.

قلعہ عروہ بن زبیر مسلمانوں کی عظمت رفتہ کی علامت!

عمارت کو غلبہ اسلام کا چشم دید گواہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری آرام گاہ کی زیارت کے لیے مدینہ طیبہ آنے والے عاشقان رسول اگر قلعہ عروہ ابن زبیر کی دیکھ نہ کر سکیں تو وہ ایک اہم تاریخی مقام کے دیدار سے محروم رہیں گے۔ یہ قلعہ اسلام کی فاتحانہ شان وشوکت کی اولین یادگار ہونے کے ساتھ ساتھ بیتے دنوں میں مسلمانوں کی فتوحات کا بھی گواہ ہے۔

اسلامی تہذیب ثقافت اور تمدن کو اگر مجسم شکل میں پیش کرنا ہو قلعہ عروہ ابن زبیر اس عظیم الشان عمارت کی پہلی اینٹ قرار دی جا سکتی ہے۔ تیرہ سو برس قبل تعمیر ہونے والا یہ قلعہ مدینہ منورہ کی بطور اسلامی ریاست کے درالحکومت کی یاد دلاتا ہے۔

العربیہ نیوز چینل نے 'من الحرمین الشریفین' کے عنوان سے رمضان المبارک کی خصوصی رپورٹ سیریز کی حالیہ قسط میں اس قلعہ کی تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالی ہے۔ خمیس الزھرانی کی رپورٹ کے مطابق عروہ ابن زبیر ہمیشہ یاد رکھی جانے والی شخصیت ہیں۔ عروہ خود تابعی تھے۔ خلیفہ اسلام حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ان کے نانا ہیں اور ان کے والد زبیر بن العوام کا شمار عشرہ مبشرہ میں شامل خوش قسمتوں میں ہوتا ہے۔ وہ غزوہ احد میں شریک ہوئے۔ ان کا شمار مدینہ منورہ کے چار مشاہیر فقہاء میں ہوتا تھا۔

عروہ ابن زبیر نہایت متقی اور پرہیز گار شخصیت تھے۔ نماز میں ان کا استغراق مشہور ہے۔ نماز میں ایسے محو ہوتے کہ دنیا و مافیھا کی خبر نہ رہتی۔ عروہ نے مدینۃ الرسول کے مغرب میں مکان بنایا۔ ان کا آشیانہ دور دراز سے آنے والےحجاج و معتمرین کے لیے 'میقات' کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ تھکے ہارے مسافر ان کے مہمان بنتے، گھر کے سائے سے فائدہ اٹھاتے اور ٹھنڈا پانی پیتے۔

حضرت عروہ کے دنیا سے رحلت کر جانے کے بعد ان کے مستقر کو ایک قلعہ میں تبدیل کیا گیا۔ مدینہ منورہ میں یہ اس دور کے مسلمانون کے فن تعمیر کا عمدہ شاہکار ہے۔ حال ہی میں سعودی محکمہ آثار قدیمہ نے قلعے کے کھنڈرات کا ازسر نو جائزہ لیا اور یہ تسلیم کیا ہے کہ قلعہ عروہ ابن زبیر نہ صرف قرون اولیٰ کے مسلمان فن تعمیر کا عمدہ نمونہ ہے بلکہ یہ مسلمانوں کی ابتدائی شان شوکت اور غلبہ اسلام کا چشم دید گواہ بھی ہے۔