.

"بیٹے کی جگہ مجھے پھانسی دے دیں"

ایران کے سنی کرد عالم دین کی معمر اور معذور والدہ کی دردمندانہ اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں موت کی سزا پر عمل درآمد کے منتظر نوجوان سنی کرد عالم دین شہرام امیری کی والدہ نے ایک کھلے خط میں اپنے بیٹے کی جان بخشسی کی اپیل کرتے ہوئے پیشکش کی ہے کہ 'وہ بیٹے کی جگہ پھانسی چڑھنے کو تیار ہیں۔'

شہرام امیری کی معمر والدہ قدم خیر فرامرزی نے ایرانی حکام سے اپیل کی ہے کہ اس کے بیٹے کی جان بخشی کے بدلے اسے پھانسی دے دی جائے اور بخوشی یہ سزا قبول کرنے کو تیار ہیں۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ نے شہرام امیری کو ایران کی انقلاب عدالت کی جانب سے سنائی جانے والی سزا سے متعلق تفصیلی رپورٹ میں بتایا تھا کہ حکام نے کرد سنی عالم دین کو تہران کے شمال مغرب میں رجائی شہر جیل کی کال کوٹھڑی میں منتقل کر دیا ہے، جو اس بات کا اعلان ہے کہ انہیں کسی بھی لمحے تختہ دار پر لٹکا دیا جائے گا۔

ایران میں سیاسی اور سول قیدیوں کی ڈیفینس کمیٹی مہم نے کرد سنی عالم دین کی والدہ کی کھلی اپیل نشر کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ان کا چھوٹا بیٹا بہرام احمدی بھی سرکار کی سنائی گئی سزائے موت کی بھینٹ چڑھ گیا، اس لئے میں آج دنیا کے سامنے اپنے بڑے بیٹے کی جان بخشی کے لئے ہاتھ پھیلا رہی ہوں تاکہ میرے بڑے بیٹے کی زندگی بچائی جا سکے۔

شہرام کے خاندان نے ماضی میں کئی مرتبہ اپیل کی کہ ان کا مقدمہ کھلی عدالت میں انصاف کے اصولوں کے مطابق سنا جائے اور انہیں اپنا دفاع کرنے کے لئے آزاد وکیل کرنے کی اجازت دی جائے کیونکہ 'انقلاب عدالت' اپنے فیصلے بند کمرے میں کرتی ہے جہاں ملزموں کو وکیل سے بات تک کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔

ہماری کوئی نہیں سنتا کیونکہ ہم 'سنی' ہیں

شہرام کی والدہ نے اپنے تحریری پیغام میں کہا ہے "کہ وہ میرے بیٹے کو قتل کرنا چاہتے ہیں جس نے ابھی عمر کی تیس بہاریں بھی نہیں دیکھیں۔ اس کم عمری میں بھی اس نے سات برس جیل کی سلاخوں کے بیچھے گزارے ہیں، جن میں زیادہ وقت قید تنہائی میں گزرا۔ اب اس پر مسجد میں دینی سرگرمیاں دکھانے کی پاداش میں موت کی سزا مسلط کی گئی ہے۔ میں معذور ماں کیا کر سکتی ہوں، اس سے پہلے شہرام کا چھوٹا بھائی بھرام بھی فنا کے گھاٹ اتار دیا گیا۔"

انہوں نے سوال کیا "ایک ماں آخر کب یہ سب کچھ برداشت کر سکتی ہے، میں اللہ سے دن رات یہی دعا مانگتی ہوں کہ وہ مجھے جلد موت دے دے کیونکہ ہم سنیوں کی آواز پر کان دھرنے والا کوئی نہیں ہے۔"

انہوں نے حکام کو حضرت حسین بن علی بن ابی طالب کا واسطہ دیتے ہوئے کہا "کہ میرے بیٹے کو چھوڑ دو، میں معذور شہرام سے ملنے تہران نہیں جا سکتی، اس لئے مجھے ہی اس کی جگہ فنا کے گھاٹ اتار دو تاکہ تمھیں سکون آ جائے۔ میرے لئے اس زندگی سے موت اچھی ہے۔"

یاد رہے کہ شہرام کی والدہ اپنے بیٹے سے ملاقات کے بعد تہران سے واپسی پر ایک سڑک حادثے میں زخمی ہونے کی وجہ سے معذور ہو گئی تھیں۔

ایرانی حکام نے شہرام احمدی کے چھوٹے بھائی بہرام احمدی کو 2001ء میں سزائے موت دی تھی۔ اسے 1999ء میں اس وقت گرفتار کیا گیا جب اس کی عمر 18 برس بھی نہیں تھی۔ تہران کے قریبی شہر کرج کی ایک جیل میں بہرام کو پانچ دیگر افراد سمیت پھانسی دی گئی تھی۔