"ترکی میں جاسوسی کے نیٹ ورک" کے بارے میں پہلے اسرائیلی تبصرے میں کنیسٹ [اسرائیلی پارلیمنٹ] کی خارجہ امور اور سلامتی کمیٹی کے سربراہ رام بن باراک نے آج اتوار کو باور کرایا ہےکہ ان دنوں ترکی کا تخیل اوور ٹائم کام کر رہا ہے۔
العربیہ کے نامہ نگار کے مطابق موساد کے نائب سربراہ کے طورپر خدمات انجام دینے والے بن باراک نے کہا کہ حراست میں لیے جانے والوں میں کوئی اسرائیلی نہیں ہے۔ یہ واضح ہو جائے گا کہ ان میں سے کچھ (یعنی زیر حراست افراد) ملوث نہیں ہیں۔
طلباء کے بارے میں معلومات
قابل ذکر ہے کہ ترک میڈیا نے جمعرات کو اطلاع دی ہے کہ ترکی نے اسرائیلی خفیہ ادارے ’موساد‘ کے لیے جاسوسی کرنے والے 15 افراد کے نیٹ ورک کو پکڑ ا ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ جاسوسی نیٹ ورک نے ترکی میں فلسطینی اور شامی طلباء کے بارے میں معلومات اکٹھا کرنے کا کام کیا۔ خاص طور پر ان کا ہدف دفاعی صنعت کے شعبے میں تعلیم حاصل کرنے والےطلبا کے بارے میں معلومات جمع کی گئیں۔
اخبار ’ڈیلی صباح‘ نےبتایا کہ ترکی کے 200 انٹیلی جنس اہلکاروں نے موساد کے مبینہ جاسوسوں کی گرفتاری کی کارروائی میں حصہ لیا۔ ان میں تین تین افراد پر مشتمل پانچ مختلف سیلز کو پکڑا گیا۔
-
ترکی کی جانب سے سفیروں کو نکال دینے کی دھمکی پر امریکا اور یورپی ممالک چوکنا
ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے گذشتہ روز اُن 10 ممالک کے سفیروں کو ملک سے نکال ...
بين الاقوامى -
اسرائیل: انسانی حقوق کے 6 فلسطینی ادارے "دہشت گردی" کی فہرست میں درج
اسرائیل میں وزارت عدلیہ کی جانب سے جمعے کی شام جاری "دہشت گردی کی فہرست" میں ...
مشرق وسطی -
روس کے گرین سگنل کے بعد اسرائیل کے شام پر تازہ حملے
روس کی جانب سے شام میں اسرائیلی کارروائیوں کے بارے میں نروم رویہ اختیار کرنے کے ...
مشرق وسطی