علمِ فلکیات کےشوقین افرادکےلیے خوشخبری،رواں ماہ زہرہ کی نایاب روپوشی اورشاندارمظاہردیکھیے
علمِ فلکیات کے شوقین افراد رواں ماہ جون کے دوران اس سال کے سب سے نمایاں فلکیاتی مظاہر میں سے ایک کو دیکھنے کے لیے تیار ہو رہے ہیں، جب سیارہ زہرہ (وینس) چاند کے پیچھے چھپ جائے گا۔ اس نایاب واقعے کو فلکیاتی اصطلاح میں "لیونر اکلیٹیشن" کہا جاتا ہے۔
ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری کے حوالے سے تیار کی گئی سائنس ڈیلی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ان فلکیاتی مظاہر کا آغاز مہینے کے ابتدائی دنوں سے ہی ہو جائے گا۔ غروبِ آفتاب کے بعد مغربی افق پر زہرہ اور مشتری ایک دوسرے کے انتہائی قریب نظر آئیں گے اور سنہ نو جون 2026ء کو یہ دونوں سیارے اپنے قریب ترین نقطے پر پہنچیں گے، جسے فلکیات میں "سیاروں کا قران" کہا جاتا ہے۔
بعد ازاں 11 سے 15 جون کے درمیانی عرصے میں عطارد (مرکری) بھی اس منظر کا حصہ بن جائے گا، جس سے زہرہ اور مشتری کے ساتھ مل کر ایک نایاب "تہرے سیاروی ملاپ" کی لکیر بنے گی جسے غروبِ آفتاب کے بعد مغربی آسمان پر ننگی آنکھ سے دیکھا جا سکے گا۔
چاند کے پیچھے زہرہ کی روپوشی
رواں ماہ کا سب سے بڑا اور اہم ترین واقعہ 17 جون کو پیش آئے گا جب چاند براہِ راست سیارہ زہرہ کے سامنے سے گزرے گا، جس کے نتیجے میں زہرہ عارضی طور پر نظروں سے اوجھل ہو جائے گا اور پھر چاند کی دوسری سمت سے دوبارہ نمودار ہوگا۔
یہ نایاب منظر امریکہ، کینیڈا، برازیل اور وینزویلا کے کچھ حصوں میں مکمل طور پر دیکھا جا سکے گا، جبکہ دنیا کے دیگر علاقوں میں موجود مبصرین چاند اور زہرہ کو ایک دوسرے کے انتہائی قریب ایک دلکش منظر کی صورت میں دیکھ سکیں گے۔
فلکیاتی سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ دن کے اوقات میں خصوصی حفاظتی آلات کے بغیر سورج کے قریب دوربین یا ٹیلی سکوپ کا استعمال نہ کیا جائے، کیونکہ کچھ علاقوں میں اس واقعے کے بعض مراحل دن کے وقت پیش آ سکتے ہیں۔
فلکیاتی موسمِ گرما کا آغاز
رواں ماہ کی 21 تاریخ کو نصف کرہ شمالی میں "انقلابِ صیفی" (سمر سولی سٹیس) کا واقعہ بھی ہوگا، یہ وہ تاریخ ہے جو باقاعدہ طور پر فلکیاتی موسمِ گرما کے آغاز اور سال کے سب سے طویل دن کی علامت ہے۔
اگرچہ اس دن کو سال کا طویل ترین دن کہا جاتا ہے، لیکن زمین کی حرکت اور سورج کے گرد اس کے مدار سے جڑے عوامل کے باعث یہ ضروری نہیں کہ سورج کا جلد طلوع ہونا یا دیر سے غروب ہونا بالکل اسی دن واقع ہو۔
آسمانِ دنیا کے گہرے رازوں کا نظارہ
جیسے جیسے مہینہ آگے بڑھے گا، رات کے آسمان پر کائنات کے دور دراز اور مشہور ترین اجسام نظر آنا شروع ہو جائیں گے، جن میں "رنگ نیبولا"، "ویل نیبولا" اور "ڈمبل نیبولا" شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مشہور "سمر ٹرائینگل" (موسمِ گرما کا تکون) بھی نمایاں ہوگا جو تین چمکدار ستاروں ویگا، آلٹیئر اور ڈینیب پر مشتمل ہوتا ہے۔
یہ فلکیاتی اجسام دوربین سے دیکھنے والوں کے درمیان بے حد مقبول ہیں، کیونکہ جدید ٹیلی سکوپ اور طویل ایکسپوزر والی تصاویر ہماری کہکشاں کے اندر موجود گیس کے بادلوں، مرتے ہوئے ستاروں اور نئے ستاروں کی پیدائش کے مقامات کی حیرت انگیز تفصیلات بے نقاب کرتی ہیں۔
ناسا کے سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ سیاروں کے ملاپ، زہرہ کی روپوشی، انقلابِ صیفی اور گہرے آسمانی اجسام کا بیک وقت نظر آنا، رواں جون کے مہینے کو آسمان کا مشاہدہ کرنے اور نایاب فلکیاتی مناظر سے لطف اندوز ہونے کے لیے سال کا بہترین مہینہ بناتا ہے۔
-
دو سالوں میں چین کو پاکستان کے چلغوزے کی برآمدات تقریباً دوگنا ہو گئیں
چین اب پاکستان کے چلغوزے کی 90 فیصد تک برآمدات خریدتا ہے
بين الاقوامى -
بچوں میں ذہنی مضبوطی پیدا کرنے والا مؤثر تربیتی انداز
بعض بچے فطری طور پر نرم دل، حساس اور مہربان ہوتے ہیں۔ وہ دوسروں کا خیال رکھنے کی ...
ایڈیٹر کی پسند -
ترکیہ میں بس ڈرائیور کو اچانک دل کا دورہ... الم ناک حادثے میں درجنوں مسافر ہلاک و زخمی
بس ازمیر سے انطالیا جا رہی تھی
بين الاقوامى