ ان خلیجی ملکوں میں کویت اور بحرین بھی شامل ہیں۔
حملوں کے بعد ایران نے سخت مذمت سمیٹی ہے۔ ایرانی حملوں سے وسیع علاقوں میں جانی و مادی نقصان بھی رپورٹ ہوا ہے۔ ان واقعات میں قطر پر کیے گئے حملے نے بھی پورے خلیج میں تشویش کی سطح بلند کر دی ہے۔ اب پڑوسیوں پر حملے کر کے ایران درحقیقت اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رہا ہے۔
خلیجی ممالک بحرین، کویت، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اورسلطنت آف عمان کم اہم کھلاڑی ہی سہی، مگر یہ سب ضروری پڑوسی ہیں جن کا امن و استحکام خود ایران کی پائیدار معاشی ترقی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ یہ مستحکم ہوں گے تو ان سے ایران کو تعاون میسر آئے گا۔
نتیجتاً ایران بھی اور پورا خطہ بھی ترقی و خوشحالی سے بہرہ ور رہے گا۔ جبکہ ان خود مختار اقوام پر حملے کرنا جو ایران امریکہ تنازعے کا حصہ بھی نہیں ہیں، خود ایران کے لیے تنہائی اور خطرناکی کا باعث ہو گا۔ نیز یہ صورت حال عالمی معاشی استحکام کے لیے بھی مفید نہیں ہو سکتی ہے۔
خود تصادمی کا طویل مدتی مفادات کو نقصان
یہ خلیجی ملک ہمیشہ ایران کے پڑوسی رہیں گے۔ کیونکہ جغرافیہ تبدیل ہوتا ہے نہ پڑوسی۔ پڑوسیوں کو معاشی اعتبار سے ایک دوسرے کی احتیاج رہتی ہے۔ تجارتی راستے، سلامتی کے لیے مشترکہ چیلنج اور دیگر بہت سے امور میں پڑوسیوں کی ہی ضرورت پڑتی ہے۔ ایرانی معیشت پہلے ہی کافی مشکلات سے دوچار رہی ہے۔ اس میں معاشی بد انتظامی بھی رہی، اقتصادی پابندیاں بھی رہیں اور سیاسی و سفارتی تنہائی بھی سبب رہی ہے۔
اب نئے حالات میں ایران خلیجی ملکوں کے ساتھ تعمیری تعلقات کے نتیجے میں اپنے ہاں سرمایہ کاری کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ توانائی کے میدان میں تعاون کر کے ایک دوسرے کو منڈیوں تک رسائی کے لیے مدد لی جا سکتی ہے۔ بجائے اس کے یہ ایک دوسرے پر حملے کر کے ان سارے امکانات کو ہی نقصان پہنچا لیا جائے۔
محفوظ جہاز رانی، توانائی اور دیگر تنصیبات کا تحفظ، انرجی انفراسٹرکچر کا بچاؤ، وسیع تر تجارتی ماحول یہ سب چیزیں ایران سمیت خطے کے سبھی ملکوں کے لیے اہم اور ضروری ہیں۔ انہیں نقصان پہنچانا خود ایران کے بھی حق میں نہیں ہے۔
مزید یہ کہ جن مملکتوں کو نشانہ بنایا گیا ہے یہ براہ راست کسی بھی بنیادی جھگڑے کا حصہ نہیں ہیں۔ یہ حملے کر کے ایران بین الاقوامی برداری اور عرب دنیا میں خود کو جارحیت کے مرتکب کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
ان خلیجی ممالک نے ایران کے خلاف دشمنی شروع نہیں کی۔ بلکہ یہ بار بار کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کرتے رہے نہ کہ کشیدگی بڑھانے کی کوشش۔ ایران کے ان اقدامات سے خطرہ پیدا ہو رہا ہے کہ علاقائی و عالمی سطح پر پائے جانے والے تصورات میں ڈرامائی تبدیلی ہوگی۔ تہران اپنے آپ کو ایک توسیع پسند طاقت کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے اپنے پڑوسی ملکوں کو کشیدگی میں گھسیٹ لانا چاہتا ہے۔
جبکہ خلیجی ممالک حقیقتاً امن کے لیے سرگرم رہے ہیں۔ عمان کی امریکہ و ایران کے درمیان خاموشی سے ثالثی کرانے کی ایک لمبی تاریخ ہے۔ قطر نے بھی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مکالمے میں سہولت فراہم کر سکے۔ حتیٰ کہ اسرائیلی یرغمالیوں کو بھی رہائی دلوانے میں قطر نے بنیادی کردار ادا کیا۔ اس کی کشیدگی کم کرنے کی کوششیں ایسے موقع پر بھی جاری رہیں جب کشیدگی پھیلانے اور بڑھانے والے ان کوششوں کو سبوتاژ کر رہے تھے۔
سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک نے ہمیشہ سفارتی چینلز کو استعمال کیا ہے۔ اسی وجہ سے حالیہ برسوں میں ایران کو صلح جوئی کی کوششوں کا حصہ بنایا ہے۔ تاکہ خطے میں کشیدگی کم کر کے استحکام لایا جا سکے۔ جنگ میں شریک ہونے والی اقوام بننے سے کوسوں دور رہتے ہوئے قابل قدر سفاری سرمایہ کاری کی۔ تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور جنگ کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔
جنگ کے دوران بھی ان ملکوں نے اپنے تمام تر مواصلاتی روابط بحال رکھے۔ اس لیے ان پر حملے کرنا نہ صرف ان کی امن کوششوں کو نظر انداز کرنے والی بات ہے بلکہ اس ماحول کو بھی سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے جو پائیدار حل کے لیے ضروری ہیں۔ یہ رویہ دو طرفہ امریکی ایرانی تناؤ کو پورے علاقے کی سطح پر پھیلانے کا ذریعہ ہے۔ اس کے نتیجے میں پورے خلیج کی معیشت اور تجارت متاثر ہوئی ہے۔ جہاز رانی کی انشورنس کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔ تیل کی منڈیوں میں قیمتوں کا بھونچال آیا ہے۔ حتیٰ کہ توانائی سے متعلق انفراسٹرکچر بھی نقصان سے دوچار ہوا ہے۔
اس ساری صورتحال کا بوجھ عام شہریوں پر پڑا ہے۔ جنہیں یہ بھی خوف ہے کہ انہیں نقل مکانی کرنا ہوگی اور ان کی معاشی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ عرب دنیا میں رائے عامہ ایران کے خلاف ہوتی نظر آرہی ہے اور اس کی وجہ ایران کے وہ اقدامات ہیں جو وہ اپنے پڑوسی ملکوں کے خلاف کر رہا ہے۔ عوام اپنے ملکوں کے تحفظ، دفاع، استحکام و خوشحالی کو اہمیت دیتے ہیں۔ جبکہ ایرانی اقدامات ان سب چیزوں کے لیے خطرہ ہیں۔
سفارتی و آبی ذرائع کھولے رکھنے کی ضرورت
حالیہ مفاہمتی یادداشت جس پر امریکہ و ایران نے دستخط کیے ہیں۔ ان تمام امور کو نمایاں پیش کرتی ہے جو خطرے سے دوچار ہیں۔ یہ ایک کلیدی عنصر آبنائے ہرمز کا ہے کہ اسے کاروباری و تجارتی جہاز رانی کے لیے کھلا رکھا جائے کہ یہ توانائی کی ترسیل اور تجارتی مقاصد کے لیے دنیا کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔ دنیا کے ممالک اسے کھلا رکھنا چاہتے ہیں۔ ایران اس آبی راہداری میں رکاوٹ ڈالنے یا اس کے لیے کوئی خطرہ بننے کا خمیازہ بھگتنا برداشت نہیں کر سکتا۔ اس کا واضح مطلب ہوگا کہ ایران ایک بار پھر سفارتی تنہائی کو دعوت دے اور اپنے آپ کو معاشی مصائب میں واپس دھکیل دے۔
ایران کے لیے خلیجی ممالک کی حیثیت بنیادی ضرورت کی ہے۔ اسے ان پڑوسی ملکوں سے معاشی ترقی و استحکام کی ضرورت ہے۔ محفوظ تجارتی راستوں میں مدد کی ضرورت ہے۔ انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے ان سے ملنے والا سیاسی و سفارتی تعاون ایران کے لیے اہم ہے۔ ایرانی عوام کی پائیدار خوشحالی و ترقی کے لیے علاقے میں ایران کے اچھے تعلقات انتہائی اہم ہیں۔ نہ کہ اس کے برعکس جھگڑوں کا ارتکاب، پڑوسیوں کی خودمختاری پر حملے اور ثالثی کی کوششیں کرنے والوں کے خلاف لڑائی کرنا۔ یہ ایران کی کمزوری و غیر ذمہ دارانہ رویے کو تو ظاہر کر سکتا ہے اس کی مضبوطی کو ہرگز نہیں۔
آخر میں ان نکات کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے یہ کہوں گا کہ خلیجی ریاستیں اس کے سوا کچھ نہیں چاہتیں کہ وہ امن کے لیے تعمیری کوششوں میں مصروف ہیں۔ استحکام چاہتی ہیں اور امریکہ ایران تصادم میں غیر ضروری طور پر الجھنے سے بچنا چاہتی ہیں۔ ایران ان پر حملے کر کے دراصل اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی مار رہا ہے۔
ایران کے یہ اقدامات اس کے ممکنہ شراکت داروں کو اس سے دور کر رہے ہیں۔ ایران کے بین الاقوامی تشخص کو خراب کر رہے ہیں اور علاقائی سطح پر اس کی مشکلات میں اضافے کا باعث بنتے ہوئے اسے خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ ایران کی معاشی، سماجی و سیاسی ترقی کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے پڑوسی خلیجی ممالک کی خودمختاری کا احترام کرے۔ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھے اور کشیدگی کی جگہ سفارتکاری کو اہمیت دے۔
خطے میں تناؤ کو پھیلانے اور کشیدگی کو بڑھانا کسی کے مفاد میں نہیں، خود ایران کے بھی حق میں نہیں ہے۔ حقیقی مضبوطی ان ملکوں کے ساتھ تعلقات بنانے میں پوشیدہ ہے جو اس کے اردگرد موجود ہیں اور جو ہمیشہ اس کے ساتھ رہیں گے۔ بجائے اس کے کہ ایران ان پلوں کو جلا کر خاکستر کرتا رہے جو باہمی رابطوں اور تعاون کے لیے ایک علامت کا کام کرتے ہیں۔