چاند کی سطح پر تابکار گڑھے دیکھنے کا موزوں وقت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

آج سوموار 17 جنوری 2022 کو سعودی عرب اور عرب دنیا کے آسمان پر پورے چاند کے مناظر سامنے آئے ہیں۔ یہ منظر سردیوں کی اس سرد رات میں سب سے طویل ہے۔ چاند کے باقی خطوں کے برعکس یہ حصہ چاند پر موجود تابکار گڑھوں کو دیکھنے اور ان کی تصویر کشی کے لیے بہترین ہے۔

جدہ میں فلکیاتی سوسائٹی کے سربراہ انجینیر ماجد ابو زاھرہ نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا کہ چاند مشرقی افق سے اوپر طلوع ہو گا۔ غروب آفتاب کے ساتھ شمال مشرق سے غروب ہوگا۔ اس طرح یہ آسمان میں اونچے راستے پر گامزن ہو گا اور جڑواں ستاروں پر سامنے آخری جڑواں ستارے کے ساتھ مل کر چمکے گا۔ یہ وہی مقام ہے جہاں چھ ماہ بعد سورج ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ آپ دیکھ سکیں گے کہ چاند کا ظاہری سائز اس کے طلوع ہونے کے دوران بڑا ہوگا جب وہ افق کے قریب ہوگا ہے۔ یہ صرف ایک نظری وہم ہے جو ہر قمری مہینے کے وسط میں ہوتا ہے۔ آسمان پر طلوع ہونے کے بعد جب وہ آسمان پر بلندی پر پہنچتا ہے تو اس کا حجم چھوٹا لگتا ہے۔ اسی طرح چان اپنے عروج کے وقت سرخ یا نارنجی بھی ہو سکتا ہے کیونکہ یہ ہمارے سیارے کے ماحول کی وجہ سے ہے۔ اس کے اجزاء چاند سے منعکس ہونے والی سفید روشنی کو بکھیرتے ہیں جس سے نیلے رنگ کے طیف کے رنگ لمبی لہر کے ساتھ بکھر جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم غروب ہوتے سورج کو سرخ رنگ میں دیکھتے ہیں۔

الزاھرہ نے مزید کہا کہ اس کے بعد چاند کی آدھی رات کو آسمان کے سب سے اونچے مقام پر پہنچنا ہے۔چاند منگل کے طلوع آفتاب کے ساتھ شمال مغربی افق پر غروب ہو جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ عام طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ چاند پوری رات بھرا رہتا ہے لیکن سائنسی طور پر ہم پورے چاند کو اس وقت کہتے ہیں جب چاند سورج سے 180 ڈگری کے زاویے پر ہوتا ہے اور یہ گرینج کے معیاری وقت کے مطابق نصف شب 02 بج کر 48 منٹ جب کہ مکہ معظم کے معیاری وقت کے مطابق 11 بک کر 48 منٹ پر ہوگا۔ اس طرح اس مہینے کے دوران زمین کے گرد اپنے مدار کا نصف مکمل کر لے گا۔

ان کا خیال ہے کہ ہر ماہ کا یہ وقت بڑی یا دوربین کے ذریعے چاند کی سطح پر موجود تابکار گڑھوں کو دیکھنے کے لیے مثالی ہے۔ یہ حصہ باقی خطوں کے برعکس تابکار گڑھے دکھائی دینے کے لیے موزوں ہے جو پورے چاند کو سورج کی روشنی نتیجے میں چپٹا دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ تابکار گڑھے روشن عکاس مواد کے ذخائر ہیں جو گڑھوں کے مرکز سے باہر کی طرف سینکڑوں کلومیٹر تک پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ گڑھے نئے بنے ہیں اور گڑھے (ٹیخو) کو سب سے زیادہ تابناک گڑھا سمجھا جاتا ہے۔ آنے والے وقت کے دوران راتوں میں چاند ہر روز تقریباً ایک گھنٹہ تاخیر سے طلوع ہوگا ہے اور چند دنوں کے بعد وہ صرف فجر اور صبح کے آسمان پر نظر آئے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں