.

فلپائن میں اغوا کار ذہنی تشدد کا نشانہ بناتے رہے: بکرعطیانی

دنیا کی حکومتیں میڈیا کا پراپیگنڈا مقاصد کے لیے استعمال بند کردیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان میں العربیہ کے بیورو چیف بکر عطیانی نے فلپائن میں اغوا کاروں کے چنگل سے آزادی کے بعد اپنے پہلے انٹرویو میں کہا ہے کہ انھیں دوران حراست روزانہ ہی ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا تھا۔ انھوں نے دنیا بھر کی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ میڈیا کو پراپیگنڈا مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا سلسلہ بند کر دیں۔

بکرعطیانی فلپائن کے صوبے منڈاناؤ میں اسلامی حکومت کے قیام کے لیے مسلح جدوجہد کرنے والے ابو سیاف گروپ کی قید سے 4 دسمبر کو رہا ہوئے تھے۔ انھوں نے بدھ کو العربیہ کے ساتھ انٹرویو میں کہا ہے کہ انھیں دوران حراست اٹھارہ ماہ تک مسلسل نفسیاتی اور ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ ''اغوا کار مجھے قتل کرنے کے لیے مسلسل ڈراتے دھمکاتے رہے تھے۔ انھوں نے کئی مرتبہ مجھے ڈرانے کے لیے میری ٹانگوں کے نزدیک گولیاں چلائی تھیں''۔

وہ ایک اور انٹرویو میں کہہ چکے ہیں کہ ان کے اغوا کاروں نے جسمانی طور پر تو ان سے کوئی ناروا سلوک نہیں کیا تھا لیکن وہ نفسیاتی طور پر ہراساں کرتے اور ڈراتے دھمکاتے رہے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ انھوں نے ایک سے زیادہ مرتبہ فرار کی کوشش کی تھی لیکن ناکامی پر انھیں تین ماہ کے لیے ایک چھوٹے ہٹ میں قید تنہائی میں ڈال دیا گیا تھا۔

تاوان کا مطالبہ

بکر عطیانی کا کہنا تھا کہ ان کے لیے ہر نیا دن ایک نیا چیلنج لے کر آتا تھا لیکن انھوں نے امید کا دامن نہیں چھوڑا۔ ''ہر شام مجھے امید دلاتی تھی۔ رات کا اندھیرا مجھے آس دلاتا تھا کہ ایک دن میں اپنے پیاروں سے ضرور جا ملوں گا''۔

انھوں نے بتایا کہ ''مجھ سے رہائی کے لیے تاوان کا مطالبہ کیا گیا تھا لیکن اغوا کاروں کو کوئی رقم ادا نہیں کی گئی۔ ایم بی سی گروپ اغوا کے روز اول سے میرے ساتھ تھا۔ انھوں نے میری رہائی کے لیے ہر ممکن کوشش کی لیکن تاوان میں کوئی رقم ادا نہیں کی گئی اور اغوا کاروں میں سے ہی ایک گروپ نے فرار میں میری مدد کی ہے''۔

اغوا کاروں کے ہاتھوں قید وبند کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد بکر عطیانی کی صحت بہت گر چکی ہے اور ان کا وزن ایک تہائی کم ہو چکا ہے، انھیں جنگ زدہ جزیرے سولو کے جنگلوں میں رکھا گیا تھا لیکن اب ان کا کہنا ہے کہ ان کی صحت بہتر ہے اور وہ بتدریج مزید بہتر ہو رہی ہے۔

انھوں نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''میری صحت بہتر ہے اور میں واقعتاً خوش ہوں۔ اس تجربے کے بعد میں مضبوط ہوا ہوں اور اس تجربے کے بعد تو مجھے اپنے پیشۂ صحافت سے اور زیادہ محبت پیدا ہو گئی ہے''۔

میڈیا کا کردار

دنیا بھر میں صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ''رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز'' کی رپورٹ کے مطابق اس سال اب تک 67 صحافی اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران مارے جا چکے ہیں اور 198 قید وبند کی سزائیں بھگت رہے ہیں۔

بکر عطیانی کا کہنا تھا کہ ان کے تجربے کا دوسروں کے ساتھ موازنہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ان کے اغوا کار ایک گینگ سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ مافیا طرز کے ایک منظم جرائم پیشہ گروہ تھے۔

انھوں نے صحافیوں سے ناروا سلوک سے متعلق دوسرے کیسوں کے حوالے سے کہا کہ حکومتوں کو معاشرے کے اندر میڈیا کی قدر واہمیت کے بارے میں زیادہ آگاہ ہونے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر حکومتیں اس بات کا ادراک کر لیں کہ میڈیا حقیقی جمہوریت کے قیام کے لیے موجود ہے اور حکومت کی طرح میڈیا کا کردار بھی اہم ہے تو پھر واقعی کچھ کیا جا سکتا ہے لیکن اگر حکومتیں یہ خیال کریں کہ میڈیا کو ان کا آلہ کار ہونا چاہیے تو پھر اس سے مسائل جنم لیتے ہیں''۔

واضح رہے کہ فلپائن میں سرکاری سکیورٹی فورسز سے بر سر پیکار ابو سیاف گروپ سے تعلق رکھنے والے مسلح جنگجوؤں نے بکر عطیانی کو 12 جون 2012ء کو صوبے منڈاناؤ کے جزیرے سولو کے مقام جولو سے اغوا کر لیا تھا۔ وہ اس سے سات روز قبل فلپائنی مسلمانوں کی حالت زار سے متعلق ایک دستاویزی فلم بنانے کے لیے 5 جون کو دارالحکومت منیلا پہنچے تھے۔ انھیں جولو ہی میں مختلف ٹھکانوں پر قید رکھا گیا تھا۔

وہ قریباً 550 روز تک اغوا کاروں کے زیر حراست رہے تھے اور ان کی رہائی مصر کی جامعہ الازہر، مفتیِ اعظم مقبوضہ بیت المقدس، فلسطینی علماء کونسل، منڈاناؤ ایسوسی ایشن آف مسلم اسکالرز، اسلامی تعاون تنظیم، فلسطینی صدر محمود عباس اور متعدد عرب اور بین الاقوامی سفارتی مشنوں کی مربوط کوششوں اور العربیہ نیوز چینل کی انتظامیہ کے شبانہ روز روابط کے نتیجے میں عمل میں آئی ہے۔

تینتالیس سالہ بکر عطیانی پاکستان، افغانستان اور جنوب مشرقی ایشیا کے امور کے ماہر ہیں۔ انھوں نے نائن الیون سے قبل القاعدہ کے مقتول سربراہ اسامہ بن لادن کا انٹرویو بھی کیا تھا۔ العربیہ نیوز چینل نے اپنے نمائندے کی رہائی کے لیے کوششیں کرنے والے تمام افراد اور اداروں کا شکریہ ادا کیا ہے۔