برطانوی وزیر اعظم کیر سٹارمر نے ہفتہ کو اپنے فرانسیسی اور جرمن ہم منصبوں کے ساتھ بات چیت کی اور غزہ کے مکینوں تک امداد پہنچانے اور بیمار و زخمی بچوں کو نکالنے کے لیے برطانیہ کے منصوبوں کا جائزہ لیا۔ سٹارمر کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نے جائزہ لیا کہ برطانیہ کس طرح اردن جیسے شراکت داروں کے ساتھ مل کر فضائی راستے سے غذائی امداد گرانے اور طبی دیکھ بھال کی ضرورت والے بچوں کو نکالنے کے منصوبوں کو آگے بڑھائے گا۔
ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران سٹارمر، فرانسیسی صدر میکرون اور جرمن چانسلر فریڈرک میرٹس نے غزہ میں انسانی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور سب اس بات پر متفق ہوئے کہ یہ خوفناک ہے۔ ڈاؤننگ سٹریٹ سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ قائدین اس بات پر متفق ہوئے کہ فوری طور پر مطلوبہ جنگ بندی کو مستقل امن میں تبدیل کرنے کے لیے مضبوط منصوبے تیار کرنے کی ضرورت ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ انہوں نے خطے میں سلامتی حاصل کرنے کے لیے طویل مدتی حل کی راہ ہموار کرنے والے منصوبے پر ایک ساتھ مل کر کام کرنے کے اپنے عزم پر تبادلہ خیال کیا اور اس بات پر متفق ہوئے کہ ایک بار جب یہ منصوبہ تیار ہو جائے گا تو وہ دیگر فعال فریقوں کے ساتھ تعاون حاصل کریں گے تاکہ اس منصوبے کو آگے بڑھایا جا سکے۔
یہ بات چیت اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل گوتیرش کے ایک دن بعد ہوئی ہے جنہوں نے غزہ پٹی میں بڑے پیمانے پر بھوک کو نظر انداز کرنے پر عالمی برادری پر شدید تنقید کی تھی اور اسے ایک اخلاقی بحران قرار دیا جو عالمی ضمیر کو چیلنج کر رہا ہے۔ امدادی تنظیموں نے غزہ کی پٹی میں شدید غذائی قلت کا شکار بچوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے بارے میں خبردار کیا تھا جس کا اسرائیل نے محاصرہ کر رکھا تھا۔ مارچ میں حماس کے ساتھ اپنی جنگ کے دوران امداد کے داخلے کو روک دیا تھا۔
مئی کے آخر میں تل ابیب نے اسرائیل اور امریکہ کی حمایت یافتہ "غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن" کے ذریعے تقسیم کی جانے والی امداد کو داخلے کی اجازت دی۔ اقوام متحدہ کی ایجنسیوں نے اس تنظیم کے ساتھ کام کرنے سے انکار کر دیا۔