سعودی عرب :شادی کا تربیتی پروگرام متعارف کرانے کا اعلان
سعودی حکومت نے مملکت میں طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح کو کم کرنے کے لیے شادی کا ایک لازمی تربیتی پروگرام متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔
لندن سے شائع ہونے والے روزنامہ الشرق الاوسط میں جمعہ کو چھپنے والی ایک رپورٹ کے مطابق وزارت انصاف نے مملکت کے تمام شہروں میں شادی کے خواہاں افراد کے لیے تربیتی اور بحالی کا پروگرام متعارف کرانے کا منصوبہ بنایا ہے۔
قبل از شادی اس تربیتی اور بحالی پروگرام کے ڈائریکٹر فواد الجوغمین نے بتایا ہے کہ ''کوئی بھی شخص شادی شدہ زندگی گزارنے سے متعلق تربیت اور اس کے طلاق کی شرح کو کم کرنے کے لیے اثرات سے انکار نہیں کرسکتا ہے''۔
انھوں نے بتایا ہے کہ اسلامی ملک ملائشیا میں اسی طرح کا پروگرام متعارف کرائے جانے کے بعد طلاق کی شرح بتیس فی صد سے کم ہوکر صرف سات فی صد رہ گئی ہے۔
ایک سعودی روزنامے الاقتصادیہ نے سال کے آغاز میں ایک رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ سعودی عرب میں 2013ء میں روزانہ اوسطاً بیاسی طلاقیں رجسٹر ہوئی تھیں۔ فواد الجوغمین کے بہ قول مملکت میں ہر سال قریباً ایک لاکھ نکاح نامے جاری کیے جاتے ہیں۔
انھوں نے مزید بتایا کہ سعودی عرب میں طلاق کی اس بلند شرح پر قابو پانے کے لیے تمام چھوٹے بڑے شہروں اور قصبوں میں قریباً ایک ہزار تربیت یافتہ ٹرینر تعینات کیے جائیں گے جو مستقبل قریب میں شادی کے خواہاں جوڑوں کو تربیت دیں گے۔
پروگرام کے رابطہ کار کا کہنا تھا کہ ''یہ تربیتی عمل آیندہ دوسال تک جاری رہے گا اور اس کے تحت مردوخواتین کو شادی شدہ زندگی گزارنے کے ایسے گر سکھائے جائیں گے جن کو بروئے کار لاکر وہ اپنے مستقبل کے خاندان کے استحکام کو یقینی بنا سکتے ہیں''۔
-
سعودی عرب: ڈرائیونگ کی پاداش میں بیوی کو طلاق
معمولی بات پر طلاق کے واقعات پر سوشل میڈیا پر بحث
ایڈیٹر کی پسند -
سعودی عرب: طلاق دینے سے انکار پر خاوند عدالت میں ہو گا
خاوند کے ساتھ جانے سے انکار پر بیوی مالی حقوق سے محروم ہوجائے گی
ایڈیٹر کی پسند -
سعودی عرب: ازدواجی عدم اطمینان نے شرح طلاق بڑھا دی
پچھلے سال کے دوران 1371 خواتین نے طلاق مانگ لی
مشرق وسطی -
سعودی عرب میں طلاق کے یومیہ 82 واقعات رجسٹرڈ ہونے لگے
علاحدگی کی بڑی وجہ زوجین کی بد دیانتی ہے: ماہرین
بين الاقوامى -
سعودی عرب: سوشل میڈیا کے ذریعے طلاق دینے کا خوفناک رحجان
ہر ماہ میں طلاق کے 2231 واقعات ریکارڈ
بين الاقوامى